قبلہ درست کیجئے، حضور !

354

کائنات کا پیدا کرنے والا اپنی کتابِ مبین میں جہاں ان قوموں کی تباہی اور بربادی کا تذکرہ کرتا ہے جنہوں نے اس کے قوانین کے خلاف عمل کیا اور زمین میں فساد پھیلایا تو وہیں، فوری بعد، وہ اپنے بندوں کو تاکید کرتا ہے کہ تمہیں اگر شعور ہے اور تمہاری چشمِ بصیرت بند نہیں ہوئی ہے تو ایسے واقعات و حادثات سے عبرت حاصل کرو۔ قرآن کریم کی یہ آیت تو سب کو ہی یاد ہوگی، فاعتبرو یا اولی الابصار۔
لیکن انسانوں میں کتنے ہیں جو عبرت حاصل کرتے ہیں یا عبرت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں؟ اور افراد سے زیادہ کتنی ایسی قومیں ہیں جو طاقتور ہوتی ہیں، اور اس طاقت کے گھمنڈ میں دنیا میں فساد برپا کرتی پھرتی ہیں اور اکثر منہ کی کھاتی ہیں لیکن پھر بھی اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرتیں، اور جب غلطی تسلیم نہیں کرتیں تو عبرت بھی حاصل نہیں کرتیں اور پھر قدرت انہیں اس طرح بھی سزا دیتی ہے کہ وہ بار بار اپنی غلطیوں کو دہراتی ہیں اور دنیا کو اپنے پر ہنسنے کا موقع فراہم کرتی ہیں؟
ہمارے اس عہد کی تاریخ میں، جو بیسویں صدی کے نصف اول میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد شروع ہوئی، دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت امریکہ ہے جو اپنی طاقت اور اسلحہ کی ریل پیل کی بنیاد پر گزشتہ ستر برس سے دنیا کے ہر خطے میں فوجی مداخلت کرتا آیا ہے۔ بلکہ اگر سابق صدر جمی کارٹر کی بات پر یقین کیا جائے، اور یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، تو ان کے بقول امریکہ اپنی کوئی ڈھائی سو برس کی تاریخ میں بمشکل کوئی بیس برس امن کی حالت میں رہا ہے بقیہ پورے وقت وہ دنیا کے کسی نہ کسی خطے اور علاقے میں جنگی کارروائیوں میں مصروف رہا ہے۔ لیکن اس عمل میں امریکہ نے مسلسل ہزیمت اور ناکامی کا منہ دیکھا ہے۔ کوریا کی جنگ سے لیکر افغانستان کی جنگ تک، جو امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ ثابت ہوئی ہے، امریکہ نے یہ وطیرہ اپنایا ہے کہ وہ بہت دھوم دھام سے جنگ کا آغاز کرتا ہے لیکن چند برس بعد ناکامی کا سامنا کرتے ہوئے چپ چاپ، خاموشی سے، جنگ کو ادھورا چھوڑ کر یا شکست کھاکے محاذِ جنگ سے نامراد نکل جاتا ہے۔
یہ سلسلہ کوریا سے شروع ہوا تھا، جہاں چین اور شمالی کوریا کی ان افواج نے جن کے پاس امریکہ جیسا جدید اور مہلک اسلحہ نہیں تھا، اپنے عزم و حوصلہ کی طاقت سے امریکہ کو دھول چاٹنے اور جنگ بندی پہ مجبور کردیا تھا۔ پھر اس کے بیس برس بعد ویتنام میں، جہاں دس برس کی طویل جنگ میں امریکہ کے کوئی ساٹھ ہزار فوجی ہلاک ہوئے، یہی عبرتناک انجام ہوا جب امریکی افواج شکست خوردہ، لشتم پشتم، ویتنام سے نکلیں اور چشمِ فلک نے یہ منظر دیکھا کہ ایک طرف ویتنام کے حریت پرست فوجی جوان سائیگون شہر میں اپنی آنکھوں میں فتح کے ستارے سجائے داخل ہورہے تھے تو دوسری طرف امریکہ کا سفارتی عملہ سفارت خانے کی چھت سے ہیلی کاپٹروں میں فرار ہورہے تھے اور ان کا ساتھ دینے والے ویتنامی خواص و عوام سفارت خانے کے بند پھاٹک کو کھولنے کیلئے دہائی دے رہے تھے۔
لیکن اس عبرتناک شکست سے امریکہ کے پالیسی سازوں اور لیڈروں نے کوئی سبق نہیں لیا اور جب اکیسویں صدی کے آغاز پر نیویارک میں دہشت گردوں نے اس دن جسے تاریخ میں نائن الیون کے عنوان سے رقم کیا جاتا ہے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو گرایا تو اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے فوری بعد افغانستان پر اس الزام میں دھاوا بول دیا کہ اس نے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے سرغنہ، اسامہ بن لادن کو پناہ دی ہوئی تھی اور امریکہ کے مطالبہ کے جواب میں اس نے اسامہ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کرنے کی جسارت کی تھی۔
