صلیبی اور جہادی جنگ کا خاتمہ!

220

2001ء میں امریکی صدر جارج بش نے ڈگیا کھوتے توں غصہ کمہار تھے کا طرز عمل اپناتے ہوئے نائن الیون کی ہولناک اور دردناک دہشت گردی کے سانحہ کا الزام سعودی، مصری اور دوسرے ممالک کے دہشت گردوں پر لگانے کی بجائے اسامہ بن لادن کی آڑ میں اپنی پیدا کردہ افغان خانہ جنگی کے جہادیوںکا متبادل قابض طالبان پر حملہ کر دیا جس میں کابل پر کارپٹ بمباری کی گئی جس کے خوف سے نہ صرف انسان بلکہ حیوان، چرند، پرند افغانستان چھوڑ کر بھاگ گئے، چنانچہ کابل پر حملے سے پہلے امریکی صدر جارج بش نے پاکستان کے جنرلوں کے حکمران جنرل مشرف کو مائی وے یا ہائی وے کا حکم دیا جس کے حکم کے سامنے پورے جنرل اور ان گماشتہ بش کے سجدوں پر کر گئے جس میں ان میں سے آج کے جنرل شعیب، جنرل لودھی، جنرل اعجاز اعوان، شیخ رشید، ابن ضیاء اور اتحادی عمران خان بھی شامل ہیں جو اس وقت جنرل مشرف کی غیر قانونی اور غیر آئینی حکومت کے حمایتی تھے جبکہ عمران خان جنرل مشرف سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ لینے کے لئے ترس رہا تھا جنہوں نے جنرل مشرف کے مارشلاحکومت کی حمایت کی تھی اور ان کے منعقدہ ریفرنڈم میں حصہ لیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنرل مشرف نے پاکستان کے اڈے شمسی اور جیکب آباد امریکی ایئر فورس کو فراہم کئے یہاں سے اڑ کر امریکی ہوائی حملوں میں پچاس ہزار طالبان مارے گئے جو آج بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا کو اپنائے ہوئے طالبان کے قبضے پر جشن منارہے ہیں جبکہ طالبان کے قتل میں جشن منانے والوں کے ہاتھ خون میں رنگے ہوئے ہیں تاہم امریکی صدر جارج بش کی چھیڑی ہوئی صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا کہ جس میں جہادی جنگ کے طالبان جیت چکے ہیں جن کی ناکامی کے لئے سیاسی، معاشی اور سماجی بائیکاٹ کا شور و غل مچا ہوا ہے۔امریکی میڈیا پر ماتم صغراں برپا ہے پاکستان میں طالبان کی جیت کا کریڈٹ جنرل اختر عبدالرحمن مرحوم اور جرنل حمید گل کو دیا جا رہا ہے جبکہ جنرل اختر عبدالرحمن کے تیار کردہ جہادیوں کو طالبان نے مار پیٹ کر کابل سے بھگا دیا تھا یہی حال مجاہدین کے ہیرو جنرل حمید گل کا تھا جو افغان خانہ جنگی میں محرک تھے جنہوں نے امریکی پرائی جنگ میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا یہ وہ وقت تھا جب امریکی ڈالر سے جنرلوں کی جیبیں بھررہی تھیں جن کی اولادیں آج ان ہی امریکی ڈالروں کی بدولت ارب، کھرب پتی بنی ہوئی ہیں۔ جس میں پاکستانی جنرلوں نے افغان جنگ میں خوب دولت کمائی ہے یہی وجوہات ہیں کہ افغان عوام پاکستان سے نفرت کرتے ہیں کہ پاکستانی جنرلوں نے افغانوں کے نام پر دولت کے انبار لگا لئے مگر افغانستان کو دربدر کر دیا گیا جس کا قصور وار امریکہ، پاکستان اور سعودی عرب ہے جنہوں نے امریکی پرائی جنگ کو مقدس نام جہاد دے کر لڑا جس میں اب تک ڈھائی ملین افغان باشندے ستر ہزار پاکستانی شہری اور چھ ہزار پاک فوج کے جوان شہید ہو چکے ہیں جن کے ذمہ دار امریکی اور پاکستانی جنرل ہیں۔
بہرکیف 46سالہ شیطانی جنگ کا خاتمہ ہوا جس میں چار مرتبہ سقوط کابل ہوا جب پہلی مرتبہ 1978میں افغان ترقی پسندوں نے افغانستان کی صدیوں پرانی بادشاہت، آمریت اور ظلمت کا خاتمہ کر کے ایک جدید ریاست کی بنیاد رکھی تھی جس میں لوگوں کے مساوی حقوق فراہم کئے گئے جس کے خلاف دنیا بھر کی سامراجی اور استعماری طاقتیں حرکت میں آگئیں جنہوں نے اپنی شیطانی جنگ کا نام افغان جہاد رکھا جس کے نام پر آج تک ایک دوسرے کو قتل کر کے جہاد لڑا جاتا رہا۔ پھر ترقی پسندوں کی مدد گار روسی فوجوں کے خلاف جہاد لڑا گیا جس پر 1989میں جنیوا معاہدے کے تحت مشترکہ حکومت کا وعدہ کر کے روسی فوجوں کاانخلاء ہوا جس میں جہادیوں کے جنیوا معاہدے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کابل پر چڑھ دوڑے جن کے آپس میں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں ٹکرا گئیں جن کی آپس کی جنگ کے خاتمے کے لئے پاکستان کے مدرسوں کے تیار کردہ جہادی طالبان کو 1996میں اتارا گیا جنہوں نے آناً فاناً کابل پر قبضہ کر لیا۔ جب امریکہ میں 2001ء میں نان الیون برپا ہوا تو اس کی آڑ میں طالبان پر اسامہ بن لادن کو چھپانے پر امریکی صدر جارج بش نے صلیبی جنگ کے نام پر حملہ کر دیا جس کے لئے پاکستانی جنرلوں نے پاکستان کے اڈے فراہم کئے تھے جس سے طالبان کابل اور قندھار چھوڑ کر پہاڑوں میں روپوش ہو گئے جو گزشتہ بیس سال مزاحمت کاری کی جنگ لڑتے رہے جو آخرکار آج کامیاب ہوئے کہ جن کی 30ہزار طالبان موٹر سائیکل سوار اور بندوق بردار فوج کے سامنے 3لاکھ افغان فوج ڈھیر ہو گئی یا کردی گئی کہ پورے طالبان کے قبضے میں افغان فوج لاپتہ نظر آئی ہے۔ آج طالبان کا مکمل طور پر شمال اور جنوب مشرق اور مغرب افغانستان پر قبضہ ہے جو سابقہ جہادی کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور حکمت یار کی مشاورت پر حکومت تشکیل دے رہے ہیں جن کا طالبان فوج اور اہلکاروں پر قابو ہے جس کی وجہ سے فی الحال افغانستان میں امن ہے۔ جس کے بارے میں مستقبل کی پیشن گوئی کرنا مشکل ہے کیونکہ افغانستان قبائل کا ملک ہے جو صدیوں سے ایک دوسرے کو اکھاڑتے پچھاڑتے رہے ہیں جن کے بارے میں فی الحال کہنا مشکل ہے کہ امن ہو گا یا پھر خانہ جنگی، یہ اب انحصار طالبان پر ہے کہ وہ امن کے لئے کیا کیا تدابیر اور حکمت عملی اختیار کرتے ہیں یا پھر بین الاقوامی سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں اگر امن قائم ہو گا تو افغانستان اس خطے کا اہم ترین ملک بن جائے گا جس پر چین جیسے ترقی یافتہ ملک کی بھی نگاہیں ہیں جو ترقی پذیر ملکوں میں اپنے ترقیاتی پروجیکٹوں کے ذریعے دولت کمارہا ہے جو آج ترقی یافتہ ممالک کی بجائے ترقی پذیر خاص طور پر غریب اور کمزور ملکوں کی ضرورت بن چکا ہے جس کے خلاف مغربی دنیا پیش پیش ہے اب طالبان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ زیرو سے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں جو اپنے ملک کی بقاء اور ترقی کے لئے وسیع تر اتحاد قائم کرتے ہیں تاکہ افغانستان میں استحکام سے نہ صرف افغانستان بلکہ اردگرد کے ملک بھی مستفید ہو سکتے ہیں جو ایک نیا یورپی یونین طرز کا خطہ بن سکتا ہے۔ بہرحال پچھلے ہفتے طالبان کے نمائندے اور ترجمان کا اعلامیہ چھپا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ چین اور ترکی افغانستان میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔چین دنیاکا ترقی یافتہ ملک ہے جس کے ترقیاتی منصوبوں سے افغانستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے جس میں پاکستان کا کسی بھی جگہ نام نہیں لیا ہے جو جانتے ہیں کہ پاکستان کی اصلی طاقت اشرافیہ امریکی پٹھو اور گماشتہ ہے جو امریکہ کے حکم کی غلام ہے جن کو امریکہ جب چاہے استعمال کر سکتا ہے جس نے 2001ء میں امریکہ کو ہوائی اڈے فراہم کر کے طالبان کا قتل عام کر دیا تھا یا پھر تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان مختلف ادودار میں امریکہ کے حکم پر جنگیں لڑتا ہوا آرہا ہے جس کو امریکہ جب چاہے گا وہ افغانستان کے خلاف اپنی کرایہ کی فوج اتار سکتا ہے۔ اس لئے افغانوں نے کبھی بھی پاکستان پر اعتماد نہیں کیا ہے۔ لہذا آج طالبان بھی پاکستان پر اعتبار نہیں کرپارہے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ پاکستان کبھی بھی امریکہ کے اشارے پر افغانستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ یہی وجوہات ہیں طالبان کے ترجمان نے اپنے اہم ترین اعلامیہ میں پاکستان کا نام تک نہیں لیا ہے جو جشن منانے والوں کے منہ پر تھپڑ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