یہ مفلوج عدالتی نظام!!

24

ہر چیز کرایہ پر مل جاتی ہے بہرحال انسان کرائے پر نہیں ملتے لیکن نواز شریف کو تو 1500ریال کرائے پر داماد مل گیا۔ وہ بڑے فخر سے ایک جلسے میں کہہ رہا تھا کہ ’’مریم کو فخر ہونا چاہیے کہ وہ حضرت علی کے خاندان میں بیاہی گئی ہے‘‘ اور کس کے مشن پر چل رہی ہے وہ بھی بتایا تھا۔ اپنے کالے کرتوتوں کی سزا کو بھگت رہی ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ ’’اس پر بڑا ظلم ہورہا ہے‘‘۔
صفدر صاحب آپ کا تعلق حضرت علی کے خاندان سے ہے یعنی اہل بیت خاندان رسول سے تعلق ہے تو آپ یہ بتائیں آپ نے اپنے اکلوتے فرزند ارجمند کی شادی ایام سوگ میں کی جبکہ رسول کا تمام گھرانہ میدان کربلا میں بے گوروکفن تپتی سرزمین کربلا پر پڑا ہے۔ جاتی امراء میں ڈھولکی رکھی گئی۔ مہندی مائیوں کی رسم بھی بڑے دھوم دھڑکے سے ہوئی بھنگڑا ڈالا گیا اور آپ اپنا کس خانوادے سے تعلق بتاتے ہیں۔ کوئی بھی رسول کو ماننے والا ان دو ماہ یعنی محرم اور چہلم میں شادیانے نہیں بجائے گا۔ آپ ناچیں گائیں کوئی منع نہیں کرے گا آپ کو،لیکن خدارا اپنا تعلق اہلِ بیت سے تو نہ جوڑیں! اگر تم لندن نہیں جا سکتی تھیں کیونکہ تمہیں اپنے کارناموں کا جوابدہ ہونا ہے تو بیٹا اور بہو کو یہاں بلوا کر شادی کر سکتی تھیں۔ ویسے دو چار کے علاوہ سارا چور ٹبر لندن میں موجود تھا۔ نواز کاایک سمدھی ڈار اشتہاری اور دوسرا سمدھی(مریم نواز) بھی اشتہاری ہے۔ اللہ نے کیا جوڑیاں بنائی ہیں۔ سب چور ڈاکو ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ جنید صفدر کے نانا حضور نے عوام کی لوٹی ہوئی دولت بڑی دریا دلی سے بہائی اور عوام کو اس دعوت ِولیمہ میں مدھو نہیں کیا؟ سنا ہے اک ارب سے اوپر خرچ آیا ہے اس پر کوئی واہ واہ نہیں ہوئی چونکہ سب کو پتہ ہے کہ یہ عوام کی دولت ہے۔ یہ بے غیرت لوگ دنیا کی نظروں میں تمسخر کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن پیشانی پر کہیں بھی عرق ندامت نہیں۔اندر شادی ہورہی ہے باہر نعرے لگ رہے ہیں ۔’’گلی گلی میں شور ہے ،سارا ٹَبر چور ہے ‘‘ولیمے کے دوسرے دن سنا ہے جنید صفدر سامان کی ایک فہرست لایا ہے جس میں کچھ چمچیاں، پلیٹیں، دریاں، شامیانے، قناطوں کے چوری ہونے کی اطلاع درج ہے۔ جنید کہہ رہا ہے کہ ’’نانا جی! سب آپ پر شک کررہے ہیں۔‘‘
’’مہران ٹائون میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی‘‘ یہ فیکٹری غیر قا نونی طور پر رہائشی علاقے میں بنائی گئی تھی۔ قانون تو بہت ہیں لیکن وہ سب کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔ عمل درآمد نہیں ہوتا۔ بلدیہ کے علاقے میں لگی آگ کو تو سال گزر چکے ہیں اس میں ڈھائی سو کے قریب جانیں جل کر فنا ہو گئیں جن کی شناخت بھی نہ ہو سکی۔ سارے قوانین اور ضوابط جو فیکٹریوں کی تعمیر میں لاگو ہیں ان پر کوئی بھی عمل پیرا نہیں ہوتا۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے تحفظ کے کوئی انتظامات نہیں کئے جاتے۔ رہائشی علاقوں میں فیکٹریوں کی تعمیر غیر قانونی ہے۔ اس طرح کے واقعات پیش آنے پر مالکان کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے لیکن چند دنوں بعد دے دلا کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ بیچارے مزدور کیڑے مکوڑوں کی طرح جل کر بھسم ہو جاتے ہیں ناقابل شناخت لاشیں، خستہ تن ورثاء کے حوالے کر دی جاتی ہیں۔ لواحقین کو سوائے صبر کرنے کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔
