اسرائیلی وزیراعظم، جو بائیڈن پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بحال نہ کرنے پر زور ڈالیں گے

272

امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینٹ کی پہلی ملاقات جمعہ کو ہونے جارہی ہے، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے جو بائیڈن پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بحال کرنے کا ارادرہ ترک کرنے لیے زور ڈالے جانے کا امکان ہے۔

واشنگٹن پہنچنے سے قبل نفتالی بینیٹ نے واضح کیا کہ وائٹ ہاؤس کے دورے میں ان کی اولین ترجیح جو بائیڈن کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی طرف دوبارہ نہ لوٹیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران پہلے ہی یورینیم کی افزودگی کرچکا ہے اور پابندیوں میں نرمی سے اسے خطے میں اسرائیل کے دشمنوں کی حمایت کے مزید وسائل دستیاب ہوجائیں گے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات جمعرات کو ہونے تھی لیکن کابل ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کے بعد جو بائیڈن کی قومی سلامتی کے مشیروں سے ہونے والی ملاقات کے باعث اسے آگے بڑھا دیا گیا۔

اسرائیلی رہنما نے بدھ کو سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن اور سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جن مین ایران اور دیگر معاملات کے حوالے سے بات چیت ہوئی، بطور وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا یہ امریکا کا پہلا دورہ ہے۔