جوبائیڈن نے عجیب بات کی ہے کہ امریکا طالبان کے حوالے سے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ پالیسی اختیارکرے گا!

200

بیس برس تک افغانستان میں بم اور بارود کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کرنے والے حالیہ صدر جوبائیڈن کو ایک بار پھر دنیا بھر میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھتا ہوا نظرآرہا ہے۔ عام معنوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے لیکن امریکی تاریخ کے تناظر میں دنیا کو دہشت گردی کی نئی لہر کی اطلاع دی گئی ہے۔ امریکا کو افغانستان سے نکلنے کے بعد کوئی بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ اپنے عوام کوکیسے مطمئن کرے اور اپنے حلیفوں کو کیسے سمجھائے کہ ان کو بہت بڑی شکست ہوگئی ہے۔ امریکیوں نے تو ویتنام میں بھی اپنی شکست نہیں مانی تھی اور عراق میں بھی اور اب افغانستان میں بھی۔ اْلٹے سیدھے بیانات دیے جا رہے ہیں کہ طاقت کے زور پر قائم حکومت تسلیم نہیں، طالبان حملے بند کر دیں۔کس پر؟ امریکی تو جا رہے ہیں۔ امریکیوں نے ساری دنیا میں بارود بھر دیا ہے۔ ان سے کوئی امن کی ضمانت طلب نہیں کرتا۔ اب جوبائیڈن نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اور دنیا بھر میں دہشت گردی روکنے کے لیے افغانستان پر فضائی حملوں کی صلاحیت بر قرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دنیابھر میں بمباری کی صلاحیت تو امریکیوں میں پہلے بھی تھی اور آئندہ بھی رہے گی لیکن وہ یہ بتائیں کہ امریکا کی پالیسی میں کیا تبدیلی آئے گی۔ جوبائیڈن نے ایک اور عجیب بات کی ہے کہ امریکا طالبان کے حوالے سے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ پالیسی اختیارکرے گا۔ تو کیا20سال سے امریکا اور اتحادیوں کی پالیسی مشترکہ نہیں تھی۔20 برس قبل بھی انہوں نے مشترکہ پالیسی کے تحت افغانستان پر حملہ کیا تھا اور آج بھی مشترکہ پالیسی کے تحت انخلا کیا ہے۔ امریکی حکومت کو افغانستان میں20 برس کی محنت کے باوجود امن قائم کرنے کا بھوت سوار ہے چنانچہ ان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طالبان کو ہدایات بھی دے رہے ہیں اور پاکستان اور چین سے بھی کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں امن کے لیے امریکا کی مدد کریں۔ مدد کیوںکریں یہ ممالک کیا کر لیں گے جب46 ملکی ٹولہ کچھ نہیں کر سکا۔ بلکہ امریکیوں نے تو افغانستان کا امن تباہ کر دیا۔ اب انہیں افغانستان کے امن وہاں جمہوریت اور بنیادی حقوق کا خیال آرہا ہے۔بزور قوت افغانستان پر قبضہ رکھنے والوں کو طالبان کا اقتدار کھل رہا ہے۔ بہر حال یہ سب تو عارضی مراحل ہیں امریکا اپنے زخم اسی قسم کے بیانات سے چاٹتا رہے گا اور افغانستان میں مشاورت کا عمل تیز ہوتا جائے گا۔ ان کی حکومت بھی بن ہی جائے گی لیکن امریکہ نے دنیا کو جو دھمکی دی ہے اس پر دنیا کو سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ امریکا ساری دنیا کو جنگ میںجھونک دینا چاہتا ہے کیونکہ وہ عالمی سطح پر اسلحہ کا سب سے بڑا بیو پاری ہے۔جنگیں ہوں گی تو اسلحہ فروخت ہو گا۔ امریکی صدر نے بہت واضح انداز میں دنیا کو دھمکی دی ہے کہ اگر افغانستان میں ہماری مرضی کا نظام اورلوگ نہیں آئیں گے تو دنیا بھر میں دہشت گردی کے ذریعے آگ لگا دیں گے۔ یہ عالمی برادری کو کھلی دھمکی ہے۔ یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ دہشت گردی کے واقعات ساری دنیا میں ہوتے ہیں امریکا میں نہیں وہاں صرف ایک واقعے کو دہشت گردی کہا جاتا ہے جس کے اصل منصوبہ سازوں اور عمل کرنے والوں کا نام اب تک راز میں ہے۔ طرح طرح کی کہانیاں چلا کر اس کے خلاف دلائل کو بھی سازشی سوچ قرار دیاگیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن سے دنیا کے امن پسند ممالک نہایت سنجیدگی سے یہ سوال کریں کہ ان کا اس دھمکی سے کیا مطلب ہے۔ افغانستان کو تو امریکا کم از کم دس سال کے لیے بھول جائے وہاں کون سا نظام آ تا ہے لوگ کیا چاہتے ہیں کیسا نظام چاہتے ہیں یہ امریکا کا مسئلہ نہیں۔ امریکا تو اپنے عوام کو ان کے ٹیکس کے پیسوں کا حساب دے پھرآگے کی بات کرے اورآگے کی بات بھی امن و امان والی ہونی چاہیے۔آگ و بارود کی نہیں، جوبائیڈن امریکا کے عوام کی خوشحالی کی فکر کریں اور اس امریکا کو واپس لانے کی کوشش کریںجسے جارج واشنگٹن کا امریکا کہا جاتا تھا۔ وہ لوگ کم ازکم اپنے عوام سے تو مخلص تھے۔ اب تو امریکی حکمران اپنے عوام کو بھی دھوکا دیتے ہیں اور دنیا کو بھی۔ بہر حال دنیا امریکی صدر کی دھمکی کے بعد ہو شیار رہے اسے کسی نئی لہرکا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بھی امریکیوں اور مغرب کی پالیسی کا حصہ ہے کہ تیسری دنیا خصوصاً مسلم ممالک کو اپنی جنگوں اور تجربات کا مراکز بنایا جائے۔ جنگیں بھی وہاں لڑی جائیں، تباہی بھی وہیں ہو اور اسلحہ ان کا فروخت ہوتا رہے۔ جنگوں کے پجاری ایسا ہی نظام چاہتے ہیں امن وا مان نہیں۔