کچھ نہ ہوا! صرف انسانیت چل بسی!!!

184

’’انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘ چار آدمی اپنے کندھوں پر ایک تابوت اٹھائے لہک لہک کر کہتے جارہے تھے۔ ایک منچلے نے روک کر پوچھا’’ارے بھئی یہ کیا تماشا ہے! تمہیں پتہ نہیں انسانیت کا انتقال ہو گیا‘‘ ایک نے پہلو بدلتے ہوئے جواب دیا۔ کیوں کیا ہوا تھا؟ اجی پہلے ضمیر پر بیماری کا حملہ ہوا تھا۔ علاج صحیح نہ ہوا تو مرض بڑھنے لگا پھر نفس عمارہ کی لگامیں بھی ہاتھ سے چھوٹنے لگیں اور ہوس نے بھی حملہ کر دیا۔ معالج خود ان بیماریوں میں مبتلا تھے وہ علاج کیا کرتے دو ایک جن کی لگامیں نفس عمارہ پر مضبوط تھیں انہوں نے کوشش کی مگر افاقہ نہ ہوا حواس خمسہ ناکارہ ہونے لگے۔ اعضائے رئیسہ بھی متاثر ہو گئے۔ بس پھر کیا چل بسی انسانیت ’’انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘ وہ یہ کہتے ہوئے گزر گئے۔ پوچھنے والا شہادت کی انگلی منہ میں ڈالے سوچتا ہی رہ گہا۔
انسانیت مری تو پتہ چلا خلوص، رواداری، محبت، بھائی چارہ، ہمدردی، انصاف،حرام ،حلال کی تمیز سب مٹ گئی۔ اب کوئی کٹی انگلی پر دو قطرے پانی بھی نہیں ڈالتا۔ لوگ سڑکوں پر تڑپ کر مر جاتے ہیں۔ لوٹ لئے جاتے ہیں سب آنکھیں بند کئے گزر جاتے ہیں۔ پڑوس میں بچے بھوک سے تڑپتے ہیں اور برابر والے گھر میں دعوتیں اڑائی جا رہی ہوتی ہیں۔ ڈھیروں بچا کھانا کتے بلیاں کھاتے ہیں۔ اب صرف حسرتوں کا راج ہے اور پھر حسد کا بیج دلوں میں اگتا ہے۔ انتقام، چھینا چھٹی، چوری، ڈاکہ، قتل غارت گری کے پودے پروان چڑھنے لگتے ہیں۔ حق چھینا جاتا ہے، حقوق پر ڈاکہ زنی ہوتی ہے اور پھر نفرتوں کا طوفان اٹھتا ہے جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ غریب کا بچہ چوراہوں پر اخبار بیچتا ہے یا گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا ہے۔ گاڑی کے اندر بیٹھے سکول یونیفارم میں بچے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے تو یہ غریب حسرت بھری نگاہوں سے اسے جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اسے اللہ میاں سے شکوہ ہوتا ہے۔ اُسے کیا پتہ اللہ نے تو اُسے بھی وسیلوں کے ذریعے سب کچھ مرحمت فرمایا تھا مگر اس کا کیا کیا جائے کہ وہ وسیلے ہی لٹیرے بن گئے۔
غریب ملکوں کے سربراہ قومی خزانے پر جھاڑو پھیرنے والے اور اس خزانے کو دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں لے جا کر کاروبار کرنے والے یہ ضمیر فروش بڑے قزاق نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرنے والا ہے ان کی شخصیت خاک میں مل جائے گی ان کے لوٹ مار کے مال کو ان کے ورثاء بے دردی سے خرچ کریں گے اور سزا یہ بھگتیں گے۔’’ پلائو کھائیں احباب فاتحہ ہو گا‘‘۔ کہانی ختم شد ہو گی۔ عذاب شروع ہو جائے گا۔ دنیا میں یہ لوگ لوٹ کے مال پر غرور میں ڈوبے ہوتے ہیں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے بعض کو تو اپنے کئے کی سزا یہاں پر مل جاتی ہے اور دوزخ میں بھی شایان شان استقبال ہوتا ہے۔
