بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

299

اشرف غنی کا کابل سے فرار،تاریخ ساز لمحہ صدارتی محل میں صدر کی کرسی پر بیٹھ کر تلاوت قرآن!!15اگست 2021ء بروز اتوار آسمان اور کل عالم نے وہ نظارہ دیکھا جو شائد کسی انسان کے ذہن میں دس دن پہلے تک نہ کبھی تھا اور نہ آیا ہو گا ، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ طالبان دس دنوں میں پورے افغانستان پر قبضہ کر لیں گے۔ امریکی حکومت جس نے 11ستمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی اور امریکی حکومت کو یہ یقین تھا کہ 11ستمبر کے بعد بھی اشرف غنی کی فوجیں کافی دنوں تک طالبان کو روکے رکھیں گی طالبان کا کابل میں داخل ہونا اتنا آسان نہ ہو گا۔ ۸۰ ہزار طالبان کے سامنے اشرف غنی کی ساڑھے تین لاکھ تربیت یافتہ فوج تھی جس کو فضائیہ کی بھی سپورٹ حاصل تھی۔ اس کے علاوہ امریکی سپاہی جو خود بھی جدید ترین اسلحہ سے لیس تھے مالی طور پر سب سے طاقتور ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ جو افغانستان میں 20سال سے موجود تھے جنہوں نے طالبان کو ختم کرنے کے لئے کارپٹ بمبنگ کی تھی اربوں ڈالر افغانستان میں خرچ کر کے بھی وہ چند ہزار طالبان پر قابو نہ پا سکے تھے۔ تھک ہار کرامریکی صدر ٹرمپ نے جرأت مندانہ فیصلہ کیا اوراپنی فوجوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔ بائیڈن نے آنے کے بعد اُسی پالیسی کو آگے بڑھایا اور واپسی کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن کسی امریکی تھنک ٹینک کو یہ اندازہ نہ تھا کہ معاہدہ ہوتے ہی طالبان اس تیزی سے آگے بڑھیں گے اور چند دنوں میں پورے افغانستان پر قبضہ کر لیں گے۔
لوگوں کو یہ خیال رہا ہو گا کہ ملا عمر کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد طالبان کا زور ٹوٹ جائے گا لیکن ہیبت اللہ اخوانزادہ نے نئے امیر بنتے ہی اس مشن اور جنگ کو اُسی زور شور سے جاری رکھا۔ امریکہ نے جب قطر میں مذاکرات کا آغاز کیا تو زلمے خلیل زاد کو یہ اندازہ نہ رہا ہو گا کہ ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں طالبان وفد اس قدر سخت شرائط کے ساتھ ٹیبل پر آئے گا۔ طالبان نے کسی مرحلہ پر امریکہ کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ اناڑی ہیں یا کمزور ہیں جبکہ اشرف غنی کابل میں بیٹھ کر زلمے خلیل زاد سے ہر بات پر رابطے میں رہا لیکن تاریخ کو کون بدل سکتا ہے۔ لمبی داڑھی اور اونچی شلوار پہننے والے طالبان نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو 20سال تک الجھائے رکھا اور کبھی بھی امریکہ کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ جنگ جیت رہا ہے دنیا کی ساری فوجیں امریکہ کی سربراہی میں تھک گئیں اور آہستہ آہستہ افغانستان سے رخصت ہونے لگیں۔ اب امریکہ بھی افغانستان سے اپنے دوست اشرف غنی کیساتھ نکل گیا پشاور کے سکول کا استاد اشرف غنی کے خواب و خیال میں بھی یہ نہ تھا کہ وہ اس قدر ذلیل ہو کر کابل سے فرار ہو گا۔ فیس بک پر بھاگتے ہوئے اس نے پیغام لکھا کہ عوام کا خون خرابہ بچانے کی خاطر میں استعفیٰ دے رہا ہوں اس کے ساتھ ساتھ اس کا نائب صدر امر اللہ صالح اور محب بھی اسی کے جہاز میں بیٹھ کر تاجکستان فرار ہو گئے۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ وہ وہاں سے اومان پہنچ گئے۔ آخری سیاسی پناہ ان کو امریکہ میں ملے گی یا کسی اور ملک میں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ طالبان نے وقت سے بہت سبق سیکھا شاہین اور ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ساتھیوں کو سختی سے منع کیا کہ کسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا کسی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ عورتوں پر برقع کی سختی نہیں کی جائے گی۔ سب کو عام معافی یہاں تک کہ اسماعیل خان گورنر ہرات کو بھی سمجھوتہ کے بعد جانے دیا گیا وگرنہ اسماعیل خان نے طالبان کے اوپر بہت ظلم کئے تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان کمانڈر جب کابل کے صدارتی محل میں داخل ہوئے تو ایک کمانڈر نے اشرف غنی کی صدارتی کرسی پر بیٹھ کر تلاوت کلام پاک بآواز بلند ادا کیاور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ اشرف غنی بھاگ گیا اور طالبان کمانڈر آ کر اس کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ یہ نظارہ پوری دنیا نے ٹی وی پر دیکھا۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ اشرف غنی نے بھاگنے سے پہلے کوشش کی کہ3 گاڑیوں میں جتنے ڈالر بھر سکتا ہے وہ لیکر کابل سے فرار ہو لیکن امریکی انتظامیہ نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا وہ صرف ایک گاڑی میں جتنی دولت اور سونا لیکر بھاگ سکتا تھا اپنی فیملی کے ساتھ بھاگ گیا۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ طالبان کا ایک وفد پاکستان پہنچ گیا جس میں احمد شاہ مسعود کے دو بھائی بھی شامل ہیں۔ عمران خان نے اپنے کمانڈروں کا اجلاس بھی مشاورت کے لئے طلب کر لیا ہے ساتھ ہی ساتھ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی ہوچکا ہو گا۔ خبریں بہت تیزی سے آتی چلی جارہی ہیں۔ فوری طور پر صدر کے لئے علی احمد جلالی کا نام لیا جارہا ہے جو امریکن شہری ہیں لیکن افغانی ہیں تاکہ غیر جانبدار الیکشن کرا سکیں۔ عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کے بھاگنے پر دلچسپ تبصرہ کیا کہ ’’خدا ان کے ساتھ انصاف کرے گا‘‘ وہ ابھی افغانستان میں حامد کرزئی کے ساتھ موجود ہیں آئندہ افغانستان میں کیا ہو گا اور کس کی حکومت ہو گی کسی کو نہیں معلوم لیکن حالات بتارہے ہیں کہ طالبان ماضی سے سبق سیکھ کر بہتر طریقے سے حکومتی نظام چلائیں گے۔