!یہ ہٹ دھرمی لاعلاج ہے!!

267

شاید قارئین کو یاد ہو کہ ہم نے گذشتہ ہفتے کے کالم کا اختتام اس جملے پر کیا تھا کہ ممکن ہے کہ اس سے پہلے آپ یہ سطور پڑھیں طالبان کابل میں وارد ہوچکے ہوں اور اپنی فتح کا پرچم لہرادیا ہو۔ہم نے وہ سطور 14 اگست کو تحریر کی تھیں اورخدا کا کرنا یہ ہوا کہ ہماری پیشن گوئی درست ثابت ہوئی اور طالبان 15 اگست کو اپنی جیت کا پرچم لہراتے ہوئے کابل میں داخل ہوگئے اور وہ سامراجی پٹھو، نام نہاد اشرف غنی جو پچھلے سات برس سے افغانستان کا صدر بنا ہوا بیٹھا تھا لیکن تھاسامراج کا کارندہ، وہ طالبان کے کابل میں وارد ہونے سے پہلے ہی اپنے حواریوں کے ساتھ ڈالروںسے بھرے ہوئے صندوق کے صندوق لیکر فرار ہوگیا۔
طالبان کی برق رفتار فتح نے دنیا بھر کو حیران کردیا ہے لیکن سامراجی مغرب کو حیرانی کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی بہت ہے اور پریشانی کا سبب یہ ہے کہ جن طالبان کو مٹادینے اور نیست و نابودکردینے کا عزم لیکر طالع آزما امریکی سامراج کی قیادت میں مغربی ملکوں نے مل کر افغانستان پربیس برس پہلے یلغار کی تھی آج وہی طالبان نہ صرف زندہ سلامت ہیں بلکہ بیس برس کے مقابلے میںکہیں زیادہ طاقتور ہیں اور وہ سامراج جس کا خیال یہ تھا کہ اس کی افواجِ قاہرہ اور جدید ترین اسلحہ اور ساز و سامان کے سامنے طالبان دنوں یا زیادہ سے زیادہ ہفتوں میں ڈھیر ہوجائینگے اور مغربی آندھی کے سامنے ریت کی طرح بکھر جائینگے وہ اب کھسیانی بلیوں کی طرح اپنی خفت اور شرمندگی چھپانے کو طرح طرح کی تاویلیں پیش کررہا ہے۔
امریکی اور حلیف یوروپی سامراج کی شرمندگی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں چند تو ایسی حقیقتیںہیں جن کا بیان ہی ایسا ہے کہ سامراج میں اگر شرم و غیرت ہو، جو کہ نام کو بھی نہیں ہے، تو چلوبھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ افغانستان کی بیس سالہ جنگ امریکی سامراج کی تاریخ کی طویل ترین جنگ تھی اور سامراجی ذہن کی اپنی ایجاد تھی۔ افغانستان کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنی سرزمین پر اسامہ بن لادن کو پناہ دی ہوئی تھی جس کی پاداش میں اسے امریکی جارحیت کا سامنا کرناپڑا کیونکہ اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو اپنی طاقت کا بہت بیجا گھمڈ تھا اور وہ افغانستان سے انتقام لیکر دنیا کو بتادینا چاہتے تھے کہ امریکہ سے سرتابی کی کیا سزا ہوتی ہے۔
بیس برس میں امریکہ نے 2.2 کھرب ڈالر افغانستان کی جنگ میں جھونکے۔ عام زبان میں یوں کہنا
