مکر !

299

مکر کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اپنے مکروہ ارادے ظاہر نہ کئے جائیں اور ظاہر یہ کیا جائے کہ کوئی مکروہ ارادے ہیں ہی نہیں، اور لوگ سادگی میں آپ کے ارادوں کو بھانپ نہ سکیں اور آپ مناسب وقت پر اپنا وارکر جائیں اور لوگ حواس باختہ رہ جائیں کہ ہم نے تو ایسا سوچا ہی نہ تھا، ہم دوستی میں اس صورت حال سے دو چار ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم دوست پر اعتبار کرتے ہیں اور توقع بھی کرتے ہیں کہ وہ آنکھیں پھیر لے گا اور وار کر جائیگا، پرانی کتابوں میں بھی لکھا گیا ہے کہ اعتبار باپ پر بھی نہ کرنا مگر ہم اعتبار باپ پر بھی کرتے ہیں رشتوں اور دوستی پر بھی، سوال یہ ہے کہ ہم اعتبار کیوں کرتے ہیں گو کہ سوال بہت سے رخ رکھتا ہے مگر اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ ہمیں اعتبار کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ ہماری مجبوری ہوتی ہے، ماں باپ اور رشتوں پر اعتبار اس لئے کرتے ہیں کہ ان سے امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ اعتبار توڑیں گے مگر بھائیوں میں اس اعتبار کے باوجود دھوکہ تو ملتا ہے، اس لئے کسی نے کہا کہ ’’بھاگ ان بردہ فروشوں سے ، کہاں کے بھائی‘‘ اس میں پھر بھی ایک گنجائش رکھی ہے کہ بھائی کوئی اور ہی لوگ ہیں جو بھائی کو بازار مصر میں بیچ کر نہیں آتے، بلکہ رشتے کی لاج رکھتے ہیں، دوستوں اور ہمسائے پر اعتبار پر ہماری ذرا سی لالچ چھپی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ شائد برے وقت پر کام آجائے اور کام آنے والے بھی جانتے ہیں کہ کسی کی کمزوری سے کس وقت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، سب سے زیادہ دھوکہ دین اور دینداری کے نام پر ہوتا ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دین پر دھوکہ نہیں دیا جا سکتا اور دیندار تو بہت متقی ہوتے ہیں وہ کیسے دھوکہ دے سکتے ہیں مگر جھوٹے حلف عدالتوں میں اٹھائے جاتے ہیں، قرآن پر جھوٹا حلف اٹھایا جاتا ہے اور وہ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ جھوٹا حلف اٹھانے کا فائدہ ہے نقصان کچھ نہیں مگر سادہ مزاج لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹا حلف اٹھانے والوں پر خدا کی پھٹکار ہو گی، وہ جانتے ہی نہیں کہ پھٹکار کوئی چیز نہیں ہوتی مسلم لیگ کے ایک ایم این اے پیر بنیامین پر قتل کا الزام تھا وہ بھی کمال فنکار تھا اس نے بھرے جلسے میں قرآن پر حلف اٹھایا کہ اس نے قتل نہیں کیا گو کہ حلف جھوٹا تھا مگر مقتول کے خاندان پر سماج کا اتنا دبائو تھا کہ ان کو مقدمے سے دستبردار ہونا پڑا، سیاست میں یہ جھوٹ، مکر اور ریا سب چلتا ہے۔
آج عمران نے اپنے تین سال مکمل کر لئے آج ان کی کارکردگی پر ہزاروں سوال ہیں اور ان کے جواب نہیں مل رہے، پاکستان میں یوں بھی حکومتیں کسی کو جوابدہ نہیں ہوتیں فوج ان کو لے کر آتی ہے سو یہ بات بین السطور لکھی ہوئی ہوتی ہے کہ اگر راز فاش نہ ہوئے تو کوئی ماں کا لال ان کا احتساب نہیں کر پائے گا اور آج تک کسی حکومت کا احتساب نہیں ہو سکا۔ نواز شریف کا احتساب اس لئے ہورہا ہے کہ انہوں نے فوج کو آنکھیں دکھائی شروع کر دی تھیں، عمران کا ہم نوا میڈیا یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ عمران ایماندار شخص ہے اور اس بکے ہوئے میڈیا کو کون سمجھا سکتا ہے کہ حکومت کو ایک مخلص فطین سیاست دان کی ضرورت ہوتی ہے، عمران پہلے پہل تو لبرلز کے کاندھے پر سوار ہو کر آئے گئے مگر جب ایمپائر کا اشارہ ملا تو وہ تمام ساتھی جو روشن خیال تھے رفتہ رفتہ منظر سے ہٹادئیے گئے، عمران کو طالبان خان تو بہت پہلے کہا گیا جو غلط بھی نہ تھا مگر عمران نے اپنے مذہبی کٹر پن کا اظہار