انوکھی روش

312

اس دور میں سیاسیات ایک سائنس ہے اس کی اپنی MECHANICSہیں جس کا تعلق فرد کی بہبود سے ہے فرد کی بہبود کا مطلب یہ ہے کہ فرد جس معاشرے میں رہتا بستا ہے اس کی مادی نشو ونما کی جائے، اس کو معاش، تعلیم، صحت اور سماجی آزادی کے یکساں مواقع حاصل ہوں، یہ کام ملکی وسائل کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ترقی دے کر کیا جاتا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال جتنا زیادہ ہو گا ملک مادی طور پر اتنا ہی خوشحال ہوتا چلا جائیگا ، ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال جتنا زیادہ ہو گا اتنا ہی اس ملک کی آبادی کا ذہن رفتہ رفتہ سائنسی ہوتا چلا جاتا ہے، سڑکیں، پل، ڈیم، انڈسٹری کا فروغ انسانی ذہن پر جادو کرتا ہے، ہر آن ایک نئی جدت اور ندرت دیکھنے کو ملتی ہے، زندگی آسان مگر تیز ہوتی چلی جاتی ہے، ایک جدید روشن خیال معاشرہ سائنسی بنیادوں پر استوار ہوتا چلاجاتا ہے، فرد کی سطح پر یہ ترقی جستجو اور تحقیق کو مہمیز دیتی ہے اور وہ قدامت پسندی اور رجعت پرستی چھوڑ کر ایک نئے انداز میں سوچنا شروع کر تا ہے، مغرب کو اس سیاسی تہذیب نے بدل کر رکھ دیا، سماجیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی سماجی آزادی اس رجحان کو تقویت دیتی ہے،کیونکہ اسے کسی بھی خیال کو اپنانے کی آزادی ہوتی ہے اور وہ سماجی دبائو سے آزاد ہوتا چلا جاتا ہے، ایسے معاشرے میں سائنس دان، دانشور، سیاست دان اور بہترین پروفیشنل پیدا ہوتے ہیں، جو معاشرہ سماجی دبائو سے جتنا آزاد ہو گا وہ اتنا ہی ترقی پذیر ہو گا، افراد کے درمیان تنائو کم ہو گا اور وہ اپنے مستقبل کی بہتر انداز میں پلاننگ کر سکتے ہیں، اسی ماحول میں ایک جدید تعلیمی نظام وضع ہو جاتا ہے جو HUMAN MIND DEVELOPEMENTکی منصوبہ بندی کرتا ہے جو اس ملک کی مادی ضرورت طے کرتی ہے، یہ ترقی ہی BRAIN TRADEکا باعث بنتی ہے اور انتقال علم کی راہ استوار ہوتی ہے، مختلف علوم کے ماہرین بلائے بھی جاتے ہیں اور ان کی خدمات دیگر ممالک کو بھی دی جاتی ہیں، معاشرے کی ایسی تشکیل سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن ہی نہیں، ان سے محروم معاشرے مادی طور پر کمزور ہوتے ہیں اور مضبوط اور طاقتور ممالک ان کو آسانی سے اپنا سیاسی ہدف بنا لیتے ہیں، ایشیاء اور افریقہ کے کئی ممالک اس صورت حال سے دو چار ہیں جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔
پاکستان میں بالغ سیاسی قیادت پیدا ہی نہ ہو سکی جس کو ملکی مسائل کا ادراک ہوتا ان کی معاشیات، سماجیات، بین الاقوامی تعلقات اور معاشرتی حقائق پر نظر ہوتی اور ان کو یہ بھی معلوم ہوتا کہ پاکستان کے انسانی وسائل کو سائنس اور ٹیکنالوجی سے کس طرح ہم آہنگ کرتا ہے،ابتدائی سالوں میں سیاسی طاقت کا حصول ہی مقصد رہا، پہلے مارشل لا کے بعد دس سالوں میں ملک نے اتنا POTENTIALظاہر کیا کہ عالمی طاقتیں ڈر گئیں کہ پاکستان اگر اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا تو اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، بھٹو کو اس ترقی کو روکنے، معیشت برباد کرنے اور ملک کو دو لخت کرنے کے لئے چنا گیا، اور اس نے اپنی ذہانت سے یہ سارے کام کر دکھائے، اس کی ذہانت سے بھی خائف تھا سو اس کا JUDICIAL MURDERکرایا گیا، ملک کے دولخت ہونے کے بعد وہ ترقی اور طاقت کے خواب دیکھنے لگا تھا، اس کے قتل کے بعد ملک پر انتہا پسندی مسلط کر دی گئی، جو اب بھی باقی ہے، جس نے ملک کو بھوک، افلاس، بیماری اور جہالت میں دھکیل دیا ہے، 1079کے بعد
