سستی شہرت مہنگا پاکستان!!

203

چودہ اگست 2021 کو مینار پاکستان پہ کیا ‘‘نیا پاکستان ‘‘کی قرارداد منظور ہوئی تھی ؟ نہ لاء این آرڈر نہ کوئی نظام نہ پولیس نہ سکیورٹی نہ منظم بندوبست ؟ ہر سال چودہ اگست آزادی پاکستان منایا جاتا ہے یا ‘‘ مادر پدر آزادی’’ منائی جاتی ہے ؟ بچپن کے دریچوں میں جھانکا جائے تو ضیا دور سے پہلے جشن آزادی پاکستان نہیں ہوتا تھا بس سبز ہریالی جھنڈے لہرائے جاتے تھے پھر ضیا دور نے اصل سے توجہ ہٹانے کے لئے جشن اور ایام منانے شروع کر دئیے اور قوم کو جشنِ آزادیٔ پاکستان کے نام سے دل پشوری کے جواز مہیا کر دئیے ، پھر ہم بڑے ہوئے تو دیکھا منچلے پرچم اٹھائے شرارتیں کر رہے ہیں ، تانگے پر بیٹھی لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں۔ اس زمانے میں سوشل میڈیا نہ تھا لہٰذا چھوٹے موٹے واقعات منظر عام پر نہ آ سکے۔ لڑکیاں محتاط تھیں مگر یہ جشنِ آزادی پھر اتنی ترقی کر گیا کہ منچلے تو غنڈے بن گئے لڑکیاں ان سے بھی دو قدم آگے نکل گئیں اور اب نیا پاکستان یہاں آ کھڑا ہوا ہے کہ لڑکیاں منچلوں کو سوشل میڈیا پر دعوت نامہ بھیج کر بلاتی ہیں کہ آئو مجھے چھیڑو۔ پاکستانی مرد بحیثیت باپ بھائی شوہر بیٹا دنیا کا بہترین مرد ہے۔آج بھی پاکستان میں عورت کی عزت احترام کی جاتی ہے ، چند ایک واقعات سے پاکستان کے مرد عورت کو بدنام نہیں کیا جا سکتا۔ ٹک ٹاکر یو ٹیوبر چند ٹکوں اور سستی شہرت کے لئے پاکستان کی مہنگی عزت کو بیچ رہے ہیں۔ مینار پاکستان کا واقعہ انتہاء شرمناک ہے۔ ایک ٹک ٹاکر نے مجمع اکٹھا کیا ، اللہ جانے تمام واقعہ میں کیا سچ کیا جھوٹ ہے مگر جو ویڈیو دنیا نے دیکھی اس میں اس ٹک ٹاکر پر غنڈوں کا ایک ہجوم بھوکے کتوں کی طرح ٹوٹ پڑا ، پھر باقی حقائق خواہ کتنے کڑوے ہوں لونڈوں کی غنڈہ گردی کسی صورت قابل معافی نہیں۔ دوسرے روز اس سے بھی شرمناک واقعہ بھی یوم آزادی کو منظر عام پر آیا جب دو لڑکیاں اپنے کم سن بھائی کے ہمراہ چنگچی رکشہ پر جا رہی ہیں اور موٹر سائیکلوں پر چند لونڈے ٹک ٹاک ویڈیو وائرل کرنے کیلئے ان لڑکیوں کا تعاقب کر رہے ہیں اور ایک لڑکے نے ہراساں کرنے کی تمام حد پار کرتے ہوئے لڑکی کے ساتھ بیہودہ حرکت بھی کر ڈالی۔ وہ لڑکیاں بھی ٹک ٹاکر تھیں یا برہنہ تھیں ؟ بات کو سمجھنا ہو گا کہ اس طرح کی حرکات ویڈیوز وائرل کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کی ویڈیوز اور تصاویر مشکوک ہوتی ہیں ، ایڈٹنگ کر کے سچ اور جھوٹ میں تمیز ختم کر دی جاتی ہے۔ چند لونڈے اور نمبر دو لڑکیوں نے پاکستان کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ یوم آزادی پر جو ہلڑ بازی اور بدمعاشی کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے ، چودہ اگست کے روز پورے ملک میں کرفیو لگا دینا چاہئے ، چند برس ایسا کریں ساری قوم سدھر جائے گی۔ یہ آزادی نہیں نسلوں کی بربادی منائی جا رہی ہے۔ دوسرا المیہ لا اینڈ آرڈر ہے ، پورا ملک یتیم ہے ، مری مال روڈ ہے یا مینار پاکستان جیسا پر ہجوم مقام پولیس لسی پی کر سو رہی ہے۔ مغربی ممالک جنہیں کافر کہتے ہو وہاں برہنہ عورت کو بھی کوئی نہیں دیکھتا اور کسی عورت کو اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے پولیس آس پاس موجود ہوتی ہے ، بندہ جیل میں بند ہوتا ہے۔ نیا پاکستان کی تحریک انصاف کا دور تو کچھ زیادہ ہی غفلت کا شکار ہے۔ آئے روز واقعات رونما ہو رہے ہیں اور حکومتی مشینری مکمل بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان کی فکر پڑی ہوئی ہے کہ طالبان عورتوں پر ظلم کریں گے وغیرہ۔ فحاشی اور بے راہ روی سے متعلق جو حالات پاکستان کے ہو گئے ہیں ، اب تو یہاں بھی کوئی ملا عمر کی ضرورت نہ پڑ جائے۔پاکستانی ایک طبقہ کی اصل تکلیف ٹوپی برقعہ اور کوڑے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ طالبان نے پاکستانیوں کا قتل کیا۔دہشت گرد طالبان کرائے کے قاتل ہیں۔ ملا عمر کے طالبان نہیں ہیں ، وہ انڈین فنڈڈ کرائے کے دہشت گرد ہیں، اصل نقل میں فرق پہچانیں، اور جو کچھ آپ نے امریکہ کا اتحادی بن کر افغانستان کا قتل عام کیا اس پر بھی فاتحہ پڑھیں، ظلم کا جواب ظلم ہوتا ہے انتقام ہوتا ہے، ملا عمر اور افغانستان کے طالبان اپنا ملک سنبھال کر بیٹھے تھے آپ نے مامے امریکہ سے مل کر ان کو تورا بورا بنا ڈالا، اور پھر انہیں دہشت گرد قرار دے دیا ؟مینار پاکستان والی ٹک ٹاکر بھی آسیہ مسیح اور ملالہ یوسف زئی کی طرح باہر جانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔پاکستان عورت کے لئے غیر محفوظ ہے ؟ سب بکواس اور مغرب کا پروپیگنڈا ہے۔ مجھ جیسی تن تنہا عورت امریکہ سے آکر بلتستان سکردو سے آگے شگر کے دور دراز دیہاتوں میں گھومتی رہی ، مغرب کی عورتیں پاکستان میں تنہا گھومتی ہیں مجال ہے کبھی کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آیا ہو۔ عورت کو بھی اپنے لباس وقار کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اچھے برے مرد ہر معاشرے میں ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں بد چلن لڑکیاں مردوں کو کھلے عام دعوت نامے بھیجنے کا جو کلچر پروان چڑھا رہی ہیں ایسی لڑکیاں کس قماش کی بیویاں اور مائیں بن رہی ہیں کبھی سوچا کسی نے ؟–