’’پھر سے 14اگست ‘‘

232

پچھلے سال چودہ اگست آئی اور چلی گئی، پتہ ہی نہیں چلا، 2020ء ایک ایسا سال تھا جو ہم سب کو اچھی طرح یاد رہے گا، اس لئے نہیں کہ اس سال میں بہت کچھ ہوا بلکہ اس میں کچھ بھی نہیں ہوا اور جو کچھ ہوا وہ صرف برا ہوا۔ 2020ء ایک عام سال کی طرح شروع ہوا تھا لیکن پھر کچھ ہی وقت میں یہ احساس ہو گیا کہ یہ ختم کسی عام سال کی طرح نہیں ہو گا۔
جنوری 2020ء میں چائنا اور پھر مارچ 2020ء میں یو ایس اے تک یہ Covidکی وباء ایسی پھیلی کہ نہ صرف یو ایس اے بلکہ آہستہ آہستہ پوری دنیا ہی بند ہو گئی بلکہ بند کر دی گئی۔ دنیا میں کچھ ایسا نہیں ہوا تھا کہ پٹرول کی فروخت 50فیصد تک کم ہو گئی ہو جیسا کہ2020ء کے دوران ہوا۔ سکول، دفتر، بازار شہر کے شہر بند تھے، وہ ایئرپورٹس جہاں سے روز تیس تیس ہزار کے قریب لوگ سفر کرتے تھے وہاں سے صرف چار سو پچاس لوگ اڑان بھرتے ۔
2020ء کا چودہ اگست بھی آگیا، پاکستانی جو پاکستان سے دور رہتے ہیں یعنی کہ دور دراز کے ممالک میں بس گئے ہیں روزگار یا کسی بھی وجہ سے وہ خود کو پاکستان سے ہمیشہ بہت قریب محسوس کرتے ہیں اور عید، بقرعید، تئیس مارچ، چودہ اگست غرضیکہ ہر اہم تاریخ، موقع اور تہوار جوش و خروش سے مناتے ہیں اس طرح ہم ایک ساتھ بھی ہو جاتے ہیں اس دن خاص طور پر اور اپنے بچوں کو اپنے کلچر، ثقافت ،زبان سے قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مگر 2020ء میں پہلی بار ایسا ہوا کہ چودہ اگست کو کچھ نہیں ہوا پورے امریکہ میں، نیویارک، ٹیکساس میں ہیوسٹن، ڈیلاس ،پھر LAمیں شگاکومیں ہمیشہ چودہ اگست ،میلے پریڈ زور و شور سے منائی جاتی ہے، مختلف گروپس میں بحث مباحثہ بھی ہو جاتا ہے کہ کون فنکشن پہلے کرے گا لیکن 14اگست 2020ء کو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، نہ کوئی پریڈ ہوئی نہ کوئی میلہ ہوا۔
2020ء گزرا تو لگا کہ بس یہ سال بھاری تھا جو گزر گیا، اگلی چودہ اگست آئے گی تو چیزیں بہت ہوں گی، یہ کووڈ وائرس بس تین چار مہینے تنگ کرے گا اورپھر ختم ہو جائے گا لیکن ایسا ہوا نہیں، تین مہینے گزرے، چھ مہینے، نو مہینے اور پھر پورا سال گزر گیا۔
کووڈ ایک سال تک ہماری زندگیوں پر حاوی رہا اورپھر روشنی کی ایک کرن چمکی جب اس وائرس کے توڑ کیلئے ویکسین کی خبر ملی، امریکہ میں دسمبر میں یہ ویکسین آگئی پھر مارکیٹ میں بھی آگئی لیکن ابھی یہ صرف 65سال کی عمر سے زیادہ کے لوگوں کو لگ رہی تھی۔
ویکسین لگانے میں دقت یہ ہورہی تھی کہ لوگ صبح صبح جا کر سینٹرز پر قطاریں لگاتے مگر دوپہر شام ہوتے ہوتے جب ان کی باری آتی تو ویکسین ختم ہو جاتی یعنی جو کوٹہ اس سنٹر کو ملا ہوتا اس دن کیلئے وہ ختم ہو جاتا وقت کے ساتھ چیزیں آرگنائز ہوتی گئیں، ایک نہیں اب دو کمپنیوں کی ویکسین آگئی تھی اور 6-8مہینے کے اندر اندر امریکہ میں 70فیصد لوگوں کو کم از کم ویکسین کی ایک خوراک مل چکی تھی۔ اس کووڈ کی وجہ سے ایک سال کے اندر اندر بہت سی چیزیں بدل گئیں ایک تو پہلی بار سکول Virtualہو گئے یعنی بچے بجائے سکول جانے کے گھروں سے کمپیوٹرز پر کلاسیں لیتے، ٹیچر سے اور ساتھی طلباء سے آمنے سامنے ملے بغیر پورا سال گزرگیا، یہی حال دفتروں کا ہوا لوگ گھروں سے کام کرنے لگے اور دفتروں کی پوری پوری عمارتیں سنسان ہو گئیں۔ شہر بھر کے ریسٹورنٹس، مالز، تفریح گاہیں یہاں تک کہ باربر شاپس اور سیلون تک بند تھے، لوگوں نے تین چار مہینے تک کسی باربر شاپ پر جا کر بال بھی نہیں کٹوائے۔ 2020ء کب آیا کب گیا پتہ ہی نہیں لگا، لوگوں نے سفر بھی ترک کر دیا، نہ کوئی چھٹیاں منانے جاتا نہ کوئی اجتماعات، دعوتیں، ایسا لگا جیسے زندگی PAUSEہو گئی ہے۔ لیکن جیسے ہی 2021ء شروع ہوا اور ویکسین لگنی شروع ہوئی لوگوں میں امید کی کرن جاگ گئی، مسجدیں کھلنا شروع ہوئیںاور لوگ ایک دوسرے سے ملنا شروع ہو گئے۔
بچے واپس سکول بھی جانے لگے، دفتری اوقات میں ٹریفک کا رش بڑھ گیا یعنی لوگ دفتر گاڑیوں میں جانے لگے، ریسٹورنٹ ،جم سب کھلنا شروع ہو گئے۔ اس بار امریکہ میں جہاں جہاں پاکستانی ہیں وہاں چودہ اگست منایا جارہا ہے کیونکہ محرم الحرام کا قابل احترام مہینہ ہے اس لئے تقریبات یا تو اگست کے مہینے کے آغاز میں منعقد کر لی گئیں یا پھر آخر میں کی جائیں گی، زندگی واپس نارمل کی طرف جارہی ہے۔
پاکستان میں صورت حال ویسی نہیں جیسی کہ امریکہ میں لیکن پھر بھی پاکستان میں ویکسین لگ رہی ہے حکومت اور ادارے لوگوں کو Educateکرنے Convinceکرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔
اس بارپاکستان میں بھی 2020ء کے مقابلے میں چودہ اگست زور و شور سے منائی جارہی ہے، حالانکہ کووڈ کی تلوار اب بھی سروں پر لٹک رہی ہے اور جب تک دنیا بھر میں 65فیصد لوگوں کو کووڈ ویکسین نہیں لگ جاتی کووڈ پوری طرح ختم نہیں ہو گا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا انشا اللہ جلد ہی اس لعنت اس وباء سے چھٹکارا ملے گا۔