اقوم متحدہ نے کرۂ ارض کی آلودگی پر لال جھنڈی دکھا دی!

204

اس سال گرمی اتنی شدید تھی کہ مغربی امریکہ، یونان، اور ٹرکی کے جنگلات میں آتشزدگی کے خطرناک واقعات ہوئے۔ ایک ہفتہ سے کچھ زیادہ عرصے میں جنگل کے جنگل خاکستر ہو گئے۔ ان علاقوں میں اسقدر زیادہ گرمی کی لہر کئی دہائیوں سے نہیں آئی تھی۔ گذشتہ دس روز میں، ایک رپورٹ کے مطابق، یونان میں تقریباً 567 مربع کلو میٹر کا رقبہ جل گیا۔اس سے پہلے کی آتشزدگیوں میں زیادہ سے زیادہ 17 کلو میٹر کا رقبہ متاثر ہوا تھا۔ ٹرکی میں تو کم از کم ایک دہائی کی سب بڑی آتشزدگی ہوئی جس میں یکم اگست سے 950مربعہ کلو میٹر کا رقبہ جل گیا۔ اس سے پہلے بھی ٹرکی کے جنگلوں میں ایسی آتشزدگی ہو چکی ہے۔ گرمی کی اس شدت کی لہر نے دنیا کے کئی مقامات پر آگ کی تباہ کاریاں دکھائی ہیں۔مثلاً جنوبی امریکہ کے ملک بولیویا کے مشرقی علاقہ سانٹا کروز کے جنگلوں میں آگ لگنے سے 1,470 مربعہ کلو میٹر کا رقبہ تباہ ہو گیا۔ سرکاری عہدے دار کا کہنا ہے کہ صرف اگست کے پہلے چند دنوں میں ۸۳۱ جگہ آگ لگنے کے واقعات ہوئے، اور سال میں کل 15,555 واقعات ہو چکے ہیں۔یہ ملک برازیل کا ہمسایہ ہے۔برازیل میں آتشزدگی بھی ہوئی جب کہ وسیع پیمانے پر جنگلات کا صفایا کیا گیا، تا کہ زراعت اور مویشیوں کے لیے زمین حاصل کی جا سکے۔
شمال مغربی امریکہ کی کئی ریاستوں ، کینیڈا کے کچھ صوبوں، الجیریا ، اٹلی، سائیپریس، سپین، بلغاریہ، اسرائیل، منگولیا، مشرقی ہندوستان، اور روس سے بھی جنگلات میں شدید آتشزدگی کے واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ابھی تک پاکستان اور اس کا خطہ اس بلا سے بچا ہوا ہے۔ پاکستان میں تو ویسے ہی مٹھی بھر جنگلات ہیں اگر وہ بھی جل گئے تو ماحولیات کا کیا ہو گا؟
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟اس کا جواب ہمیں اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ :’’کوئی راہ نجات نہیں‘‘، جو ۹ اگست ۲۰۲۱ء کو جاری کی گئی۔ اس بین الحکومتی پینل نے اپنی رپورٹ میں کھلے لفظوں میں بتایا ہے کہ دنیا کی حرارت زمین کو سخت تازیانے لگا نے شروع کر چکی ہے، اور تیزی سے، جس سے سمندر میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو چکی ہے، پہاڑوں اور اونچے میدانوں میں برف سکڑ رہی ہے اور اس کے شدید اثرات جیسے حرارت کی لہریں، پانی کا قحط، طغیانیاں اور جنگلات میں آتش زدگی کے روز افزوں واقعات۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی خبر کے مطابق، اسی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کرہ ارض اس قدر تپ رہا ہے کہ دس سال میں ایسی سطح پر پہنچ جائے گا جس کو عالمی قیادت خطرہ کی حد سمجھ رہی تھی، اور اس کو روکنا چاہتی تھی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسے انسانیت کے لیے خطرہ کی لال جھنڈی قرار دیا گیا ہے۔