سہل ہوگا کہ گویا ہر روز، بیس برس تک، امریکہ نے افغانستان میں تین سو ملین ڈالر خرچ کئے۔ ان میں سے سب سے زیادہ مال تو ان امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں اور کارپوریشنوں نے بنایا جن کاکاروبار ہی جنگ سے چلتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ہمیشہ جنگ و جدال میں مصروف رہتا ہے تاکہ اسلحہ ساز کمپنیوں کا شیطانی کاروبار چلتا رہے اور وہ امریکی عوام کے بینک ڈالروں سے اپنے شیئر ہولڈرزکو سال کے آخر میں زیادہ سے زیادہ منافع ادا کرسکیں۔ اسی لئے تو آنجہانی صدر آئزن ہاور نے، جو خود زندگی بھر فوج میں رہے تھے اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپ میں اتحادیوں کے سپریم کمانڈر تھے، اپنی آٹھ سالہ مدتِ صدارت چھوڑنے سے پہلے امریکی قوم کو خبردار کیا تھا کہ ملٹری انڈسٹریل کمپلکس سے ہشیار رہیں تاکہ امریکہ بھی سلامت رہے اور امریکی عوام بھی۔ لیکن صد حیف کہ آئزن ہاور کے بعد آنے والے صدور نے ان کی نصیحت پر کان نہیں دھرے جس کا نتیجہ سامنے ہے اور خمیازہ امریکی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
امریکہ دنیا کی سب سے مضبوط عسکری طاقت ہونے کے باوجود افغانستان میں ان طالبان کو جنہیںپتھر کے دور کے انسان کہہ کر مغربی ذرائع ابلاغ ان کا مذاق اڑاتے تھے اور اپنی طاغوتی کارروائیوںکیلئے جواز فراہم کرتے تھے کیوں زیر نہیں کرسکا؟ اس سوال کا جواب تو ابھی کچھ عرصے پہلیایک مغربی تجزیہ نگار نے بہت خوب دیا تھا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ ہمارے، یعنی مغربی طاقتوں کے فوجی تو تنخواہ اور مراعات کیلئے لڑتے ہیں لیکن طالبان اس یقین کے سہارے لڑتے ہیں کہ اگر جنگ
جیت گئے تو غازی اور ہلاک ہوگئے تو شہید ہونگے۔ تو دراصل یہ مقابلہ طاغوت اور ایمان و یقین کاتھا۔ طالبان کے پاس جدید اسلحہ اور ساز و سامان نہیں تھا لیکن جذبہ تھا کہ وہ حق پر تھے اور اپنے وطن اور اپنی سرزمین کو غیر ملکی حملہ آوروں کے تسلط سے آزاد کروانا چاہتے تھے۔
ہمیں یاد ہے کہ نائن الیون کے حادثہ کے بعد جب صدر بش نے اس وقت کی طالبان حکومت کو الٹی
میٹم دیا تھا ان کی بات ماننے کیلئے اور انکار کی صورت میں یہ دھمکی دی تھی کہ اگر ہمارا فرمان نہ مانا تو تم پر زمین تنگ کردی جائے گی۔ ایسی ہی دھمکی اس وقت کے پاکستانی طالع آزما پرویز
مشرف کو بھی دی گئی تھی کہ اگر تم نے ہماری من مانی کرنے سے انکار کیا تو ہم تمہیں پتھر کے
دور میں واپس بھیج دینگے۔ مشرف ریا کار اور عیش طلب تھا لہٰذا امریکہ کی گیدڑ بھبھکیوں میں آگیا
اور پاکستان کے ہوائی اڈے امریکہ کے حوالے کردئیے کہ جو جی چاہے کریں اور یاد رہے کہ امریکہ
نے پاکستان کے ہوائی اڈوں کو پاکستان کی سرزمین پر بیگناہوں کے خلاف ڈرون حملوں کیلئے بے
محابا نہ استعمال کیا۔ لیکن طالبان کے اس وقت کے رہنما، ملا عمر کا جواب بش کو یہ تھا کہ زمین اللہ کی
ہے اور وہ مالک اپنی کتابِ مبین میں ارشاد فرمارہا ہے کہ اللہ کی زمین اس کے بندوں کیلئے کبھی تنگ
