14اگست خوشیوں اور غمیوں کا دن!!

290

بلاشبہ 14اگست 1947اہلیان پاکستان کے لئے خوشیوں کا دن ہے کہ جس دن مسلمان ہند کو ایک الگ ملک ملا جن کے آبائو اجداد نے تقسیم ہند کے تحت ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے پاک سرزمین کا رخ کیا جس میں مہاجرین رضا کارانہ اور غیر رضا کارانہ طور پر پاکستان آکر آباد ہوئے تاکہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ملک میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں جو دورِ فرنگی میں تباہ و برباد ہو چکی تھی جس میں ظلم و ستم کے علاوہ تعلیم، علم اور ترقیوں سے بھی محرومیاں شامل تھیں۔ جس کا ماضی میں سرسید احمد خان بھی پرچار کرچکے تھے جن کی علماء اکرام نے شدید مخالفت کی تھی۔ نومولود ملک پاکستان میں کہا گیا تھا کہ یہ ایک جمہوری ریاست ہو گی یہاں قانون کی حکمرانی ہو گی۔ تمام شہری برابر ہوں گے کسی سے ذات پات، نسل، لسان اور مذہب کی پوچھ گچھ نہیں ہو گی جو دنیا کی ایک مثالی مسلح ریاست ہو گی جس کے دنیا بھر میں چرچے ہوں گے۔ یہی وجوہات ہیں کہ ہندوستان سے آنے والے مہاجرین پاکستان کو ایک جنت تصور کررہے تھے کہ جب وہ پاکستان پہنچیں گے تو پاک ملک میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ہر طرف عدل و انصاف کا دور دورہ ہو گا ہر شخص خوشحال ہو گا کوئی شخص بھوکا نہیں سوئے گا جبکہ پاکستان میں مہاجرین کی توقع کے برعکس ہوا کہ ہجرت کرنے والے لٹے پٹے لوگوں کو پناہ لینا مشکل ہو گیا۔ سالوں سال لوگ دربدر گھومتے پھرتے رہے جو اپنے آبائو اجداد کی قبریں چھوڑ کر آئے تھے ان کو یاد کرتے رہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مشرقی پنجاب سے ہجرت کرنے والے مہاجرین نے اس ہجرت کو اجاڑوں اور وچھوڑوں کا نام دیا جو اپنے گھر بار کو یاد کرتے رہے۔ اپنے دوستوں، ہمدردوں اور رشتے داروں کو بھول نہ پائے جن کو وہ سب کچھ نہ ملا جو ان کے ذہنوں میں ڈالا گیا تھا۔ ظاہر ہے وہ ایسے مہاجرین نہیں تھے جو ہندو ظلم و ستم سے تنگ آ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے یہ سب فرنگی سازشوں کا نتیجہ تھا جس نے ہندستان کو تقسیم کیا جس میں مسلمان ہندو کو وعدوں کے مطابق بھی علاقے نہ ملے جس میں کہا گیا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں پر اور راجوں اور نوابوں کے الحاق پر پاکستان ہو گا جس میں پورا صوبہ بنگال پورا صوبہ پنجاب، صوبہ سرحد، صوبہ سندھ کے علاوہ ریاستوں کے راجے اور نواب جس کے ساتھ چاہے الحاق کریں گے جس کی وجہ سے کشمیر، جوناگڑھ اور حیدر آباد دکن پاکستان میں شامل ہونا تھا جو غلط حکمت عملی اور جلد بازی کی وجہ سے پاکستان لاتعداد علاقوں سے محروم ہو گیا۔ تاہم 14اگست 1947ء خوشیوں کے ساتھ غمیوں کا دن بھی ہے کہ جس دن یوم آزادی کے موقع پر صرف پنجاب میں دس لاکھ پنجابی مارے گئے۔ لاکھوں مائیں، بیٹیوںِ بیٹیوں، بہوئوں ،بہنوں، خاوندوں، رشتے داروں سے محروم ہو گئیں۔ لاکھوں کے سہاگ اجڑ گئے۔ ہزاروں مسلم خواتین اغواء کر لی گئیں۔ لاکھوں لوگ شہید کر دئیے گئے اس لیے چودہ اگست کا دن خوشیوں کے ساتھ ساتھ غمیوں کی بھی یاد دلاتا رہتا کہ جس دن ایک نیا ملک ملا مگر ہزاروں قربانیوں کے بدلے ملا جس کو بھلانا تاریخ تقسیم ہند کے سانحہ سے زیادتی ہو گی۔
