اسلام قربانی دینے کا مذہب ہے!!

220

لباس ہے پھٹا ہوا، غبار میں اٹا ہوا
تمام جسم نازنین، چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالقیں حسین ہے، نبی کا نور عین ہے!!
یہ اسلامی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے عدو لاکھ چاہے تو مٹا نہیں سکتا۔ حق مر کر بھی زندہ رہتا ہے اور باطل زندہ رہ کر بھی مٹ جاتا ہے۔ ہمارا نبی جو محبو ب الٰہی تھا اس نے جتنی قربانیاں وحدہ لاشریک میں پیش کیں کسی نبی نے نہیں کیں۔ حضرت ابراہم سے بیٹے کی قربانی کی جگہ دنبہ رکھ دیا گیا۔ مسلمانوں کے لئے حق و باطل کی یہ جنگ وہ سبق دیتی ہے جو کسی مذاہب میں نہیں ملتی۔ مسلمانوں کے لئے صبر، استقلال، عمل، درگزر، صرف اور صرف واحدنیت کا سبق دیتی ہے۔ گو اذانوں کو زندہ کرنے والے نہ رہے لیکن اذان زندہ ہے۔ اسلام قربانی دینے کا مذہب ہے۔ باطل کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے کا مذہب ہے۔ حق کے لئے آواز بلند کرنے کی ترغیب ہے۔
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول!
آج محرم کو منانا صرف اس پیغام کو تازہ کرتا ہے کہ مسلمانوں میں جذبہ ایمانی پیدا کیا جائے۔ اس کی وحدانیت پر یقین کو پختہ کیا جائے۔ جس کے لئے اہل بیت نے قربانیاں دیں۔ ہر برائی کے خلاف جنگ کرو، احکام الٰہی پر عمل پیراء رہو۔ چاہے جان و مال کا نذرانہ بھی دینا پڑے تو دو ،ہر دکھ کا مداوا واقعہ کربلا سے منسلک ہے۔ جب حرملا کا تیر حلقون علی اصغر کو چھوتا ہوا امام کے بیٹے میں پیوست ہو گیا تو اس معصوم نے حلقون سے ابلتے ہوئے خون میں سوکھے لبوں پر زبان پھیری اور اس طرح منہ کھولا یا جس طرح دریا سے نکلی ہوئی مچھلی بنا پانی کے منہ کھول دیتی ہے۔ کیا دنیا کی تاریخ اس کی مثال پیش کر سکتی ہے؟ باپ کے ہاتھوں پر اس طرح معصوم کا قتل برداشت کرسکتی ہے؟
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!
دنیا میں ہر طرف آج جس طرح مسلمان راندہ درگاہ ہیں کوئی اور قوم نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اپنے اسلام کی دی ہوئی قربانیوں اور تعلیمات کو بھلا دینا ہے۔ تم میں وہ خوبو باقی نہیں رہی۔ تمہارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں تمہیں صرف اپنی بھلائی مقصود ہے۔ ہوس زر، عیاشی، آرام کوشی، دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا۔ جیسے نمک حرام نواز شریف خاندان، زرداری جنہوں نے دونوں ہاتھوں سے ملکی خزانے کو لوٹا، قوم کو بھوکا ننگا مار دیا۔ آج وہ بڈھا کھوسٹ ن لیگ کا جوکر شہباز شریف فضلو کو ترغیب دے رہا ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے غربت میں پسے عوام اور مہنگائی کا ایشو اٹھوائو۔ یہ دوغلا انسان جس نے معیشت کو برباد کیا ۔ان لوگوں کی لوٹ مار سے ملک کنگال ہو ا۔ کشکول لئے گھوم رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے نخرے برداشت کررہا ہے۔ جرائم اور کرپشن کی ان خاندانوں نے ایسی تاریخ رقم کی ہے۔ اللہ نہ کرے یہ کبھی دہرائی جائے۔
والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کی طرف بھرپور توجہ دیں۔ ان کی تربیت بہتر طریقے پر کریں۔ موجودہ دور کی لغویات، سیٹلائٹ، موبائل کے استعمال پر نظر رکھیں۔ بچے جب کمپیوٹر استعمال کررہے ہوں تو والدین کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں۔ انہیں ادب و آداب ہمارے اسلامی طور طریقے بتانے چاہئیں اور تعلیم پر ان کی بھرپور توجہ دلانی چاہیے۔
بہتر ہے کہ بچوں کو والدین خود تعلیم دیں اگر ایسا نہ کر سکیں ٹیوٹر کی ضرورت ہو تو خاتون سے رجوع کریں۔ اگر مرد حضرات ٹیوٹر ہوں تو بڑوں کو وقتاً وفوقتاً ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ قرآن پڑھانے والوں پر بھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں بھی بہانے بہانے سے چیک کرتے رہنا چاہیے۔
اس کے بعد بچہ جب سکول میں داخل ہوتا ہے تو اب اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ مختلف مضامین پڑھانے کے علاوہ طالب علموں کو ان کی عقل اور شعور کے حساب سے انہیں جنرل نالج سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔ بچوں میں میل جول سے رہنا، بڑوں سے تمیز سے بات کرنا۔ ان کا ادب کرنا۔ ان کے کرداربارے میں آگاہ کرنا۔ سچائی حق گوئی سکھانا، وطن سے محبت صاف باطن اور صاف حمید کے ساتھ لوگوں کی خدمت کا درس دینا چاہیے۔کتنے افسوس کا مقام ہے جبکہ اغیار میں ہے مسلمان انتشار کا شکار ہیں۔ اسلامی ممالک ایک دوسرے سے کوئی بھائی چارے نہیں رکھتے بلکہ غیر مسلموں سے اپنے مفاد کی خاطر یگانگت پیدا کرتے ہیں۔ بھارت جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے کشمیریوں پر ظلم ڈھارہا ہے۔ اسلامی ممالک پکا گڑھ جوڑ ہے۔ وہ لوگ جو مسلمانوں سے بغض اور غنا د رکھتے ہیں ان سے دوستی ہے۔ آپس کی نااتفاقیوں کی وجہ سے دوسروں نے مسئلہ کشمیر اٹھایا ہے۔
پاکستان نے لاکھوں افغانیوں کو پناہ دی۔ پاسپورٹ اور وہ شخص پاکستان میں پیدا ہوا۔ یہاں پر تعلیم حاصل کی۔ یہاں کے پاسپورٹ، شناختی پارڈ پر بیرون ملک سفر کرتا ہے۔ پاکستان کو کن بیہودہ الفاظ سے نوازتا ہے۔ دوسرا وہ غدار وطن نواز شریف اس سے ملاقاتیں کرتا ہے۔ ڈوب مر نواز شریف اس نے کہا ہے کہ ’’پنجابی ہیرامنڈی کی پیداوار ہیں‘‘۔
محب وطن پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ اس نئی پود میں خود اعتمادی پیدا کریں۔ ان کی تعلیم بمعہ تربیت پر توجہ دیں۔ سارا سال محنت کریں، اچھے نمبروں سے پاس ہوں، نقل اور جعلی ڈگریوں کے چکر سے انہیں نکالیں۔