سنا ہے ضمیر بیچارہ کوڑیوں کے داموں بک رہا ہے۔ کوئی خریدنے کو تیاری نہیں کہتے ہیں ’’تم نے ہم پر بڑی قدغنیں لگائی تھیں، دنیا کے سارے لطف غصب کر لئے تھے۔ آج تم سے آزادی پا کر ہم بڑے خوش ہیں۔‘‘
نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جنہیں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک تقریر کے دوران گولی مار دی گئی تھی اور ان کے قاتل آج تک نہ پکڑے جا سکے۔ جیسے بے نظیر ، ضیاء الحق وغیرہ کے ۔ تو آپ کو بتانا یہ تھا کہ پہلے وزیراعظم کی اولاد کسمپرسی میں اپنا وقت گزار رہی ہے۔ نوابزادہ صاحب نے اپنی تمام دولت پاکستان کے اوپر قربان کر دی اور آج ان کی اولاد علاج معالجے سے بھی محروم ہے۔ ان کا بیٹا اکبر شدید بیمار ہے اور ’’ڈائی لیسز‘‘ پر ہے تو ان کی بیگم صاحبہ نے حکومت سندھ سے مدد کی درخواست کی۔ وہ لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں اس کا انہوں نے کوئی تذکرہ نہیں کیا وہ بنیادی ضروریات سے کے حصول سے بھی محروم ہیں۔ بیگم صاحبہ نے صرف اپنے شوہر اکبر صاحب کے ’’ڈائیلسز‘‘ کے اخراجات جو ایک لاکھ 35ہزار بنتے ہیں حکومت سے ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگا تھا۔ یہ درخواست جناب زرداری سے کی گئی تھی جسے حکومت سندھ کے دانشوروں نے عام کر دیا۔
انسانیت کی تعزیت کس سے کریں؟ اس کا کوئی رشتہ دار ،جاننے والا نظر نہیں آتا؟
انسانیت گئی، تہذیب و تمدن بھی ساتھ لے گئی، ستر پوشی کے نام پر چیتھڑے ہی جسم پر لٹکتے رہ گئے۔ بزرگوں کا کوئی احترام نہ رہا۔ ’’اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ‘‘ کہہ کر تمسخر اڑایا گیا۔ پرانے صوفے کی طرح ایک طرف ڈال دیا گیا۔ عزتوں کا جنازہ اٹھا گیا۔ کیسے کیسے روح فرسا واقعات سننے اور دیکھنے میں آئے۔ ایک روایت ہے کہ قرب وقیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ’’گائے گندگی کھائے گی اور لڑکیاں بر مانگیں گی ‘‘ ن لیگ کا ارسطو ،نواز چور، ڈاکو، جھوٹے مکار کی محبت میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ اس نے اپنے دور کے یزید کو کہاں بٹھا دیا۔ اپنی عاقبت کو آگ لگا دی، کیا نبی اس کی شفاعت کو آئیں گے۔ تم تو ان کی خاک پا کے برابر بھی نہیں۔ ایسی ہی کچھ باتیں صفدر اعوان نے اپنی جھوٹی، مکار، بدکردار اہلیہ کے بارے میں کی تھیں۔ اللہ کے واسطے اپنے دہن غلیط پر ان کا نام بھی مت لو۔ غیر قومیں بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں ایسی قربانی کی مثال تاریخ اب تک پیش نہ کر سکی۔ صرف ایک چھ ماہ کے حضرت علی اصغر کی پیاس کی بابت کوئی جواز پیش نہ کر سکی۔ بی بی سکینہ معصوم کی تڑپ اپنے چچا اور باپ کے لئے بیان نہ کر سکی۔ وہ معصوم بچی جب پیاس سے بے تاب کوزہ لئے فوج اشقیا کے سامنے کھڑی تھی اور ظالم اپنے گھوڑوں کو پانی پلا کر بچاہوا پانی زمین پر بہارہے تھے قہقہے لگارہے تھے اس معصوم کی مایوسی سے لطف اندوز ہورہے تھے جس سے کہا گیا تھا کہ گھوڑوں کو سیراب کر کے تمہیں پانی دیں گے۔ یہ بھی تمہارے لیڈر جیسے ہی مسلمان تھے جو غریبوں کو بھوک سے تڑپٹا چھوڑ گئے اور جن کی روسیاہ بیٹی ڈیڑھ لاکھ کا جوتا پہنتی ہے۔
اے ن لیگی ارسطو تیرے اوپر لعنتیں بے شمار