لہٰذا چودہ اگست بعض لوگوں کے لئے بڑا منافع بخش اور بعض کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔ بعض اس یوم آزادی کے بعد امیر ترین بن گئے۔ پاکستان کی نوکریوں پر قابض ہو گئے۔ زبردستی حکمران بن گئے۔ جاگیردار، رسہ گیر اور اجارہ دار بچ گئے جو شاید تقسیم ہند کی بدولت بنے ورنہ ہندوستان میں آزادی کے بعد ہندوستان کی طرح جاگیرداری، اجارہ داری اور رسہ گیری چھین لی جاتی جس طرح ہندوستان میں ایک سال بعد پورے ملک میں جاگیرداری، راجہ گیری اور نوابیت کا خاتمہ ہو گیا کہ آج ہندوستان میں ایک بھی جاگیردار نہیں پایا جاتا ہے۔ زرعی زمین کا صرف وہ مالک ہے جو کاشتکاری کرتا ہے جبکہ پاکستان میں جاگیرداری نے ایسے پنجے گاڑھے ہیں کہ جن سے آزادی حاصل کرنا ناممکن بن چکا ہے کہ آج انگریزوں کے عطا کردہ جاگیروں کے علاوہ فوجی افسروں، بیوروکریٹوں اور دوسرے اہلکاروں میں زرعی زمین بانٹی جارہی ہے کہ پاکستان کا کسان اور ہاری صوبوں کا غلام چلا آرہا ہے وہ اب صدیوں کے لئے غلام بن چکا ہے جن کے لئے پاکستان کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ غلام کا کوئی ملک نہیں ہوتا ہے وہ بکتا ہوا نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ بہر کیف 14اگست 1947ء کو قائداعظم کی کاوشوں سے ایک الگ ملک بنایا گیا جس پر ان کی وفاقت یا قتل کے بعد ان کے نائب وزیراعظم لیاقت علی خان کو قتل کر دیا گیا قائد کی خصوصی درخواست پر پاکستان آ کر آباد ہونے والے سابقہ متحدہ بنگال کے وزیراعلیٰ اور پاکستان کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو لبنان میں قتل کر دیا گیا۔ قائد کے ساتھیوں، ہمدردوں کو چن چن کر مختلف حیلوں، بہانوں سے مارا گیا۔ قائد کی سگی ہمشیرہ فاطمہ جناح کی مسخ شدہ لاش پائی گئی۔ بھارت سے بچائو کے لئے نیوکلیئر بم کی بنیاد رکھنے والے بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ ایٹم بم بنانے والے ڈاکٹر قدیر خان کو تاحیات قیدی بنا دیا گیا۔ ایٹم بم کے دھماکے کرنے والے وزیراعظم نواز شریف کو بار بار قیدی اور جلاوطن ہونا پڑا۔ پاکستان کا پہلا آئین 1956ء میں جنرل ایوب نے پاش پاش کر کے پاکستان میں غیر قانونی ،غیر آئینی اور غیر اخلاقی مارشلائوں کی بنیاد رکھ دی جس کا سلسلہ جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف تک جاری رہا جنہوں نے ہمیشہ آئین پاکستان کو منسوخ اور معطل رکھا جس سے ایک بار 1971ء میں ملک ٹوٹ گیا۔ وہ قائد کا ملک جہاں عوام کو قانون کی حکمرانی، انصاف اور جمہوریت اور آزادی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ آج دنیا کی بدترین آمریت اور فسطائی ریاست بن چکی ہے جو استحکام گاہ نہیں انتقام گاہ کہلاتی ہے۔ لہٰذا ایسے موقع پر آزادی منائی جائے یا بربادی کہ پاکستان کے عوام بھوک، ننگ، غربت افلاس سے مررہے ہیں ریاست پاکستان پر بین الاقوامی ساہو کاروں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ غریبوں، مسکینوں، بے چاروں، لاچاروں اور بے ااختیاروں کی لاشوں پر پرچم لہرانے سے ملک بچایا جارہا ہے جس کا مظاہرہ ماضی میں سابقہ مشرقی پاکستان میں کیا گیا تھا قائد کا پاکستان کہ یہاں عدل و انصاف جاگیرداروں، وڈیروں، رسہ گیروں اور جنرلوں کے ہاتھ میں ہو گا۔ جس کے حصول کے لئے پاکستانی عوام کو پھر پاکستان کے لئے جدوجہد کرنا پڑے گی جو کل آزادی کی تھی آج بچانے کی ہے تاکہ ملک کو گھوڑے کی بجائے خرگوش بنانے سے روکا جائے۔