نہیں ہوتی۔
طالبان نے اپنی ہمت، حوصلے اور یقین و اعتماد کے سہارے امریکہ کو وہ عبرتناک شکست دی ہے
جس نے 46 برس پہلے کی اس شکست کی یاد تازہ کردی جو امریکی سامراج کو ویتنام کے غیور
بہادروں کے ہاتھوں اٹھانی پڑی تھی اور تاریخ نے اپنے آپ کو کیا دہرایا ہے کہ امریکی من و عن اسی
طرح کابل سے فرار ہوئے ہیں جیسے ویتنام میں سائیگون سے بھاگے تھے۔
لیکن سامراج کا مسئلہ بھی وہی ہے جو صحرا کے اونٹ کا ہوتا ہے۔ اس کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں
ہے۔ سو امریکہ بہادر نے جس طرح ویتنام کی شکستِ فاش سے کوئی سبق نہیں لیا، کوئی عبرت
حاصل نہیں کی، بالکل اسی طرح افغانستان کی شرمناک شکست سے بھی یہ امید نہیں کی جاسکتی
کہ طاقت کے نشہ میں چور جرنیل یا سیاستدان کوئی سبق لینگے۔ سبق لینا تو کجا وہ تو یہ ماننے کو
ہی تیار نہیں کہ یہ عبرتناک شکست امریکہ کی اپنی غلطیوں کے سبب ہوئی ہے۔ اس کے بجائے فوری
طور پر اس مہم کا آغاز ہوگیا ہے کہ اپنی غلطیوں کا ملبہ دوسروں کے دروازے پر ڈھیر کردیا جائے۔
اس الزام تراشی کے شرمناک کھیل کی ابتدا تو خود امریکی صدر بائیڈن نے کی ہے سارا الزام بھگوڑے
اشرف غنی کے کھاتے میں ڈال کر۔ ٹھیک ہے وہ بزدل تھا، ملت فروش تھا اسلئے چوروں کی طرح مال
سمیٹ کر فرار ہوگیا اور گیا بھی کہاں، وہیں دبئی جہاں کے بینکوں میں اس کے اور اس کے بیٹوں کے
کڑوڑہا ڈالر جمع ہیں۔ دوسرا الزام شکست کا اس بزدل افغان فوجِ قاہرہ پر ہے جس کی تربیت امریکہ
نے کی تھی۔ تین لاکھ سپاہیوں پر مشتمل تھی افغان فوج جس پر امریکہ کے نقیبوں کے بقول اربوں
ڈالر خرچ کئے گئے تھے اور جس کے متعلق یہ پروپیگنڈا تھا کہ ایسی مضبوط افغان فوج بنائی گئی
ہے جو طالبان کے دانت کھٹے کردیگی لیکن ہوا کیا کہ وہ مضبوط فوج تو طالبان کے قدموں کی آہٹ
سنتے ہی پانی میں بھیگے بتاشے کی طرح بیٹھ گئی۔ خود امریکی افواج اتنا ساز و سامان اپنے پیچھے
چھوڑ کر فرار ہوئی ہیں کہ طالبان کے تو وارے نیارے ہوگئے۔ کسی امریکی تبصرہ نگار نے کیا خوب
کہا کہ یوں لگتا ہے جیسے طالبان نے بیس برس کے ٹھیکے پر اپنا ملک امریکہ کے حوالے کیا ہوا
ہے کہ وہ اسے کیل کانٹے سے لیس کرے اور پھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے ان کے وطن سے نکل
جائے۔
لیکن امریکہ کی شرمناک پسپائی کے بعد جو مناظر چشمِ فلک نے کابل ایر پورٹ پر اور اس کے گرد و
نواح میں دیکھے ہیں وہ لرزہ خیز ہونے کے ساتھ ساتھ عبرتناک بھی ہیں اور سب سے بڑی عبرت یہ
ہے کہ جو افراد بھی اپنوں کے بجائے غیروں پہ تکیہ کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار اور رسوا ہوتے ہیں۔
طالبان نے اپنی حکومت قائم کرتے ہی ملک میں عام معافی کا اعلان کردیا تھا لیکن وہ جو ملت فروش
