بڑے بے آبرو ہو کر تم نکلے!!

205

معروف امریکی فلم میکر مائیکل مور امریکہ کا افغانستان سے فرار پر لکھتے ہیں کہ آج جاپان کا وکٹری ڈے ہے۔افغانستان میں امریکہ کو شرمناک شکست نے ان تمام ملکوں کو وکٹری دے دی جن پر امریکہ نے ہلہ بولا تھا۔۔۔نقل ہمیشہ اصل کی ہوتی ہے، فرعون نقلی خدا بن گیا،کئی نقلی نبی بن گئے، نقلی اولیا بنے پھرتے ہیں،ملا عمر اصل طالبان ہیں،نقلی طالبان دہشت گرد بن گئے۔ فرق سمجھ کر نفرت کرو۔۔۔میں نے دس سال مشرف کی امریکی پالیسی کے خلاف ڈٹ کر لکھا اور اسی نوائے وقت میں لکھا حتی کہ ایک روز محترم مجید نظامی مرحوم نے کہا امریکہ میں آپ کی سکیورٹی کے بارے میں متفکر رہتا ہوں۔ مشکوک واقعہ نائن الیون سے متعلق بھی کھل کر لکھتی رہی۔ افغانستان ہو عراق جاپان یا کوئی ملک مغرب ماما لگتا ہے مداخلت کا؟ اپنے معاشی مفادات کے لئے کہیں اڈے بنانے پہنچ جاتے ہیں کہیں تیل چاہئے کہیں طاقت کا خوف کہ کوئی ملک سپر پاور نہ بن جائے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ایک چال تمہاری ہے ایک چال میری ہے اور میں ہی‘‘ خیر الماکرین‘‘ ہوں۔ بہترین حکمت اور چال چلنے والا۔ سپر پاور رب العزت کی ذات کریم ہے اور طاقت فقط ایمان کی ہے۔افغان طالبان ملا عمر جیسے اپنا ملک چلا رہے تھے، امریکہ ماما بنتا تھا ناجائز قبضہ کر لیا؟ جنرل حمیدگل نے کہا تھا: افغانستان میں امریکی فوج آئس کریم کی طرح پگھل جائے گی۔ تب صاحبان عقل کل مذاق اڑاتے تھے۔ نقل ہمیشہ اصل کی ہوتی ہے۔ امریکہ نے بیس سال بعد بھی افغانستان سے نکلنا تھا۔ دو ٹریلین بجٹ ضائع کر بیٹھا ہے، دو ہزار فوجی مروا چکا ہے، جو بچ گئے ذہنی اور جسمانی معذور بنا چکا ہے۔ امریکہ کی اکانومی تباہ کر چکا ہے۔پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بن کر بہت نقصان اٹھایا، اناف از اناف، امریکہ کو فرار ہونا ہی تھا،افغان کٹھ پتلی حکومت بھی روپوش ہو چکی۔ بھارت کو بد ترین ذلت اٹھانا پڑی۔ پپٹ اشرف غنی بزدل، دھوکہ باز، غدار کو افغان میڈیا کہہ رہا ہے” اشرف غنی کی قبر پر افغان سو سال تھوکیں گے، وہ ڈالرز کے 4 سوٹ کیس سمیت فرار ہوا غدار‘‘۔۔۔۔عمران خان کو طالبان خان کا خطاب دینے والے مولانا فضل الرحمان طالبان کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں؟ رنگ بدلتا ہے آسمان کیسے کیسے۔ ان لوگوں کا آسمان ہر بدلتی حکومت اور صورتحال میں رنگ بدل لیتا ہے۔ مولانا جمہوریت کا بڑا راگ الاپتے ہیں، اب ان کا فرض بنتا ہے کہ جس طرح خود جمہوریت، الیکشن اور آئین کی سیاست کرتے ہیں، اسی طرح افغان طالبان کو بھی جمہوریت، انتخابات اور آئین کے راستے نصیحت کریں۔جو بائیڈن نے بحیثیت امریکی صدر افغان شکست کو بہترین الفاظ میں کوراَپ کیا۔ انہوں نے اشرف غنی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کریں مگر انہوں نے اس سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ افغان فوج طالبان سے لڑے گی، ظاہر ہے اشرف غنی غلط نکلے، افغان رہ نما حوصلے چھوڑ گئے اور ملک سے بھاگ نکلے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے افغان فوج کو سب کچھ دیا مگر انہیں لڑنے کا عزم اور حوصلہ نہ دے سکے۔امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ امریکی فوج کی واپسی کے فیصلے پر شرمندگی نہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے لیے دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنا امریکا کا مشن تھا، افغانستان کی صدیوں کی تاریخ بدلنا ہمارا مشن نہیں تھا۔جناب تاریخ پڑھی ہوتی تو علم ہوتا کہ افغانستان کی تاریخ بدلنے بڑے بڑے سورما نکلے مگر منہ کی کھا کر بھاگے۔ چین کو متحرک اور قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان، ایران اور روس کے ساتھ مل کر افغانستان کو بحران سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر شرمندگی نہیں ہے … یہ جملہ از خود ثبوت ہے شرمندگی کو چھپانے کا۔۔۔افغان باقی کہسار باقی۔۔۔