انخلا میں توسیع کی تو امریکا کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، طالبان

273

طالبان نے امریکا کو 31 اگست تک افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عمل مکمل نہ ہونے کی صورت میں خبردار کیا ہے کہ انخلا میں توسیع کی صورت میں امریکا کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سرخ لکیر ہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ 31 اگست کو ان کی تمام افواج کا انخلا مکمل ہو جائے گا، لہٰذا اگر وہ یہاں قیام میں توسیع کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے قبضے میں توسیع کررہے ہیں حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اور برطانیہ یہاں سے انخلا کے لیے مزید وقت چاہتے ہیں تو ہمارا جواب ناں ہے ورنہ انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارے درمیان عدم اعتماد جنم لے گا، اگر وہ یہاں قبضہ جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں تو اس سے ایک خطرناک ردعمل پیدا ہو گا۔

طالبان ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے موقع سامنے آیا ہے جب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر جو بائیڈن سے درخواست کریں گے کہ وہ اپنی خودساختہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع کریں۔

رواں ہفتے منگل کو افغانستان کی صورتحال پر جی-7 کا ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس میں ممکنہ طور پر بورس جانسن امریکی صدر سے فوج کے افغانستان میں قیام میں توسیع کی درخواست کریں گے۔

دوسری جانب افغانستان سے نکلنے کی کوشش میں کابل ایئرپورٹ پر ہلاکتوں کی تعداد 20 سے تجاوز کر گئی ہے۔

تاہم طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ان افراد کے افغانستان سے جانے کی وجہ سے کوئی خوف یا پریشانی نہیں بلکہ وہ مغربی ممالک میں رہنا چاہتے ہیں اور آپ اسے معاشی ہجرت کہہ سکتے ہیں کیونکہ افغانستان ایک غریب ملک ہے اور یہاں کے 70 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں لہٰذا ہر شخص مغربی ممالک میں رہنا چاہتا ہے۔