افغان حکو مت کو کرپشن لے ڈوبی، فاتح طالبا ن کیا کریں؟

338

افغانستان میں جو ہوا، اچھا یابُرا، لیکن طالبان نے دنیا کو ششدر کر دیا۔ نہ صرف آناً فاناً ملک پر قبضہ جما کر، بغیر متوقع خون خرابے کے، اس کے بعد اپنی بر دباری، اور موقع شناسی کا مظاہرہ کر کے۔ اور دنیا کو منوانے کی کوشش میں کہ اسلامی انقلاب مہذبانہ، منظم اور فراخ دل ہوتا ہے، جیسا کہ اسلامی روایات ہیں۔غیر ملکیوں، سرکاری ملازموں، اقلیتوںاور سب شہریوں کو عام معافی کا اعلان نا قابل یقین تھا، جس کا مظاہرہ ان ہزاروں افغان کنبوں نے ایر پورٹ پر امریکی انخلا کے جہاز پر سوار ہونے کی کوشش میں کیا، بلکہ یہ سمجھتے ہوئے کہ جیسے بسوں اور ٹرینوں پر لوگ ایک دوسرے کے اوپر چڑھ جاتے ہیں، وہ بھی ہوائی جہاز پر لٹکتے ہوئے سمندر پار پہنچ جائیں گے۔اس کوشش میں کتنے نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
امریکیوں اور انکے اتحادیوں کے ساتھ جو ہوا وہ توعبرت انگیز ہے۔ امریکی صدر ، جو بایئڈن سخت حیران ہیں کہ بیس سال میں، 83ارب ڈالر لگا کر جو تین لاکھ کی افغانی فوج ، جدید ہتھیاروں سے لیس، تیار کی گئی وہ صابن کے جھاگ سے بھی تیزی سے بیٹھ گئی۔ طالبان اتنی تیزی سے ملک پر قابض ہوئے جتنی تیزی سے وہ نقل و حرکت کر سکتے تھے۔اس حیرت انگیز فتح کا صدمہ دیر تک اتحادیوں کو پریشان رکھے گا۔اب ان کے سامنے سوال ہے کہ طالبان کی حکومت کو کیا سمجھیں؟ انہوں نے در حقیقت طاقت کے بل بوتے پر افغانستان کو فتح نہیں کیا ، بلکہ عوام کے بھر پور تعاون سے کیا۔ اب کیا امریکہ اورمغربی طاقتیں افغانستان میں طالبان کی حکومت کو قانونی اور جائز سمجھیں گیں؟ اگر نہیں تو کس بنیاد پر؟ روس اور چین نے تو پہلے ہی عندیہ دے دیا ہے کہ وہ جونہی باقاعدہ حکومت بنی وہ اس کو تسلیم کرلیں گے۔چین کی تو سمجھ آتی ہے، لیکن کیا روس بھی؟ جس ملک کو طالبان نے افغانستان سے مار بھگایا تھا؟ جی ہاں، وہ اس لیے کہ انہوں نے امریکہ کو بھی ایسی ہی شرمناک شکست دی تو وہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیوں نہ کریں۔
نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ طالبان کی سبک رفتارپیش قدمی سے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کی ساری کوششیں افغان فوج کو ایک بڑی قوت، اور آزاد و جری لشکر بنانے کی تمام کوششیں برباد ہو گئیں، جب ان کے بھگوڑے قائدین اپنی سپاہ کا ساتھ چھوڑ گئے۔ کابل سے پہلے افغان سرکاری لشکر15شہروں میں ہتھیار ڈال چکے تھے جن میںہیرات اور قندھار شامل تھے۔طالبان کی تیز رفتاری سے بڑھتے جتھوں کے سامنے ہزاروں نے ہتھیار ڈال دیئے، انہیں مال غنیمت میں امریکہ کے کئی ہیلی کاپٹر اور قیمتی ہتھیار ملے جن کی انہوں نے شان سے شہریوں کے سامنے نمائش کی۔ کچھ شہروں میں افغان فوج نے کئی دن مقابلہ کیا، لیکن طالبان نے ان پر قابو پا لیا اور پھر شان سے شہروں میں داخل ہو گئے۔