رہائشی علاقوں میں ان فیکٹریوں کا وجود غیر قانونی ہے تو یہ کس طرح تعمیر کی جاتی ہیں؟ عین قانون کی ناک کے نیچے ان کی تعمیر کی جاتی ہے۔ بھلا ہو رشوت، کرپشن،بھتہ خوری کا جو اوپر تک پہنچا دیاجاتا ہے۔ ٹھاٹھ سے کاروبار شروع ہو جاتاہے۔
بلدیہ میں لگی آگ کے بعد یہ چوتھا واقعہ ہے۔ شروع میں آگ اتنی تیزی سے نہیں پھیلی تھی فائر بریگیڈ کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ فائر بریگیڈ کے افسر کا کہنا ہے کہ یہاں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔ تنگ گلیاں ہیں جس کی وجہ سے آگ بجھانے والی گاڑیاں اور اسنارکل کو اندر نہ لے جایا جا سکا۔ دو گلی چھوڑ کر گاڑیاں پارک کی گئیں۔ انسارکل کو اندر لے جانے میں مشکل تھی چونکہ وہ بجلی کے تاروں سے ٹکرا رہی تھیں۔ دوسرے فیکٹری میں (Exit)کا دروازہ نہیں تھا صرف ایک ہی راستہ تھا۔ فیکٹری مالکان انتظامیہ یا حکومت پر کس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس فیکٹری کی تعمیر جس وقت ہورہی تھی اس وقت نوٹس کیوں نہیں لیا گیا۔ کس کی اجازت سے اس کی تعمیر رہائشی علاقے میں ہوئی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں سو رہے تھے؟ بلدیہ میں لگنے والی آگ سے کوئی سبق نہیں لیا گیا اس کے بعد چار فیکٹریوں میں لگنے والی آگ کے واقعات ہوئے کچھ نہ ہوا۔ دو چار دن واویلا ہوا۔ مرنے والوں کے لواحقین کی فریادیں میڈیا پر سنائی دیں۔ سندھ حکومت حسب معمول نوٹس لیتی رہی۔ مقدمات درج ہوئے مرنے والوں کی تعداد بتائی جاتی رہی۔ پھر رفتہ رفتہ میڈیا بھی خاموش ہو گیا۔ لواحقین کی فریادیں معدوم ہو گئیں۔ آج کی آتشزدگی میں بھی 17جانیں تلف ہو گئیں۔ کتنے گھروں کے واحد کفیل بھی گئے۔ ایک گھر میں خاندان کے چار بھائی ختم ہو گئے۔ مالکان دل پر پتھر رکھ کر کچھ دے دلا کر لوگوں کو خاموش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیا جن کے دل کے ٹکڑے ان سے جدا ہو گئے اس دکھ کا کوئی مداوا ہو سکے گا؟ کیا ذمہ داران کو سزاہو گی؟ قانون حرکت میں آئے گا۔ معاوضہ دینے سے ان کی اشک شوئی ہو سکے گی۔ بلڈر چھوٹے پلاٹوں پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اجازت جتنی منزلوں کی لیتے ہیں اس سے زیادہ بلند عمارت کھڑی کر لیتے ہیں جیسے کچھ عرصے پہلے گلبہار میں چار منزل کی اجازت تھی چھ منزلیں بنا لیں اور عمارت گری تو اس تنگ گلیوں میں ملبے میں دبی لاشوں کو نکالنا مشکل ہو گیا۔ برسوں ملبہ پڑا رہا۔ کیا یہ نظام یونہی چلتا رہے گا اس طرح جانوں کا زیاں اور غریبوں کی زندگی بھر جمع پونچی یونہی ضائع ہوتی رہے گی؟ قانون کب تک فالج زدہ رہے گا؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.