باقی صفحہ 7بقیہ نمبرسے اب تک دینی حلقوں نے جس طرح مذہب کو برباد کیا اس نے علماء کا حقیقی چہرہ دکھا دیا اب کے فوج کا طریقہ واردات کچھ اور تھا انہوں نے دونوں بڑی جماعتوں کو برباد کر کے ملک کے باہر سے وہ لوگ امپورٹ کئے جو مذہبی بیانیے کو جاری رکھ سکتے تھے، عمران کا انتخاب بھی اسی نظر سے کیا گیا، جو لوگ امپورٹ ہوئے ان کو وزیر، مشیر، گورنر بنا دیا گیا، جو معاشی ٹیم بنی وہ باہر کے ہی گماشتے تھے ان تما م لوگوں کے آنے سے تاثر یہ بنا کہ ان لوگوں نے مغرب سے پڑھا ہے مغرب میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں یہ لوگ ملک کی تقدیر بدل دینگے، معاشرہ جدید اور روشن خیال ہو جائے گا، سماجی آزادی مل جائے گی، مگر عمران کی پاکپٹن کی یاترا کچھ اور ہی کہانی کہہ رہی تھی، اس کی شلوار، اس کی تسبیح بتارہی تھی کہ وہ رجعت پرستی کاامین ہے، جیسے ہی دونوں سیاسی جماعتوں کو کمزور کر دیا گیا اس نے پر پھیلانے شروع کر دئیے ہیں، گورنر پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب کی تمام جامعات میں قرآن کا ترجمہ پڑھایا جائیگا اور اس کا اطلاق تمام جامعات کے تمام شعبوں پر ہو گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ طلباء کو ملکی ضرورت کے خلاف ایک خاص ذہن دیا جانا ہے جو دینی حلقوں کے بیانئے کے مطابق ہو، اور ملک کو ایک THEOLOGICAL STATEبنا دیا جائے اور روشن خیال طبقہ ملک سے ختم کر دیا جائے، اس کام کے لئے کئی برس سے میڈیا پر CLEAN SHAVENمولوی بٹھا دئیے گئے تھے جو ’’فقیر کہے‘‘ کی طرز پر وہی فرسودہ بیانیہ عوام کے ذہنوں میں ٹھونس رہے ہیں، جو قدامت پسند مولوی کا ہے، فرق اتنا ہے کہ یہ کلین شیو مولوی انگریزی بھی بولتے ہیں، یہ ایسے ہی ہے کہ ڈاکو سوٹ پہن کر ڈاکہ ماریں۔
ساری دنیا میں جامعات علمی تحقیق کا ذریعہ ہوتی ہیں جن کا سائنس سے تعلق ہوتا ہے مگر شعبدہ بازوں نے یہ کام گورنر چودھری سرور سے کرایا جس کی ساری زندگی لندن میں گزری ہے اور وہ اچھی طرح واقف ہے کہ پاکستان کی سماجی ضروریات کیا ہیں، مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ فوج کے یہ IMPROTEDیا تو کسی خاص مشن پر آئے ہیں یا پھر یہ استعماری طاقتوں کے گماشتے ہیں، جو دانستہ ملک کو پتھر کے دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اس تحریک کا مقصد ملک کو ترقی سے روکنا ہے اور نوجوان نسل کو دین کا جھانسہ دے کر جہل کے اندھیروں میں دھکیلنا ہے تاکہ کئی عشروں تک کوئی ان کو چیلنج نہ کر سکے اور نہ ہی مادی ترقی کا مطالبہ ہو۔
قرآن کا ترجمہ پڑھ کر اگر کسی مسلم ملک نے کوئی ترقی کر لی ہوتی تو اس کی مثال قائم ہو سکتی تھی، مگر مشکل تو یہ ہے کہ جہاں جہاں اسلام کا غلغلہ رہا وہ ممالک پستی کی انتہا کو پہنچ گئے، ترکی کی مثال بھی نہیں دی جا سکتی اس کی ترقی بھی اس REGIMEکی بدولت ہوئی جو روشن خیال تھا اردگان کو تو ترکی بنا بنایا ملا ہے اسلامی سوچ کی وجہ سے ترکی کی ترقی کو کتنے پر لگ گئے؟ مگر پاکستان کے ان پڑھ عوام کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ارطغرل ڈرامہ دیکھنے اور قرآن کاترجمہ پڑھنے سے پاکستان پر خدا کی رحمتیں نازل ہونگی اور ان کا گھر بغیر کام کئے رزق سے بھر جائے گا، ایسا لگتا ہے کہ عالمی طاقتوں کی جانب سے فوج کو اشارہ مل چکا ہے کہ ان کے دن گنے جا چکے ہیں اور اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں کہ ملک کو ایک THEOLOGIST STATEبنا دے، اور دینی حلقوں کے جبر کے ساتھ جب چاہے حکومت کرتی رہے، عمران کی شکل میں ملک پر ایک عفریت مسلط کر دی گئی ہے، ملک میں سیاسی قوتوں کو ختم کر کے، سول سوسائٹی کو مفلوج کر کے، میڈیا پر قدغن لگا کر، این جی اوز کو محدود کر کے ملک میں اسلام اور قرآن کے نام پر گھنائونا کھیل کھیلا جارہا ہے، اور یہ ملک کے خلاف سب سے بڑی سازش ہے جس کا پروجیکشن فوج نے ہی کیا ہوگا۔
واصف حسین