یہ انتہائی اہم بین الحکومتی پینل کی موسم میں تبدیلیوں پر رپورٹ ہے، جس میں موسموں میں تبدیلی کی صریحاً وجہ انسان کی پیدا کردہ ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں2013کی رپورٹ کے مقابلے میں اکیسویں صدی کے لیے اور زیادہ درست ، گرمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس میں پیش کردہ مستقبل کے پانچ امکانات ، جن کی بنیاد اس امر پر ہے کہ مستقبل میں کس قدر کم کاربن کو فضا میں چھوڑا جاتا ہے، یہ ان دو سخت معیار پر پورا اترتے ہیں جو 2015 کے پیرس میں منظور کیے گئے موسمیاتی معاہدے میں بیان کیے گئے تھے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے قائدئین نے اس وقت یہ تسلیم کیا تھاکہ حرارت کے بڑھنے کی رفتار کو، انیسویں صدی کے اواخر سے 1.5 ڈگری سیلسیس (سینٹی گریڈ) یا 2.7 درجہ فارین ہائٹس سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے، کیونکہ اس سے زیادہ پر مسائل بڑی تیزی سے بڑھتے ہیں۔اور دنیا میں گرمی شدت پہلے ہی 1.1 سیل سیس بڑھ چکی ہے یا دو درجہ فارن ہائٹ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جن پانچ امکانات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں ہر ایک میں دنیا کا درجہ حرات،سن 2030 تک 1.5 سیل سیس کا خطرناک نشان عبور کر جائے گا، یعنی پہلے سے کی گئی پیش گوئیوں سے زیادہ تیز رفتاری سے۔اس لیے کہ ، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ درجہ حرارت توقع سے زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام عالم کو، آنے والی دہائیوں میں، اس قدر زیادہ درجہ حرات کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔لیکن خوش آیند بات یہ ہے کہ ہم ، یعنی اہل جہاں، اگر گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کو کم کرلیں تو حرارت کو اس سے زیادہ درجہ بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ یہ بیان، اس پینل کے نائب چیرمین، ویلری میسن ڈیلمونٹے نے کہی، جو پیرس یونیورسٹی کے موسمیات اور ماحول کے علوم کی لیباریٹری کے ماہر سائنسدان ہیں۔ اس رپورٹ میں ایک اور سائینسدان، لِنڈا میرنز کا کہنا ہے کہ یہ تو گارنٹی ہے کہ حالات بد سے بد تر ضرور ہونگے۔نہ جائے ماندن، نہ جاے رفتن ،کے مصداق۔اگرچہ سائینسدانوں نے مکمل ماحولیاتی تباہی ہونے کی بد خبری سے ہاتھ روک لیا ہے۔
US National Oceanic and Atmospheric Administration کے سینیر کلائیمیٹ ایڈایڈوئیزرکو بیریٹ نے کہا کہ اس رپورٹ میں جن حالیہ تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے وہ اتنی وسیع، تیز رفتار اور بڑھنے والی ہیں جن کی مثال گذشتہ ہزاروں سالوں میں بھی نہیںملتی۔آنے والے نومبر میں، سکاٹ لینڈ میں، ماحولیات سے متعلق جو انتہائی اہم بین الاقوامی مذاکرات ہونے والے ہیں، اس رپورٹ نے عالمی قیادت کو ان کے ممالک میںکاربن گیسوں سے آلودگی میں کمی لانے کے عمل کوتیز کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ، بلنکِن کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ نے دنیا کونوشتۂ دیوار دکھا دیا ہے۔ یہ تین ہزار صفحہ پر مشتمل رپورٹ جس کی تیاری میں ۲۳۴ سائینسدانوں نے حصہ لیا، ان تمام خطرات اور رحجانات کا ذکر کیا ہے جو اوپر درج کیے جا چکے ہیں۔