مینار پاکستان واقعے کے ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں، ٹک ٹاکر کو بھی سزا ملنا ضروری ہے

213

پچھلے ہفتے سقوط کابل کی خبروں اور پل پل بدلتی صورت حال کے پیش نظر کئی ایسی خبریں بھی تھیں جو پس منظر میں چلی گئیں ہاں البتہ ایک خبر ایسی تھی جسے انٹرنیشنل میڈیا میں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ وہ خبر ایک ٹک ٹاکر خاتون کی تھی جسے چودہ اگست کو مینار پاکستان میں اس ٹک ٹاکر جس کا نام عائشہ اکرام ہے، اطلاعات کے مطابق چار سو کے ایک ہجوم نے اسے ہوا میں اچھالا اور اتنہائی اخلاق باختہ اور گھٹیا حرکات کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں خاتون کے کپڑے بھی تار تار ہو گئے اور کوئی اس کی مدد کو بھی نہ آیا۔ بلاشبہ اس حیوانیت اور انسان سوز حرکات کرنے والوں کو ایسی عبرتناک سزائیں دی جانا چاہئیں کہ آئندہ کسی شخص کو ایسی کوئی حرکت کرنے کا خیال بھی ذہن میں نہ آئے۔ نہ ہی ہماری ثقافت، نہ ہی ہماری روایات اور نہ ہماری مذہبی اقدار اس قسم کے درندہ صفت عمل کی اجازت دیتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ پورا واقعہ مکمل طور سے جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اسے اسی حوالے سے دیکھا جانا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کی چند گنی چنی ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ ٹائپ خواتین اور حقوق نسواں کی نام نہاد علمبردار خواتین ہر معاملے کو مرد بمقابلہ عورت کے تناظر میں بڑھاوا دینا چاہتی ہیں جو کہ غیر ملکی این جی اوز سے وابستہ رہی ہوتی ہیں یا وابستہ ہوتی ہیں جن کی فنڈنگ مغرب کے ان ممالک سے آتی ہے جنہیں پاکستانی کے پس منظر اور معاشرتی اقدار کی الف بے بھی نہیں معلوم ہوتی۔ ہمیں یہاں یہ غور کرنا ہو گا کہ 14اگست والے دن مینار پاکستان پر آنے والے افراد میں بھی ہزاروں نہیں سینکڑوں دوسری خواتین بھی شامل رہی ہوں گی کیا ان کے ساتھ بھی اس بے ہنگم اور معاشرے کے ایک ناسور جیسے چار سو افراد نے یہ ہی سلوک کیا تھا؟ اگر نہیں تو پھر کیا فرق ہے دونوں میں؟ وہ دوسری خواتین اپنے اہل خانہ کے ساتھ شریفانہ انداز میں اپنے اکابرین کو خراج تحسین پیش کرنے آئی تھیں جبکہ ٹک ٹاکر عائشہ اکرام نے اپنے مداحوں کو باقاعدہ وقت دے کر مینار پاکستان پر بلایا تھا اور دعوت دی تھی کہ سب مداح آئیں اور خاتون کے ساتھ سیلفی بنوائیں۔ پھر جب وہ ٹک ٹاکر گریٹر اقبال پارک پہنچیں تو سکیورٹی نے مجمع کی تعداد اور اصول و ضوابط کے تحت اس مخصوص حصے میں ان کو جانے سے منع کر دیا کیونکہ وہ صرف فیملی کے ساتھ آنے والے افراد کے لئے تھا ٹک ٹاکر گیٹ سے واپس گئیں اور باہر جا کر ایک فیملی سے درخواست کی کہ وہ انہیں اپنی فیملی کا فرد بنا کر ساتھ لے چلیں تاکہ ان کا داخلہ ممکن ہو سکے۔ پارک میں آنے کے بعد جب ان کے مداح ان کے پاس آئے تو انہوں نے انہیں فلائنگ کیسز وارنے شروع کر دئیے۔ اپنے مداحوں اور ہجوم کی تعداد بڑھانے اور شہرت کا پیمانہ بڑھانے کیلئے اور بھی دیگر قسم کی نازیبا حرکات کیں جو انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ ایک طرح سے ویڈیو کلپ بنانے کے چکر میں وہ لوگوں کو انسٹی گیٹ کرتی رہیں تو پھر موب تو موب ہوتا ہے اور اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ یہ زمین انسانوں کی دنیا ہے فرشتوں کی نہیں جب آپ لوگوں سے اس طرح سے فلرٹ کریں گے تو ویسا ہی جواب بھی آئے گا مگر اس بات کا ہر گز ہرگز مقصد یہ نہیں ہے کہ ان بدقماش لوگوں کو کوئی جواز مہیا کیا جائے، وہ جرم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس جرم کی انہیں ایسی ہولناک سزا ملنی چاہیے کہ ان کی آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں۔ مگر معاملہ یہ ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔بعض اوقات لوگ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ہر بات کر گزرنے پر تل جاتے ہیں۔ قطع نظر اس امر کے کہ وہ بحیثیت ایک ملک اور بحیثیت ایک قوم کس قدر نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس سارے واقعے کا دردناک پہلو یہ ہے کہ اس واقعے کی ویڈیو انہوں نے بالکل نارمل طریقے سے اپ لوڈ کی جب تک کہ دو دن بعد کسی اور کی بنائی ہوئی ان کی ویڈیو وائرل نہیں ہو گئی اور اس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے مذہبی لبادہ اوڑھ لیا اور پھرمیڈیا آئوٹ لیٹ کے سامنے حجاب اور چادر اوڑھ کر آئیں اور اپنی بے بسی بے کسی اور معصومیت کا ڈھکوسلہ رچانا شروع کر دیا۔ آج سے پہلے آپ ویب پر جا کر ان کی تصاویر دیکھتے تو چادر اور حجاب تو دور کی بات انہوں نے دوپٹہ تک گردن میں نہیں اٹکایا ہوا تھا اور کیسے کیسے ولگر ڈانسنگ اسٹیپس کے ساتھ انہوں نے پوز بنوائے تھے اپنے ٹک ٹاک کیلئے وہ ہم یہاں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا اس ڈرامے بازی کیلئے اس گھٹیا ہجوم کو سزا دینے کے علاوہ اس ٹک ٹاکر کو بھی شامل تفتیش کیا جانا ضروری ہے، خالی حجاب اوڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ اس واقعے سے سوسائٹی کے ان دو گروپوں کو جواب مل جانا چاہیے۔ ایک وہ جو کہتے ہیں کہ’’ میراجسم میری مرضی‘‘ اور دوسرے وہ لوگ جنہیں عمران خان کے اس تبصرے پر اعتراض ہے کہ عورت کا لباس بھی ایک اہم نکتہ ہوتا ہے۔