پاکستان کی ٹک ٹاک

190

دنیا بھر میں اس وقت بڑے بڑے برانڈز کی مارکیٹنگ کو سوشل میڈیا پر ’’ٹک ٹاک‘‘ کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے۔ ٹک ٹاک سمارٹ فو ن سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ ایپ ہے لیکن اب بھی بیشتر اسے لوگ ہیں کہ جنہیں اس ’’ٹک ٹاک‘‘ کی طاقت کا صحیح طرح اندازہ نہیں ہے۔
ٹک ٹاک وہ ایپ ہے کہ جو پچھلے ڈیڑھ سال میں سمارٹ فونز پر سب سے زیادہ ڈائون لوڈ کی گئی ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں لگتا ہے کہ روز کوئی نہ کوئی نیا ٹرینڈ شروع ہوتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جو ٹرینڈز بہت تیزی سے اوپر آتے ہیں اکثر وہ اتنی ہی تیزی سے نیچے بھی چلے جاتے ہیں لیکن ٹک ٹاک کے ساتھ ایسا نہیں ہوا یہ جس تیزی سے اوپر آیا ہے اس کی اوپر جانے کی رفتار میں تیزی ہی آرہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ٹک ٹاک ہے کیا؟ اس پر کوئی بھی اپنی 15-16سیکنڈکی ویڈیو بنا کر ڈال سکتا ہے۔ ہر بڑی سوشل نیٹ ورک ایپ جیسے فیس بک، انسٹا گرام، ٹویٹر، پن ٹریسٹ، یوٹیوب وغیرہ کی کمپنیاں یو ایس اے میڈ ہیں لیکن ٹک ٹاک چائنز کمپنی ہے۔
اس وقت ٹک ٹاک پر 800ملین ایکٹو یوزرزہیں یعنی دنیا کے 10فیصد لوگوں سے بھی زیادہ یہ ایپ استعمال کررہے ہیں۔ انسٹا گرام جو پانچ سال میں نہیں کر پایا یعنی ایک ملین یوزرز ز وہ ٹک ٹاک دو سال سے کم میں کر جائے گا۔
2019ء سے آج تک 1.5ملین بار یہ ایپ ڈائون لوڈ کی گئی جو کہ اس سے پہلے کسی ایپ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ اس کو بنانے والی کمپنی Bytedanceکی ویلیو اس وقت پچھتر(75)بلین ڈالرز ہے۔
دنیا بھر کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی ٹک ٹاک بہت مقبول ہے اور یہاں اس کے تین ملین سے زیادہ یوزرز ہیں اور کمال بات یہ ہے کہ یہ وہ واحد ایپ ہے جس کے یوزرز اسے دن میں باون(52)منٹ استعمال کرتے ہیں۔اوسطً جبکہ باقی ایپس بیس سے تیس منٹ استعمال ہوتی ہیں۔
ٹک ٹاک کی یوزر نوجوان نسل یعنی یوتھ ہے جن کی عمریں 16-24سال کے بیچ ہیں۔ یہی لوگ ویڈیوز بنا کر ڈالتے ہیں اور ان کی تعداد 30-40فیصد ہے۔ لاک ڈائون کے بعد سوشل ڈسٹنگ اور دوسری وجوہات کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے رہنے کیلئے جو پلیٹ فارم سب سے زیادہ استعمال ہوا وہ ’’ٹک ٹاک ہی ہے۔
کورونا وبا کے دوران کیونکہ سفر پر بھی پابندی تھی اس لئے انٹرنیٹ کے علاوہ ٹک ٹاک دنیا دیکھنے کے لئے بھی بہت کام آیا۔ کسی دوسرے ملک کا کلچر دیکھنا ہے تو وہاں کے یوزرز کی ٹک ٹاک دیکھ لیں۔ اس لئے لفظ Travelکو ٹک ٹاک پرپچھلے سال 48.4بلین بار سرچ کیا گیا۔ لوگ ایک دوسرے کے کلچر کی وہ چیزیں دیکھ پائے جو عام حالات میں ممکن نہیں تھیں مختلف علاقوں میں ملکوں میں لوگ کس طرح رہتے ہیں۔ کیسے لباس استعمال کرتے ہیں کیا مرغوب غذا ہے یہ سب ایک دوسرے تک ٹک ٹاک کے ذریعے پہنچ گیا۔ ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا کر کئی ٹک ٹاکرز سٹار بن گئے ان کو برینڈز باقاعدہ رقم دیتے ہیں کہ وہ ان کی پروڈکشن کے ساتھ ٹک ٹاک بنائیں یہ اس وقت پوری دنیا میں ہورہا ہے لیکن باری جب پاکستان کی آتی ہے تو حال ہر شعبے اور چیز کی طرح یہاں بھی برا ہے۔
پاکستان سے متعلق نہ کھانے، نہ سفر، نہ ہی کلچر، سب سے زیادہ جو ٹرم سرچ کی گئی ہے پچھلے ہفتے وہ ہے ’’ٹک ٹاک گرل مینار پاکستان‘‘ ہے جہاں تقریباً 140ملین سرچز ہیں اسی مدعے کو لے کر۔آپ نے بھی یہ خبر سنی ہو گی کہ 14اگست کی شام ایک لڑکی ٹک ٹاک ویڈیو بنانے مینار پاکستان پہنچی، وہاں ان کو ویڈیو بناتے دیکھ کر لگ بھگ چار سو لوگ جمع ہو گئے اور ان پر حملہ کر دیا، ان کے کپڑے پھاڑ دئیے اور ہوا میں اچھالا گیا۔ ویڈیوز بنے، اپ لوڈ ہوئے، ہندوستان کے میڈیا نے بھی اس واقعے کو خوب اچھالا۔
جہاں دنیا کے بڑے بڑے برانڈز ٹک ٹاکرز کو تلاش کرتے ہیں وہ ان کے برانڈز کو پروموٹ کریں وہیں وہ پاکستانی ٹک ٹاکرز سے دور رہتے ہیں کیونکہ ان کا حال تو خود ان کی قوم نے ابتر کررکھا ہے۔
جہاں تک ہمارے کلچر کا سوال ہے تو دنیا کو لگتا ہو گا کہ یہ تو پاگل ہیں جو اپنی ماں بیٹیوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں ان کا کلچر دیکھ کر کیا کرنا؟؟ ہماری حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اس وقت یہ سوشل میڈیا کیس بھی میڈیا سے زیادہ طاقتور ہے اور اگر ہم اپنے یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز کو پروموشٹ کریں گے تو ہمارا ہی ملک پروموٹ ہو گا۔