بش کو اپنی عسکری طاقت کا گھمنڈ تھا۔ غصہ تھا اس بات پر کہ افغانستان جیسے پسماندہ ملک نے جس پر اس وقت طالبان کی حکومت تھی امریکہ بہادر کا فرمان نہ ماننے کی غلطی کی تھی لہٰذا بش کے خیال میں پتھر کے دور میں بسنے والے طالبان کو سبق سکھانے کی ضرورت تھی تاکہ آئندہ کوئی غریب اور نادار ملک دنیا کی سب سے مضبوط فوج کے سامنے آنے اور کھڑے ہونے کی گستاخی نہ کرسکے۔ ان کے خیال میں افغانستان میں فوجی مداخلت کا وہ نتیجہ سامنے آنے میں جو وہ چاہتے تھے، یعنی طالبان کی شکست اور اس واسطے سے اسامہ بن لادن کی امریکی تحویل، چند دن سے زیادہ نہیں لگنے چاہئے تھے یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتے۔ لیکن اپنے اس زعم میں انہیں کوریا اور ویتنام کی تاریخ بالکل یاد نہیں رہی تھی جہاں افغانوں جیسے کم اسلحہ اور ہتھیاروں والوں نے امریکی عسکری برتری کی قلعی اتار دی تھی۔
طاقت کا زعم برا ہوتا ہے اور اس کے نشہ میں ہر طالع آزما یہ سوچتا ہے کہ جو اس کے پیشرو کے ساتھ ہوا تھا وہ اس کے ساتھ نہیں ہوگا۔ سو بش جونئیر نے بھی یہی گمان کیا ہوگا کہ ان کی افغانستان میں مداخلت کا حشر وہ نہیں ہوگا جو کوریا یا ویتنام میں ہوا تھا۔ لیکن آج جو منظر نامہ افغانستان میں ترتیب پارہا ہے اور جس شکست خوردگی کے عالم میں امریکہ بہادر بیس برس تک اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑنے اور اس میں رسوا ء ہونے کے بعد افغانستان سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں اسے دیکھ کر قرآن کا یہ سبق پکار پکار کر اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے: فاعتبرو یا اولی الابصار!
نو دن پہلے تک افغانستان کے کسی بڑے شہر یا صوبائی مستقر پر طالبان کا قبضہ نہیں تھا لیکن آج، نو دن بعد صورتِ حال یہ ہے کہ کابل کے سوا افغانستان کا ہر بڑا شہر طالبان کے قبضہ میں ہے، یہ سطور لکھی جارہی تھیں تو تازہ ترین خبر کے مطابق جلال آباد بھی ان کے قبضہ میں چلا گیا یہ وہ شہر ہے جو پاک- افغان بارڈر، یعنی طورخم اور کابل کے درمیان واحد اہم شہر ہے اور اس پر طالبان کے قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ اب کابل کے گرد ان کا گھیرا تنگ ہورہا ہے اور عین ممکن ہے کہ جب تک یہ سطور آپ کی نظر سے گذریں تو کابل پر بھی طالبان کا قبضہ ہوچکا ہو گا۔
بیس برس تک امریکہ افغانستان پر قہر ڈھاتا رہا۔ محتاط اندازہ کے مطابق بیس برس طویل امریکی قبضہ کے دوران امریکہ کے دو کھرب ڈالر سے زائد اس جنگ اور عسکری طاقت کے مظاہرے پر خرچ ہوئے۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ امریکی فوجی مارے گئے، ایک ہزار سے زائد امریکہ کے نیٹو اتحادی ممالک کے فوجی ہلاک ہوئے، افغان فوج کے مرنے اور ہلاک ہونے والے سپاہیوں کی تعداد کوئی پچاس ہزار کے لگ بھگ بتائی جارہی ہے اور افغان شہری اور عوام کتنے اس امریکی غلبہ کی نذر ہوئے اس کا صحیح شمار کوئی نہیں اور شاید کبھی نہیں ہوگا۔ لیکن وہ جو کہاوت ہے کہ جب ہاتھی جھوم کے جنگل میں نکلتا ہے تو اس کے پاؤں کے نیچے سینکڑوں ہزاروں چھوٹے موٹے کیڑے اور چیونٹیاں کچلی جاتی ہیں تو ان معصوم افغان شہریوں کو کون شمار کریگا جو بد مست امریکہ کے شکار ہوئے جب دنیا کی سب سے طاقتور فوج کے اہلکار انہیں اکثر شوقیہ بھی اپنی بندوقوں کا رزق بنالیا کرتے تھے۔ طاقت کے نشہ سے چور ان بدمست فوجیوں کیلئے وہ بیگناہ افغان شہری کیڑے مکوڑے ہی تو تھے۔ سو ان کا کیا رونا۔