اس میں کہا گیا ہے کہ استوائی خطہ سے اٹھنے والے سمندری طوفان شدید تر اور زیادہ بخارات سے پُر ہیں۔دوسری طرف قطب شمالی اور جنوبی کی برف گرمیوں میں پگھل رہی ہے ۔ اور جو برف مستقل جمی رہتی تھی وہ بھی پگھل رہی ہے۔ یہ تمام رحجانات بد سے بد تر ہو نگے۔ مثلاً جو شدید گرمی کی لہر پچاس سال میں ایک مرتبہ آتی تھی وہ اب ہر دہائی میں آرہی ہے۔اور اگر دنیا کا درجہ حرارت 1.8 فارن ہائٹ بڑھ گیا تو یہ لہر ہر سات سال میں دو دفعہ آئے گی۔
اس پر طرہ یہ کہ جیسے جیسے کرہ ارض میں گرمی کی شدت بڑھے گی، تو کچھ مقامات پر صرف موسم میں شدت نہیں آئے گی،بلکہ کئی قسموں کے ماحولیاتی تباہ کاریاں بیک وقت ہو سکتی ہیں۔ (جیسے ترکی میں، پہلے تو جنگلوں میں آگ پھیلی اور فوراً بعد سیلاب کی تباہ کاریوں نے آن دبوچا)۔ ایک اور مثال مغربی امریکہ ہے جہاں شدید گرمی کی لہر،بارش کی کمی، اور جنگلاتی آتشزدگی، سب ایک ساتھ ہو رہے ہیں۔ اور نقصانات کو بڑھا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ماحولیاتی تبدیلیوں سے جو تغیرات ہو رہے ہیں اور سمندروں میں جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں جیسے کہ ان میں تیزابیت بڑھ رہی ہے اور آکسیجن کم ہو رہی ہے۔یہ تبدیلیاں کم از کم کئی سو سال سے ہزار سالوں تک بھی ناقابل تلافی ہونگی۔یہ تو پکا ہے کہ سمندروں میں پانی کی سطح ، اس صدی کے وسط تک چھ سے دس انچ تک اونچی ہو جائے گی۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے سربراہ انگر اینڈرسن نے کہا کہ سائنسدان تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے چیخ و پکار کر ہے ہیں کہ یہ ہونے والا ہے لیکن دنیا والوںنے کان نہیں دھرا۔
اس سارے مسئلے کی بڑی وجہ وہ گیسیں ہیں جو کرہ ارض پر انسانی عمل کی وجہ سے، حرارت کو مقید کر دیتی ہیں، جیسے کاربن ڈائی آکسائڈ، اور میتھین۔اور قدرتی طور پر حرارت کو بڑھانے والے عناصر تو درجہ حرارت کے دو تہائی سے بھی کم اثر ڈالتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انٹونیو گوٹیریز کہتے ہیں ، کہ کاربن ڈائی آکسایڈ کے معاملہ میں تھوڑی سی پیش رفت ہو رہی ہے، جو کہ اچھا شگون ہے۔اور یہ کہ اگر عالمی برادری توجہ دے تو بالکل تباہی سے بچا بھی جا سکتا ہے۔سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر فضا سے میتھین گیس کو کم کر دیا جائے جو حال ہی میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، وہ کم مدتی حرارت کو کم کر سکتی ہے۔اور یہ میتھین قدرتی گیس کے لیک ہونے سے پیدا ہوتی ہے، جو انسانوں کے لیے قوت کا بڑا سرچشمہ ہے۔ اور ایک دوسرا بڑا منبع گھریلو دودھ دینے والے جانور ہیں۔ایک سو ملکوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ صدی کے وسط تک انسانی عمل سے بننے والی کاربن ڈائی آکسائڈ کے نکاس کو کم سے کم کرد یں گے، جس کی بنیاد پر سکاٹ لینڈ میں ہونے والے مذاکرات پر فیصلے ہوں گے۔