اس وقت کر دیا تھا جب انہوں نے پاکپتن کی رانی سے جلد بازی میں شادی کی، پینٹ اتاری اور شلوار پہن لی، یہ اشارہ تھا کہ وہ بنیاد پرستی اختیار کر لیں گے یہ پہلا مکر تھا سیاست میں جھوٹ تو بولا جاتا ہے سو عمران نے بھی پیٹ بھر کر جھوٹ بولے اور وزیراعظم بننے کے بعد فوج نے ان کو ایک خالی میز پر بٹھا دیا ہے جس پر ٹیلی فون بھی نہیں ہے، وہ اس لئے کہ عمران کے اناپ شناپ بیانات فوج کے لئے مشکلات پیدا کررہے تھے نواز شریف کے ذہن میں یہ ڈالا گیا کہ اگر عوام تعلیم سے بہرور ہو گئے تو وہ چکموں میں نہ آئیں گے لہٰذا اس دور میں تعلیم NOSE DIVEکر گئی عمران کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ صنعتکاری اور ملک کی خواتین کا قومی سیاسی اور معاشی دھارے میں آنا اسلامی نظام کے قیام میں حائل ہو گا، صنعتکاری کو روک دیاجائے تو نہ صنعتی تعلیم کے اداروں کی ضرورت پڑے گی اور نہ SKILLED LABORکی، خواتین کو تعلیم اور معاشی کردار سے کس طرح روکا جائے، یہ مشورہ یقینا علم سے عاری دہشت گردی دینی حلقوں کی طرف سے ہی آیا ہو گا جن کے لئے انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں اور خیال اغلب یہی ہے کہ خواتین کو روکنے کا طریقہ یہی ہے کہ ان کو خوف زدہ کر دیا جائے۔
ملک میں کم سن بچیوں کے ساتھ ریپ اور ان کے بہیمانہ قتل کا سلسلہ گزشتہ تین سالوں سے جاری ہے مدرسوں میں بدکاری کی ہزار ویڈیو آگئیں فضل الرحمن کے دھرنے میں لواطت کا پمفلٹ میں اقرار ہوا۔ زیادہ تر باریش ملوث، ہر طرف ہا ہا کار مگر ریاست چپ، ریاست مدینہ میں بچیوں کے ساتھ ریپ جرم ہے ہی نہیں۔ کسی کو سزا نہیں، مزار قائد پر ایک نوبیاہتا کا دو دن تک اجتماعی ریپ ہوتا رہا، ڈی این اے سے مجرمان کی شناخت بھی ہو گئی مگر عدالت نے سائنسی شہادت قبول کرنے سے انکار کر دیا، یوم آزادی پر عائشہ اکرم نامی ٹک ٹاکر کو ہجوم نے بے دردی سے اچھالا، کپڑے پھارے اور اس لڑکی سے دو گھنٹے تک کھلے عام اپنی شہوانی شرست کا نشانہ بنایا، اس ہجوم میں ایک اکہتر سالہ بڈھا بھی شامل تھا پولیس وہاں موجود ہی نہ تھی، ہاں مریم کا جلسہ ہوتا تو پولیس، رینجرز اور ایجنسیاں موجود ہوتیں، جبکہ علم تھا کہ مینار پاکستان پر چالیس ہزار افراد آئیں گے۔ اسی پارک میں اوباشی کا کھل کا مظاہرہ ہوا اور لڑکیوں کو مال مفت سمجھنے کی کوشش کی گئی، سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں بدکاری اور اوباشی کا اچانک سیلاب کیسے آگیا، وہ بہت اوباشی تھی جب کہا گیا کہ عورت کم کپڑے پہنے گی تو مرد TEMPTتو ہو گا وہ کوئی روبوٹ تو نہیں ہے، ملک کے وزیراعظم نے ایک جملے میں دین کی تعلیم، کردار اور تربیت پر خاک ڈال دی، یہ بات پوری قوم کے لئے شرمناک تھی مگر یہ ریاستی پالیسی کا اعلان بھی تھا کہ ملک میں ریپ ہوتے رہیں گے جب تک عورت افغانی برقع میں نہیں آجاتی، یہ ریاستی مکر ہے کہ یہی واحد راستہ ہے کہ عورت کو خوف زدہ کر دیا جائے اور اس کو گھر میں قید کر دیاجائے، یہ سماجی رزالت ہے اور ریاستی طاقت کا بہیمانہ استعمال، عمران لنگر خانوں اور پناہ گاہوں سے باہر نہیں آسکتے ان کو معلوم ہے کہ صنعت لگائی تو تعلیم پر توجہ دینی ہو گی جو وہ نہیں چاہتے، عورت کو آزادی دی تو افغانی سیاسی نیا ایجاد کردہ اسلام ہاتھ سے نکل جائے گا، مگر ریاست عالمی ESTABLISHMENTسے وعدہ کر چکی ہے کہ پاکستان کو خطے میں کوئی کردار ادا کرنے سے روکا جائے گا اسی لئے تو شائد باجوہ کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی تھی، سو مختلف حیلے بہانوں سے ملک کی ترقی کو روکا جارہا ہے اور اس میں ایک UNANNOUNCED POLICYہے دانستہ انتظامیہ عورتوں کی ریپ پر اقدام نہ کرے نور مقدم کیس کو جان بوجھ کرسرد خانے میں ڈالا جارہا ہے یہ مکر گھنائونی ذہنیت ہے۔