عشروں تک !!

230

کبھی سوچا ہے کہ 1947کے بعد پاکستان میں کوئی دانشور، شاعر، ادیب یا سائنس دان پیدا کیوں نہیں ہوا، اس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ پاکستان کا نظام تعلیم درست سمت میں نہ تھا اور عہد حاضر کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا، یا یہ کہ انگریزی نظام تعلیم کو معطل کر کے تعلیم کا معیار برقرار نہ رکھا جاسکا، اب سوال یہ ہو گا کہ پاکستان کا معیار تعلیم درست سمت میں کیوں نہیں تھا اور انگریزی نظام تعلیم اگر اقبال، ڈاکٹر عبدالسلام، پرویز، ابوالکلام آزاد، سرظفر اللہ، فیض، ن م راشد پید اکر سکتے ہیں تو یہ نظام کیوں برباد کر دیا گیا؟ ایک بات تو یہ کہ پاکستان کی قسمت میں کوئی ایسا لیڈر نہیں آیا جس کو یہ پتہ ہو کہ پاکستان کی مستقبل کیا کیا ضروریات ہیں دس گیارہ سال تک رسہ کشی ہوتی رہی اور آخر کار مارشل لا لگ گیا اور تب سے اب تک تعلیم کا معیار گرتا چلا گیا، بات یہ ہے کہ پاکستان کے دینی حلقے انگریزی نظام سے نکلے ہوئے سبط حسن، عباس جلال پوری، ڈاکٹر مہدی، ڈاکٹر منظور علی سے بہت خائف تھے ان کو معلوم تھا کہ ان کا نظریہ پھیلا تو بیداری پھیلے گی اور دینی حلقوں کی فکر پر سوال اٹھنے لگیں گے جن کے جواب ان کے پاس نہیں ہیں، اور آپ نے دیکھا کہ جیسے ہی علم کی تھوڑی روشنی پھیلی ولی پیدا ہونا بند ہو گئے کرامات چلی گئیں اور جیسے ہی سوشل میڈیا نے پر پھیلائے تو سوالات اٹھنے لگے اور جواب ندارد، نفسیات سے تھوڑی سی شدبد رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ عوام فنون لطیفہ سے دور ہو چکے ان کی زندگی میں کوئی رنگینی نہیں ہے سینمااور تھیٹر برباد ہوئے اب لوگ مسجدوں، مزاروں اور جلسے جلوس کو تفریح کا ذریعہ جانتے ہیں مگر DENIALمیں ہیں۔
تعلیم کے انحطاط کی ساری ذمہ داری پاکستان کے فیوڈل لارڈز پر ڈالی جا سکتی ہے، یہ فیوڈل لارڈز نادیدہ طور پر سامراجی طاقتوں کے گماشتے تھے، ایک بات قابل غور ہے کہ ضیاء الحق کے زمانے سے حکمران اب تک ایک خاص سائیکی رکھتے ہیں اور وہ مختلف حیلے بہانوں اور نعروں سے عوام کی توجہ اصل حقائق سے ہٹا دیتے ہیں اور ایک بہت دلکش نعرہ جو وضع کیا گیا وہ کرپشن کا تھا اور لطف یہ کہ ہر حکمران اپنے پیشرو پر کرپشن کے الزامات لگاتا رہا، اور کرپشن ختم نہ ہو سکی، یہ طریقۂ واردات تشکیل پاکستان کے فوراً بعد ایجاد ہو گیا تھا، اس کی دلکشی ماند نہ پڑ سکی اور آج بھی عمران حکومت یہ اصرار کرتی ہے کہ اس کو کرپشن کے خلاف جہاد کا ہی مینڈیٹ ملا ہے، حالانکہ ایسا نہیںہوتا کوئی بھی نئی حکومت پورے ملک کی معاشی اور سماجی حالت کو بدلنے کے لئے آتی ہے، ضیاء کے بعد ملک کی معاشی اور سماجی حالت نہیں بدلی پورے بیالیس سالوں میں حکومتوں کاایک خاص پیٹرن نظر آتا ہے اور دکھائی دیتا ہے کہ بہت سائنسی انداز میں قوم کو مختلف نعروں میں الجھا کرایک خاص سمت کی جانب دھکیلا جاتا رہا ہے، ایک کتاب جو1955 میں شائع ہوئی اور بہت مقبول ہوئی اس میں JEFFERY PITTSنے لکھا کہ نو آبادیات کو اپنے ماضی میں بہت محبت ہے اگر ان سے یہ وعدہ کر لیا جائے کہ ان کو ماضی کی جانب لوٹا دیا جائے گا تو وہ کوئی مزاحمت نہیں کریں گے اور اس کے لئے مذہب ایک موثر ٹول ہو سکتا ہے، JEFFRY PITTSنے لکھا کہ سامراجیت سے نفرت پیدا کی جا سکتی ہے اور ان کو سمجھایا جاسکتا ہے کہ جو قومیں ان کو غلام بنانے کی ذمہ دار ہیں ان کے نقش قدم پر نہ چلا جائے، غیر منقسم ہندوستان پر JEFFRY PITTSکے نظریے کا پورا اطلاق ہوا، انگریزی تعلیمی نظام