یاد رہے کہ صدر اوباما کی افغانستان پر حکمت عملی تھی کہ مقامی فوج کو بڑھا کر اور تربیت دیکر طالبان کے خلاف تیار کیا جائے۔اور پھر امریکن وہاں سے رخصت ہو جائیں۔اس فوج کو بالکل امریکی فوج کے ماڈل پر تیار کیا گیا۔ لیکن اس فوج کی ناقص کارکردگی کا راز بہت دیر پہلے ہی کھل چکا تھا جب صدربائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ ستمبر ۱۱ سے پہلے امریکی فوجی واپس چلے جائیں گے۔در اصل افغان فوجی بھی سچے تھے کہ نہ انکو ہوائی حملوں سے اعانت ملی اور نہ ہی ان کو راشن پانی دیا گیا۔اور سچ تو یہ ہے کہ بہت پہلے ہی یہ فوج تتر بتر ہو رہی تھی۔ اسمیں بمشکل پچاس ہزار جوان رہ گئے تھے۔ اس کی شاید وجہ یہ تھی کہ اتحادیوں نے مکمل طور پر جدید ترین فوج تیار کرنے کے لیے تربیت کے معیاراتنے اونچے رکھ دیئے تھے جو پورے نہیں کیے جا سکے۔ اس لیے کہ اس کام میں جووسائل چاہیے تھے وہ دستیاب نہیں کیے جا سکے۔فوجیوں اور پولیس والوں دونوں نے اپنے قائدین پر بے اعتمادی کا اظہار کیا۔اور جیسا کہ حالات کو دیکھنے والے جانتے تھے کہ حقیقت میں نفری اتنی نہیں تھی جتنی کہ کاغذوں پر ۔افغان افسر حکومتی عہدیداروں کے ساتھ مل کر کرپشن میں سرشار تھے۔چنانچہ جب اطلاع آئی کہ امریکن جانے والے ہیں، تو طالبان نے بھی اپنی پیش قدمی تیز کر دی جس کو دیکھ کر فوج نے اندازہ لگا لیا کہ اشرف غنی کی حکومت کے لیے جان گنوانا بے کار ہے۔ ان گذشتہ بیس سالوں میں، ساٹھ ہزار افغان فوجی مارے گئے۔یہ سب کابل میں بیٹھے حکومتی ٹولہ کی بد عنوانیت اور نااہلیت کی وجہ سے۔ہماری رائے میں، امریکی فوجیوں کا طالبان سے لڑنا تو سمجھ آتا ہے کہ وہ 9/11کا بدلہ لے رہے تھے۔ لیکن افغان فوجیوں کی طالبان سے لڑائی کا محرک کیا تھا؟وہ ان کے بھائی تھے۔سیاسی مخالفین کو قتل تو نہیں کیا جاتا؟ طالبان کے پاس مذہبی جنون تھا اور کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں۔
لیکن حکومت کے خلاف جنگ بغیر پیسے، اوراسلحہ کے تو نہیں ہو سکتی۔ طالبان کو یہ سب کچھ کہاں سے ملا۔ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے سہولت کاری کی۔ پاکستانی صحافی، احمد رشید اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے طالبان کے لیے امارت سے پیسہ دلوایا، اور انکو جو اسلحہ چاہیے تھا۔اس کے افسروں نے طالبان کو بلوچستان میں تربیت دی، جہاں کئی طالبان قائدین سکونت اختیا ر کر چکے تھے۔کئی طالبان رہبر پاکستان میں رہائش پذیر تھے۔ احمد رشید کے الزامات کہاں تک درست ہیں، اس کا تو انہیں معلوم ہو گا۔ اخبار نویس کہاں اپنے ذرائع معلومات بتاتے ہیں۔
ایک سوال اور: کل کتنے طالبان تھے؟ کوئی کہتا ہے ساٹھ ہزار اور کوئی ایک لاکھ۔ ان کی تعداد میں اضافہ کی وجہ غیر ملکی مجاہدین کا ان کی صفوں میں شامل ہونا بتایا گیا ہے جن میں پاکستانی بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ہر حال میں ان کی تعداد افغان فوج کا چوتھائی بھی نہیں تھی۔ کئی مقامات پر افغان پولیس اور فوج نے ویسے ہی جنگ نہیں کی یا کچھ رقم لیکر طالبان کو چھوڑ دیا۔
