کابل کی بدلتی صورت حال، طالبان کی مضبوط حکومت بنا پائیں گے؟

257

کابل اور افغانستان آج کل پوری دنیا کی خبروں کا محور ہے۔ دنیا کا کوئی بھی چینل کھولیں وہ افغانستان کی خبروں اور رپورٹوں سے بھرا ہو گا۔ پوری دنیا حیران پریشان کابل کی صورت حال کو بہت تشویش کی نگال سے دیکھ رہی ہے۔ مغربی دنیا کا سارا میڈیا صرف کابل ایئرپورٹ سے لوگوں کو نکالنے پر مرکوز ہے۔ امریکی طیارے سے دو آدمیوں کے گرنے کی ویڈیو نے ساری انسانیت کو شرمندی کر دیا ہے اس اکیسویں صدی میں بھی لوگ اس قدر مجبور اور خوفزدہ ہیں کہ خود موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ کیسی بے بسی ہے کیسی افسوسناک زندگی ہو گئی ہے۔ طلابان کاڈر کس قدر دل میں سما گیا ہے کہ کوئی اپنے بچوں کو چھوڑ کر بھاگ رہا ہے کوئی اپنی بیوی اور گھر والوں کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں پناہ تلاش کررہا ہے یہ دیوانگی ہے یا موت کا خوف کیسا نفسا نفسی کا عالم ہے۔ انسان خوف سے خودغرض انسان بن گیا ہے۔
آہستہ آہستہ کابل میں حالات بہتر ہوتے جارے ہیں طالبان نے افغانستان کا نیا نام اناونس کر دیا ہے ’’اسلامک امارات پاکستان‘‘ جو ظاہر کرتا ہے طالبان کے اسلامک سوچ کی اور افغانستان میں آگے کیا ہونے جارہا ے۔ طالبان کی جو شدت پسندی کی پرانی سوچ تھی یا طریقہ کار تھا اب وہ تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ طالبان نے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ عورتوں کو کام پر واپس آنے کے لئے دعوت دی ہے برقعہ کی چھوٹ ہے ۔ٹی وی کمپیئر اپنی انائونسمنٹ کو جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ڈر اور خوف کی فضا ہر جگہ قائم ہے۔ امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والوں کو سب سے زیادہ خوف ہے اور اسی خوف نے کابل ایئرپورٹ پر رش کو بڑھا دیا ہے۔
طالبان کی اعلیٰ قیادت نے آہستہ آہستہ اپنا ڈھانچہ کھڑا کرنا شروع کر دیا ہے سب سے پہلے تین رکنی شوریٰ کونسل کا اعلان کیا ہے۔ جس میں ملاغنی برادر، مولوی یعقوب اور خلیل حقانی شامل ہیں۔ حقیقت میں تین رکنی کونسل ہی سارے فیصلے کرے گی۔ ہیبت اللہ اخوانزادہ جن کو اب امیر المومنین کا ٹائٹل دیا گیا ہے پیچھے رہ کر وہ سارے فیصلوں کی منظوری دیں گے۔ دوسرے نمبر پر سب سے اہم آدمی ملاغنی برادر ہوں گے جو تقریباً ۸ سال تک پاکستانی جیل میں رہ چکے ہیں جن کو 2018ء میں مذاکرات کیلئے امریکہ کے کہنے پر رہا کیا گیا تھا۔
اب بہت تیزی سے کونسل بننے کے بعد انتظامی اعلانات ہورہے ہیں گل آغا کو وزیر خزانہ ،صدر ابراہیم وزیر داخلہ اور نجیب اللہ کو انٹیلی جنس چیف مقرر کیا گیا ہے جبکہ ملا شیریں کو گورنر کابل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بہت صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ 31اگست کی تاریخ میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی ہر حال میں امریکن فوج کو 31اگست تک کابل ایئرپورٹ خالی کرنا ہو گا ورنہ اس کی ذمہ داری طالبان کے اوپر نہیں ہو گی کہ آگے کیا ہو گا۔ تازہ ترین اعلان میں طالبان نے ہر افغانی پر افغانستان چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے امریکی فوج کو ہدایت جاری کر دی گئی ہیں وہ اب کسی افغانی کو اپنے اتھ لیکر نہیں جا سکیں گے۔ طالبان کمانڈروں نے بزور طاقت ہر افغانی کو کابل ایئرپورٹ سے ہٹا دیا ہے اور کسی کو بھی کابل ایئرپورٹ کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اب صرف امریکن فوجیوں نے افغانستان چھوڑنا ہے وہ بھی 31اگست تک۔
آئندہ آنے والا وقت طالبان اور نئی انتظامیہ کے لئے مسائل لیکر آرہا ہے۔ پنج شیر وادی میں احمد شاہ مسعود اور ان کے ساتھیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ امر اللہ صالح بھی وہیں چھپا ہوا ہے۔ طالبان نے پورے علاقہ کو گھیر لیا ہے۔ ان کے لئے سوائے سمجھوتہ کرنے کہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ امریکہ نے ساڑھے نو ارب ڈالر افغان حکومت کے منجمد کر دئیے ہیں مالی طور پر افغانستان پہلے ہی امریکی امداد پر چلتا ہے۔ سارا کیش اور ڈالرز اشرف غنی لیکر متحدہ امارات پہنچ گیا ہے۔
نئی حکومت کومالی طور پر بہت پریشانیہو گی اب ان کا سارا دارو مدار چائنہ اور روس کی مالی مدد پر ہو گا۔ دیکھتے ہیں نئی طالبان قیادت کس طرح ملک کو چلاتی ہے اور اپنے شہریوں کو خوف سے نجات دلاتی ہے۔