سے جو ذہنی بیداری آئی وہ تقسیم کے بعد بتدریج ختم ہوتی چلی گئی ہم ماضی پرست ہو گئے ہیں آج بھی ہم نئے روشن خیال کسی نظام کی بجائے خلافت کی واپسی کے خواہاں ہیں اور انگریزوں کو گالی دینا اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں اور ہمیںبنیاد پرستی میں سکون ملتا ہے، بھٹو نے کئی ظلم کئے مگر عوامی سوچ کاتعارف غیر محسوس طریقے سے ہمیں بنیاد پرستی کی طرف لے گیا، اور دینی حلقوں نے بھی اس طرز کو خوش آمدید کہا، ضیاء الحق کے زمانے سے آج تک غیر محسوس طریقے سے فیوڈل لارڈز ملک پر قابض ہیں اور سامراجی عزائم پورے کررہے ہیں، اس میں فوج نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، ادارے تباہ کئے گئے اور فوج شہروں کی ضرورت بن گئی ایک تسلسل کے ساتھ ملک میں PROGRESSIVE THOUGHTکو آنے سے روکا گیا، حتیٰ کہ وہ سارا ترقی پسندانہ مواد کالجوں اور جامعات میں موجود تھا شلف سے غائب کر دیا گیا۔
عمران کو ایک ہموار LEVEL PLAYING FIELDمیسر آئی ان کے ذمہ یہ فریض تفویض کیا گیا کہ وہ پاکستان کو افغانستان کی سطح پر لے جائیں، بڑی تندہی سے وہ یہ کام سرانجام دے رہے ہیں وہ بنیاد پرستوں کے قافلے کے سرخیل ہیں، طالبان سے ان کے دیرینہ رشتے ہیں تین سالوں میں ملک کی معاشی حالت پتلی ہو گئی مگر بات کٹوں، چوزوں، لنگر خانوں اور پناہ گاہوں سے آگے نہیں بڑھ سکی، جو لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں شکست ہو گئی وہ امریکی سیاست کی کسی کل سے واقف نہیں وہ زمانے لد گئے جب حملہ آور اپنی فتح کا اعلان کرتے تھے امریکہ نے جب ویت نام میں جنگ چھیڑی تو روس اور چین کو الجھا کر SPACEمیں جا بیٹھا اور جب عراق میں آیا تو اس نے ساری دنیا کو CLASH OF CIVILIZATIONSکے فلسفے میں الجھا دیا اور جب افغانستان میں آ کر بیٹھا تو اس خطے کی معاشی، سماجی اور سیاسی ترقی کو بریک لگا دئیے، ہر چند کہ روس کو پیوٹن کی سربراہی میں سنبھلنے کا موقع ملا، مگر وہ خطے میں موثر کردار ادا نہ کر سکا، اب پاکستانی دانشور لاکھ کہتے ہیں کہ امریکہ کو شکست ہوئی اس سے فرق نہیں پڑتا، امریکہ کا منشا لگتا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہو اور خطہ عشروں تک نہ سنبھل سکے حتیٰ کہ چین بھی تھک جائے، غور کیجئے کہ پاکستان کی معاشی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی حالت پر اقوام متحدہ کی رپورٹس آتی رہتی ہیں مگر اقوام متحدہ ان کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان کو مجبور نہیں کرتا امداد دنیا کی ناک کے نیچے خردبرد ہوتی ہے یہ ایک طریقے سے کرپشن کے مواقع فراہم کرنا تھا یہ صورت حال صرف پاکستان کے ساتھ نہیں اس پالیسی کو تیسری دنیا کے ہر ملک میں اپنایا گیا اور تیسری دنیا کے حکمرانوں کا IQہمیشہ سے اتنا پست رہا کہ وہ ان پالیسیوں کو سمجھ ہی نہ سکے، عمران بھی سامراجیت کے مقاصد پورے کرنے کا ایک ذریعہ ہیں جن کو فوج اور بنیاد پرستوں کی پوری حمایت حاصل ہیں اور پس پردہ یہ دینی حلقے بھی سامراجیت کے معاون ہیں جو بظاہر مغرب کو گالیاں دیتے ہیں، پاکستان عمران کی پالیسیوں کے سبب عشروں تک اس مشکل سے باہر نہیں آسکے گا سامراجی طاقتوں نے ملک کے اندر ہی اتنے گماشتے خرید رکھے ہیں جو روشن خیال ذہین اور مخلص لیڈر بننے دیں گے اور نہ پنپنے دیں گے بظاہر سی پیک کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا اور ایسا بھی نہیں کہ وہ پاکستان کا طفیلی بنا کر چھوڑ دیں گے چینی قرضے پاکستان کے گلے کا پھندا بنے رہیں گے۔