اُردو کے کالمنسٹ،اوریا مقبول جان، جواپنے خیالات اور تحریروں سے مذہبی طبقہ کی وکالت کرتے ہیں، جو انہیں اکثر انتہا پسندوں کی صف میں لے جاتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک طالبان انہی کی دانشوری کی قیادت میں چل رہی ہے۔انہوں نے اپنے حالیہ کالم میں جب افغانستان کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بغلیں بجائیں، اور اسی سانس میں، بد نام زمانہ، خادم حسین رضوی کا بھی ذکر خیر کیا، جنہیں ، گورنر سلمان کے قاتل نے شہرت کا تاج پہنا دیا تھا۔ اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، نواز شریف کے ایما پر،انہوں نے ایک نئی سیاسی پارٹی’’ تحریک لبیک ‘‘کو جنم دیاجو بوقت ضرورت میاں صاحب کے کام آتی، جیسے فضل الرحمن کی پارٹی۔اوریا صاحب افغانستان کے واقعات سے اتنے خوش نظر آتے ہیں کہ جیسے طالبان کے رجعت پسند اسلامک ورژن کو حیات نو مل گئی ہو۔اور بس پاکستان میں بھی ان کی تحریک میں نئی جان پڑ جائے گی۔اس راقم کی ناقص رائے میں، پاکستان میں طالبان کی اسلامی اقدار کا خیر مقدم ہوتا نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کی فتح کو اگر اسلام سے جوڑیں کہ انہوں نے امریکہ کو بحثیت مسلمان شکست دی ، تو سوال پیدا ہو گا کہ ویت نام نے بھی تو امریکیوں کوہزیمت کا مزا چکھایا تھا وہ کو نسے مسلمان تھے؟ اس لیے بجائے بغلیں بجانے کے ، مقبول جان صاحب کو اور عوامل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ویسے بھی ابھی دیکھنا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
ملک فتح کر لینا کوئی معمولی بات نہیں، لیکن اس کے بعد اس کو سنبھالنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے، جب کہ فاتح کو حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہ ہو۔ سب سے پہلے فاتحین کو ایسی حکومت تشکیل دینی پڑے گی جو نہ صرف پہلے سے چلتے ہوئے نظام حکومت کو بحال کر سکے، اور بین الاقوامی توقعات کو کو پورا کرے، تا کہ نئی حکومت کودنیا پر قبولیت مل سکے۔یہ کہنا آسان ہے کرنا مشکل۔ طالبان غالباً اسی لیے کارزئی اور عبداللہ عبداللہ سے مذاکرات کر رہے ہیں ۔ لا محالہ طالبان کو افغانستانی کی سول سروس، پولیس، معاشی نظام ، تعلیم، صحت ، روزگار، تعلقات خارجہ ، اور ان سب کے لیے پڑھے لکھے اور تجربہ کار کارندوں کی فوری ضرورت ہو گی، جو طالبان کی صفوں میں تو کم ہی ہونگے۔
امریکیوں کو لاکھ برا کہیں لیکن گذشتہ بیس سالوں میں افغانستان میں کچھ تبدیلیاں تو ہوئیں۔ ملک میں تقریباً 37فیصد مرد وں نے ثانوی تعلیم حاصل کی اور13فیصد سے زائد عورتوں نے یہ توقع ہو گئی کہ لڑکے 12.5سال اور لڑکیاں تقریباً آٹھ سال تک سکول میں تعلیم حاصل کر سکیں گی۔ابتک لڑکے چھ سال اور لڑکیا ںتقریباًاوسطاً دو سال سکول میں پڑھ چکی ہیں۔لیکن ملک میں دس ہزار کی آبادی پر صرف تین ڈاکٹر ہیں اور محض5بستر ہیں۔ ایک تہائی آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ اور 57 فیصد کے پاس بیت الخلا کی سہولت نہیں۔ نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ دنیا کی اقوام میں انسانی ترقی کے انڈکس پر افغانستان170ویں نمبر پر ہے۔ اس کے عوام کو اگر باقی دنیا کے عوام کی طرح ترقی کرنا ہے تو یہ ایک لمبی جد و جہد ہو گی، جو طالبان کر سکتے ہیں اگر وہ رشوت کا رستہ نہیں پکڑیں گے ، حلال کی روزی کمائیں گے ، محنت کریں گے، اور غیر طالبان ہنر مند اور قابل لوگوں کی مدد حاصل کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھیں گے۔۔
2020 کے تخمینہ کے مطابق افغانستان کی آبادی تین کڑوڑ نوے لاکھ سے کچھ کم تھی۔ پشتون اس آبادی کا42فیصد تھے، اس کے بعد تاجک 27فیصد اور باقی ہزارہ، ازبک، ترکمان اور بلوچ تھے۔تقریباً ساری آبادی مسلمان ہے۔ کل رقبہ252 ہزار مربع میل ہے۔جسمیں پانی کے ذخیرے نہ ہونے کے برابر ہیں۔2018 کا تخمینہ تھا کہ کل پیداوار کی مالیت تقریباً21 بلین ڈالر سے کچھ اوپر تھی جو فی کس 493 ڈالر بنتی تھی۔ 2019 کی Human Development report میں افغانستان کا169 واں نمبر تھا۔گذشتہ بیس سال میں خواندگی کی شرح خاصی بڑھی اگرچہ مردوں میں یہ شرح عورتوں سے دوگنی بڑھی۔2018میں ملک میں 16ہزار سے اوپر سکول تھے، جن میں تقریباً نوے لاکھ بچے زیر تعلیم تھے۔ ان میں 40فیصد لڑکیاں تھیں۔ 174,000 طلبہ یونیورسٹیز میں تھے جن میں 21 فیصد خواتین تھیں۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ تمام بچوں کو سکول میں داخل کرنے کے لیے آٹھ ہزار سکول چاہیئں۔
امریکنوں نے ایک پشتون سردار حامدکارزئی کو صدر بنا دیا ، اور2014 میں دوسرے صاحب، اشرف غنی صدر بن گئے۔ ان دونوں کے عہد میں حکومتی اہلکاروں نے باقاعدگی سے امریکی امداد کی لوٹ کھسوٹ شروع کی، جس میں فوج کے لیے دی گئی رقمیں بھی خرد برد کی گئیں، جس سے فوج میںحکومت پر اعتماد اٹھ گیا۔لوٹ کھسوٹ ممکن ہے اس لیے آسان ہو گئی کہ امریکی ڈالر سوٹ کیسز میں نقد کی شکل میں بھی آتے تھے، جس سے غبن اور چوری آسان ہوتی تھی۔فوج کو تنخواہ تو ملتی تھی لیکن ان کے راشن، گولہ بارود وغیرہ سے پیسہ بچا کر ہڑپ کر لیا جاتا تھا۔
اس وقت طالبان کے سامنے مسائل کے انبار ہیں۔ امریکن نقد امداد دیتے تھے تو ملک چلتا تھا۔ اب طالبان کے لیے فوری طور پر آمدنی کا مسئلہ ہے، اگر جلدی بیرونی امداد نہ ملی تو اس خشک سال کے زمانے میں قحط بھی پڑ سکتا ہے؟اگر طالبان انسانی حقوق پر عمل کرنے کا مشورہ مان لیتے ہیں، عورتوں اور لڑکیوں پر اس سے زیادہ پابندیاں نہیں لگاتے جو اور مسلمان ملکوں میں ہیں۔تو ممکن ہے کہ ان کی حکومت کو عالمی شناخت مل جائے۔اور بالآخر افغانستان کامستقبل تابناک ہو جائے۔اگر ایسا نہ ہوا تو پھر جگہ جگہ جنگجو سردار اٹھ کھڑے ہونگے اور خانہ جنگی سے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو سکتے ہیں۔