امریکہ اپنی اس عبرتناک شکست اور پسپائی سے کوئی سبق حاصل کرے گا؟ اس سوال کا جواب مشکل ہے۔ تاریخ اگر رہنمائی کرتے تو جواب اثبات میں نہیں ہوگا۔ کل کو کسی اور ملک پر اسی طرح، ایسے ہی طاقت کے گھمنڈ میں چڑھ دوڑے گا یہی سوچ کے کہ اس کا انجام افغانستان جیسا نہیں ہوگا۔ آنکھوں پر جب پردے پڑجائیں تو یہی حشر ہوتا ہے ورنہ تو عبرت کا سبق ورق ورق پر ہے۔ کیا انجام ہے کہ آج امریکی محکمہء خارجہ انہیں طالبان سے جنہیں ختم کرنے اور مسل دینے کیلئے امریکی افواجِ قاہرہ افغانستان میں فساد برپا کرنے کیلئے گئی تھیں یہ التجا کررہا ہے کہ کابل میں اس کے سفارت خانے کو نہ چھیڑا جائے۔
عبرت ہم پاکستانیوں نے بھی کب حاصل کی؟ اور یہ سوال پوچھنا آج برمحل یوں ہے کہ ہم آج اپنی آزادی کا 75 واں جشن منارہے ہیں اور اسی تزک و احتشام کے ساتھ منارہے ہیں جو اب ہماری قومی روایت بن چکا ہے۔ لیکن یہ سوال کرنا بالکل جائز ہے کہ کیا ہم نے اپنے ملک کو، اپنے وطن کو، جس کیلئے ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی، اسی طرح سے پروان چڑھایا ہے جیسے پاکستان بنانے والے بابائے قوم، حضرت قائدِ اعظم کی خواہش تھی؟
نہیں، ہم نے بالکل اس طرح کا پاکستان نہیں بنایا جیسا بابائے قوم چاہتے تھے اور جس کا تصوراتی خاکہ وہ ہمیں بہت واضح دیکر گئے تھے لیکن ہم نے کیا کیا؟ ہم نے تو یہ کارنامہ سرانجام دیا کہ قائدِ اعظم کے پاکستان کو، ان کے عظیم ورثہ کو، چوبیس برس میں دو ٹکڑے کرکے رکھ دیا، اپنا مشرقی بازو گنوا دیا لیکن اس کے باوجود کوئی سبق نہیں لیا، کچھ نہیں سیکھا اس سانحہء عظیم سے۔ اور یاد ہے داناؤں نے کیا کہا ہے کہ سب سے بدنصیب اور نادان وہ قوم اور وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی ہی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھتے۔
قدرت کا ایک اٹل قانون یہ بھی ہے کہ جو افراد یا جو قوم اپنی تاریخ سے، اپنی فاش غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھتے وہ ان ہی غلطیوں کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ افغانستان کی حالیہ صورتِ حال کی زندہ اور تابندہ مثال ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ نے اپنے گھمنڈ میں ویتنام کے تلخ تجربے سے کچھی نہیں سیکھا اور اسی طرح افغانستان میں جا گھسا جیسے ویتنام میں گیا تھا تو دیکھئے کیا حشر ہوا اور ہورہا ہے کہ جن کو ختم کرنے اور مٹانے کیلئے گئے تھے اب ان ہی سے فریاد کررہے ہیں کہ ہمارے سفارت خانے کو تو بخش دو۔ تو ہم نے بھی یہی کیا کہ جو غلطیاں مشرقی پاکستان میں کی تھیں وہی بلوچستان میں کررہے ہیں اور اس توقع پہ کررہے ہیں کہ اس کا انجام وہ نہیں ہوگا جو مشرقی پاکستان میں ہوا تھا۔
ہماری ملکی سیاست کا اونٹ بھی اسی طرح شترِ بے مہار بنا ہوا ہے جیسے سقوطِ ڈھاکہ کے وقت تھا۔ دراصل ضرورت ملک کے سیاسی نظام کو بدلنے کی ہے، اپنا قبلہ درست کرنے کی ہے۔ یہ ماننے کی ہے کہ دقیانوسی پارلیمانی طرزِ جمہوریت پاکستان کے معروضی حقائق کے پیشِ نظر ہمارے لئے موزوں نہیں ہے اور ہمارے مسائل کا حل اس میں نہیں مل سکتا اسلئے کہ جنہیں ہم نے اس نظامِ حکومت کے تحت جمہوریت کا محافظ اور نگران بنایا ہوا ہے وہ اس کام کے اہل ہیں ہی نہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔
قوم کی ضرورت نظام کو بدلنے کی ہے، قبلہ درست کئے بغیر کچھ نہیں ہوگا نہ دنیا سلامت رہے گی اور نہ ہی عاقبت سنورے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق لیں، اپنی کوتاہیوں سے عبرت حاصل کریں اس سے پہلے کہ وہ گھڑی آجائے جس میں منزل کے نشانِ راہ بالکل ہی معدوم ہو کے رہ جائیں۔
جب ہم اپنی نجات کی، اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو ہندوستان کے مسلمانوں کو بار بار یہ تلقین کی جاتی تھی
نہ سنبھلوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
تو آج اس شعر، اس نعرہ میں، تھوڑی سی تحریف کرکے یوں کہا جاسکتا ہے:
نہ سنبھلوگے تو مٹ جاوگے اے ارضِ وطن والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!!
——————————————————————————–