اقوام متحدہ نے2019میں بھی ماحولیات پر ایک مفصل رپورٹ شائع کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ گرین ہائوس گیسز اور کچھ دوسری گیسز بہت بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ جب غریب قوموں میں اقتصادی ترقی ہو تی ہے تو وہاںکاروں اور صنعتی کارخانوں وغیرہ کا استعمال بڑھتا ہے اور اس سے فضا میں آلودگی پیدا ہوتی ہے ۔ہمیں فخر ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم ماحول کی آلودگی کم کرنے میں پیش پیش ہیں۔ شجر کاری کی دنیا میں سب سے بڑی مہم چلانا چاہتے ہیں۔ ماحول کی بہتری کے لیے شجر کاری اشد ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ غربت کم کرنے کے لیے دیہات کے نوجوانوں میں موٹر سائیکلوں کی تاریخ ساز فروخت پر بھی خوش ہیں، اور شاید بھول رہے ہیں کہ اتنی موٹر سائکلیں مزید کتنا کاربن فٹ پرنٹ چھوڑیں گی؟ پاکستان میں ابھی تک گاڑیوں سے نکلنے والے نقصان دہ دھویں اور گیسز کم کرنے کے لیے Catalytic converters نہیں لگائے جاتے۔اور نہ ہی دنیا کے اکثر ممالک کی طرح گاڑیوںمیںبغیر لیڈ(lead) پٹرول استعمال ہوتا ہے ۔اس مد میں پیسے بچا کر پاکستانی سیاستدان اور عوام دونوںاپنی اور اپنی اولادوں کی صحت سے کھیل رہے ہیں۔لیکن یہ کھیل زیادہ دیر نہیں جاری رہے گا۔ جب پاکستان میں کاربن کے فٹ پرنٹ کا تخمینہ لگایا گیا تو ایسی گاڑیوں پر پابندی لگانی پڑے گی۔فٹ پرنٹ سے مراد کاربن ڈائی آکسائڈ کی پیداوار ہے۔
یو این کی اس رپورٹ میں اس مسئلہ کو شناخت کیا گیا ہے، کہ اگر غربت کم کریں تو ماحول کی آلودگی اس کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ یو این کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماحول کی آلودگی کا ایک نتیجہ فضائی آلودگی ہے جس سے ہر سال ایک تخمینہ کے مطابق ساٹھ سے ستر لاکھ نوزائیدہ اور کم عمربچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ان ہلاکتوں میں ایک بڑی تعداد لکڑی جلانے، کوئلہ، فصلوں کی باقیات ، گوبر اور مٹی کا تیل استعمال کرنے سے ہوتی ہیں۔عمر رسیدہ، یا بچوں، بیماروں یا افلاس زدہ ، کو فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ ان میںپہلے سے لگی بیماریاں اور شدید ہو جاتی ہیں۔کم اور درمیانی آمدنی کے ممالک میں شہری علاقوں کے باشندوں پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔اور تقریباً تین ارب کی آبادی جوٹھوس ایندھن یا مٹی کے تیل پر انحصار کرتے ہیں، وہ زیادہ خطرہ میں ہیں۔اب جن ملکوں میں صنعتی ترقی شروع ہوئی ہے، اور شہری حلقے پھیل رہے ہیں ، آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔اور وہ اس سے زیادہ ہے جتنی کے خاص کوششوں سے کم کی جارہی ہے۔مشرقی اور جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں چونکہ وہاں آبادی کی کثرت ہے اور شہروں میں آلودگی بہت بڑھی ہوئی ہے۔اور یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اس خطہ میں اس لیے بھی آلودگی زیادہ ہے کہ مغربی یوروپ اور امریکہ میں صنعتی پیداوار کے بڑھنے سے آلودگی بڑھتی ہے،اس کا اثر یہاں پہنچتا ہے۔خدا کر ے کہ ہماری آواز صدا بہ صحرا نہ ہو اور صحیح کانوں تک پہنچ جائے۔