افغانستان فتح ہوا ہے یا ایک بار پھر مقبوض ہوا ہے؟ کیا پاکستان کیلئے یہ خوشی کا موقع ہے یا پریشانی کا باعث؟

263

اس ہفتے دنیا نے ایک بار پھر وہی پنتالیس سال پہلے کے مناظر دیکھے جب ویت نام جنگ میں ناکامی کے بعد سائیگان میں امریکی سفارت خانے کی چھت پر امریکی ہیلی کاپٹر امریکی سفارتی عملے کو وہاںسے بحفاظت نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ اسی طرح سے تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا جب سب نے یہ مناظر دیکھے کہ کابل کے امریکی سفارت خانے سے دھواں نکل رہا ہے اور امریکی ہیلی کاپٹر سفارت خانے کی چھت پر سے امریکیوں کا انخلاء کررہا ہے۔ ایک اور منظر بھی دنیا کو حیران پریشان کر گیا جب اتوار کی دوپہر افغان طالبان بھگوڑے افغان صدر اشرف غنی کے فرار ہونے کے بعد کابل کے صدارتی محل میں دخل ہوئے تو ان کے رویے بالکل بدلے ہوئے تھے۔ کسی نے محل کی ایک بھی چیز کو نہیں چھوا، نہ کوئی توڑ پھوڑ کی، نہ کوئی مدرپدر آزاد نعرے بازی کی اور نہ ہی کوئی مغرورانہ اورفاتحانہ انداز نظر آیا بلکہ جب ایک طالبان نے بسمہ اللہ پڑھ کر اذاجا ء نصراللہ کی تلاوت شروع کی تو کئی طالبان اپنی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو پوچھتے نظر آئے۔ دنیاحیران ہوئی کہ کیا طالبان روتے بھی ہیں؟مغرب کے بنائے ہوئے طالبان کا ظالمانہ روپ کابل کے فال کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ ظاہر ہے کہ بیس جمع بیس چالیس سالوں کی جدوجہد، ساتھیوں کے امریکی پچاس ملکی اتحادی فوجوں کے ہاتھوں شہادتوں اور روسی غاصبانہ قبضے کے دوران ا پنے لوگوں کی دربدری یہ وہ واقعات ہیں جو ان کی آنکھوں سے آنسو بن کر بہہ رہے تھے، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اور چالیس سالہ جدوجہد کے بعد کامیابی بھی پس منظر میں رہے ہوں گے کہ خدا کے یہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔ امریکہ کے گزشتہ بیس سالوں کے درمیان رہنے والے پانچوں صدور بش، کلنٹن، اوبامہ، ٹرمپ اور بائیڈن سمیت سب نے مشن مکمل ہونے اورامریکی فتح کے دعوے بلند کئے تھے مگر زمینی حقائق نے انہیں جھٹلا دیا اور دنیا نے دیکھا کہ دنیا کی واحد سپرپاور نے کس طرح ایک چھوٹی سی طاقت کے ہاتھوں شکست کھائی۔ا مریکی عوام کو بھی امریکی اسٹیبلشمنٹ نے اندھیرے میں رکھا اور انہیں جھوٹ بتاتے رہے۔ آج ان ہزاروں امریکی فوجی جوانوں کے اہل خانہ امریکی انتظامیہ سے سوال کررہے ہیں کیاان کے پیاروں نے اسی دن کو دیکھنے کے لئے قربانیاں دی تھیں۔ ان میں وہ پاکستانی نژاد امریکی فوجی بھی شامل ہیں جن کے نام واشنگٹن کی میموریل دیوار پر کنندہ ہیں۔ آج ہر امریکی یہ سوال کررہا ہے کہ تین کھرب ڈالرز، ہزاروں امریکی جانیں اور لاکھوں افغانی شہریوں کا اتلاف، نائن الیون کی آڑ میں پھیلائی گئی اس بربادی کی جنگ درست تھی؟ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں اربوں ڈالرز کے معاشی نقصان کے علاوہ پاکستان نے بھی ستر ہزار کے قریب اپنے فوجی اور شہری جانوں کی قربانی دی، کیا یہ جنگ ان ہی مناظر کو دیکھنے کے لئے لڑی گئی تھی؟ پاکستانی طالبان( ٹی ٹی پی)، تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کے سینکڑوں شہروں کو بم دھماکوں سے سبوتاژ کر دیا۔ بے نظیر بھٹو سمیت بڑے بڑے سیاستدانوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ طالبان کے دو گروپس ہیں، ایک افغان طالبان ہیں جنہوں نے ابھی کابل پر قبضہ کیا ہے اور دوسرا وہ گروپ ہے جو بیس سال قبل افغان طالبان سے علیحدہ ہو کر تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں وجود میں آیاتھا۔ اس گروپ کا نظریہ یہ تھا کہ چونکہ پاکستانی حکومت افغانستان کے خلاف جنگ میں مغرب اور امریکہ کا پارٹنر ہے لہٰذا ن کے خلاف بھی جنگ کرنا جائز ہے۔ اس نظریے کے تحت انہوں نے ستر ہزار پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ گو کہ طالبان کے ترجمانوں سہیل شاہین اور ذبیح اللہ مجاہد نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں کی جائے گی مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ سرحد کے اس پار افغانستان میں موجود تحریک طالبان کے دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے نہیں کریں گے۔ اس صورت حال میں پاکستان کو جلد بازی سے کام لینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر افغان طالبان پاکستانی طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرحد پاور سے بھارتی سپورٹ کے ساتھ پاکستان کے خلاف ملک میں تحریک طالبان، داعش اور القاعدہ کی دہشت گردی جاری رہے گی۔ہمیں ابھی یہ نہیں پتہ ہے کہ افغانستان فتح ہوا ہے یا اس پر پھر سے طالبان قابض ہوئے ہیں۔ فی الحال طالبان کا رویہ بدلا ہوا ہے مگر بعد میں کیا ہوتا ہے وہ قبل از وقت ہے۔