ہیں وہ اپنے آقاؤں کی گود میں بیٹھنا چاہتے ہیں چاہے کتنی ہی ذلت اور خواری کیوں نہ ہو۔ اور پھر وہ
زہر بھی تو اپنا اثر دکھا رہا ہے جو بیس برس تک طالبان کے خلاف افغان عوام کے ذہنوں میں بھرا گیا
ہے۔ طالبان کیلئے بھی یہ بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ افغان عوام کو کیسے یہ یقین دلاتے ہیں اور ان میں
کیسے یہ اعتماد پیدا کرتے ہیں کہ وہ بدل گئے ہیں اور اب وہ بیس برس پہلے والے طالبان نہیں ہیں۔
طالبان کو اپنے عوام کو اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اب اس جدید ذہن کے مالک ہیں جو
معاشرہ میں عورت کے مقام کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور عورت کا احترام کرتا ہے اور عورتوں کی
تعلیم کے ضمن میں کھلا ذہن رکھتا ہے۔ طالبان اگر واقعی وہ شرعی نظام نافذکرنا چاہتے ہیں جو قرآن
اور رسولِ اکرم کی تعلیمات کے مطابق ہے تو اسمیں عورت کو معاشرے میں ہر جگہ مرد کے شانہ
بشانہ مقام اور درجہ دیا گیا ہے۔ یہی اسلام کی روح ہے اور یہی وہ شرع ہے جو خاتم النبین کی تعلیمات
کا نچوڑ ہے۔
طالبان کے خلاف مغربی استعمار پرستوں نے ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر منفی پروپیگنڈا کا ایک
طوفان کھڑا کردیا ہے اور اس مہم میں صیہونی استعمار اور بھارتی استعمار برابر کا شریک ہے۔
بھارت کی حالت تو دیکھنے والی ہے اسلئے کہ اس نے بیس برس تک امریکی تسلط کے شکار
افغانستان کو پاکستان کے خلاف اپنی مفسدانہ اور شیطانی کارروائیوں کا سب سے بڑا اڈہ بنایا ہوا تھا۔
پاکستانی سرحد سے متصل افغان شہروں میں بھارتی قونصل خانے پاکستان دشمن کارروائیوں کیلئے
استعمال ہورہے تھے اب طالبان کی آمد سے پہلے ہی بھارتی خطرہ کی بو سونگھ کر فرار ہوچکے ہیں
لیکن چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے تو نہیں جاتا۔ لہذا بھارت کا نیوز میڈیا جو جن سنگھ اور
جنتا پارٹی کا بے دام غلام بن چکا ہے مودی سرکار کی طالبان مخالف مہم میں پوری شدت کے ساتھ
شامل ہوچکا ہے اور طالبان اور پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ پاکستان سے نفرت کا جنون مودی سرکار کو ویسے ہی پاگل کئے ہوئے تھا اب ستم بالائے ستم کہ افغانستان سے اس کے پیر اکھڑ گئے
اور پیروں تلے سے زمین سرک گئی۔ طاغوت کا حشر حق کے خلاف صف آرا ہونے میں ہمیشہ یہی
ہوتا ہے۔ اسلئے کہ قرآن میں کائنات کا پیدا کرنے والا یہ واضح اعلان کرچکا ہے کہ جب حق آتا ہے تو
باطل مٹ جاتاہے۔ اور یہ ابدی پیغام وہ کہاں بھول سکتے ہیں جن کے دل ان دنوں سید الشہدا کی عظیم
قربانی کی یاد سے چھلک رہے ہیں۔ ہاں طاغوت اور سامراج اگر اپنی ہٹ دھرمی کے ہاتھوں اپنی
آنکھوں پر پٹی باندھے رہے تو اس کا کیا علاج؟
———————————————————————————