نواز شریف کی واپسی!

291

1858 تک ایک روایت رہی کہ نئی حکومت جانے والی حکومت کے اقدامات پر تنقید نہیں کرتی تھی اور پرنٹ میڈیا کی بات بھی سنی جاتی تھی، گویا کہ 1958سے پہلے حکومتیں موسم کے ساتھ ساتھ بدلتی رہیں، وزرائے اعظم آتے جاتے رہے، ایوب نے گو کہ کرپشن کی بنیاد پر ہی حکومت کا تختہ الٹا تھا اور بہت سے سیاستدانوں کو سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے سے روک دیا تھا مگر پرانی حکومت پر تنقید نہیں کی، بھٹو چونکہ ایوب خان کی مخالفت کر کے اس کی حکومت سے نکلے تھے لہٰذا تکنیکی طور پر انہوں نے ایوب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، یہ سیاسی تکنیک بھی تھی اور ان کی ضروریات بھی، ضیاء الحق کوبھی اس راہ پر چلنا پڑا اور بھٹو دشمنی میں حکومت کڑواہٹ تک چلی گئی جو انتقام پر منتج ہوئی، ضیاء الحق کے بعد مشرف کے علاوہ سیاسی حکومتیں رہیں مگر ان پر فوج کی نگرانی ضرور رہی، بے نظیر اور نواز شریف کے دست بہ گریباں ہونے میں بھی فوج کا کردار تھا اور مقصد یہی تھا کہ سیاست دان بدنام ہو جائیں، اور اگر بے نظیر یہ بھی نہ چاہتیں تو نواز شریف کو حرف آرائی سے کون روک سکتا تھا، تو یہی معرکہ آرائی رہی اور دونوں سے فاش غلطیاں ہوتی رہیں، ایک بار نصیر الدین بابر نے کہا تھا کہ میرا بس چلے تو میں نواز شریف کی کھال کھینچ لوں اور نواز نے بے نظیر کی تصاویر حسین حقانی سے تقسیم کروا کر بدلہ چکا دیا، مگر اس کے باوجود بے نظیر اور نواز شریف کے درمیان مسابقت کی فضا قائم رہی اور عوام کی بہبود کے کچھ نہ کچھ کام ان کو کرنے ہی پڑے، بے نظیر کی فوج کے ہاتھوں بہت تذلیل ہوئی مگر سیاست میں بہت کچھ سہنا پڑتا ہے، اسی دوران فوج نے نام نہاد افغان جہاد کے دوران مذہبی انتہا پسندی کوپھیلنے دیا اور دینی MONSTERSپیدا کر لئے، ان سے سیاسی جماعتوں کو ڈرانے کا کام لیا گیا، اور سیاسی حکومتیں ہمیشہ ان سے خوف زدہ رہیں، بعدازاں ان کو احساس ہوا کہ مذہبی ووٹ ان کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتے ہیں، ہر چند کہ پی پی پی نے ترقی پسندی کا نعرہ دیا مگر یہ بھی درست ہے کہ اندروں خانہ ان کے بھی بنیاد پرستوں سے رابطے رہے، بھٹو کے حکمت بدین سے رابطے تھے نصیر اللہ بابر نے طالبان کو اپنے بچے کہا تھا، بے نظیر کو مولانا سمیع الحق کے قدموں میں بیٹھے دیکھا گیا، نواز شریف کے اسامہ بن لادن سے تعلقات بنے، پاکستان کو مذہبی بنیاد پرستی کی طرف دھکیلنے میں سب کا ہی ہاتھ رہا، اس حمام میں سب ننگے ہیں، اور فوج چاہتی بھی یہی تھی، پاکستان کو وہ لیڈر شائد نہ ملے جو روشن خیال اور ترقی پسند ہو، عمران بھی اس غول میں شامل ہے۔
عمران نے سیاسی جماعت تو بنا لی مگر سیاسی ذہن رکھنے والے لوگ اس کی جانب متوجہ نہ ہو سکے فوج کے لئے یہ صورت حال پسندیدہ تھی، اس وقت نواز شریف فوج کو آنکھیں دکھانے لگے تھے، زرداری سے فوج کی بنتی نہیں تھی سو عمران ہی آئیڈیل تھے اور ان کو لایا گیا، فوج جانتی تھی کہ عمران کے پاس حکومت چلانے کا نہ تو کوئی تجربہ ہے اور حکومت چلانے والے لوگ ،یہ ایک اور پلس پوائنٹ تھا، فوج کو ایسا ہی شخص درکار تھا، مگر عوام کی بہبود کی کوئی پالیسی عمران کے پاس نہ تھی، تو پہلی ترکیب تو یہ استعمال کی گئی کہ پی پی پی اور ن لیگ کو مقدمات میں الجھایا جائے تاکہ بیان بازی میں کچھ وقت کٹ جائے، نواز، زرداری اور مریم کو جیل میں ڈالنے کے بعد عمران کے پاس کرنے کو کچھ نہ تھا۔ چور ڈاکو کب تک کہتے، اپوزیشن آہستہ آہستہ دیوار سے لگ رہی تھی سوچا یہ گیا کہ یہ دونوں جماعتیں اگر مر گئیں تو پھر ہم کیا کریں گے سو سیاست میں ہلچل پیدا کرنے کے لئے مریم اور زرداری کو باہر نکالا گیا اور نواز کو باہر بھیجنے کے لئے ایک ڈرامائی کیفیت پیدا کی گئی سارے اداروں نے مل کر نواز کو لندن روانہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، عمران کو خبر بھی نہ ہوئی اور اس نے اس کا ذمہ دارعدلیہ کو ٹھہرایا ارو چیف جسٹس کھوسہ جاتے جاتے عمران کو دھمکی دے کر گئے، اپوزیشن کو زندہ رکھنے کے لئے نواز کو باہر بھیجا گیا فوج کو معلوم تھا کہ نواز باہر جا کر چپ نہیں رہے گا مگر کچھ کر بھی نہیں سکتا، یہی ہوا نواز بولا اور اتنا بولا کہ عمران کو منہ پر ہاتھ پھیر کر کہنا پڑا کہ بچو اب نہیں چھوڑوں گا، اسحاق ڈار ملک سے فرار ہوا، حکومت کے سارے ترجمان ،وزراء اور نیب پراسیکیوٹر اس کو اس کو واپس نہ لا سکے، پاسپورٹ تو اس کا بھی کینسل ہوا تھا، اب نواز شریف کے بارے میں دو تین بیانیے سیاسی مارکیٹ میں ہیں، شیخ رشید کہتے ہیں کہ پاسپورٹ منسوخ ہو چکا ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کا شہری نہیں، دوسرا ترجمان کہتا ہے کہ پاسپورٹ پر ویزا EXPIREہو گیا، تیسرا نواز شریف سے مطالبہ کرتا ہے کہ واپس آئو اور جیل جائو، نواز حکومت کے لئے خطرہ بالکل نہیں مگر کچھ کرنے کو ہے نہیں لہٰذا از راہ تفنن بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت کی جانب سے کامیڈی پروگرام سیاسی سٹیج سے نشر ہور ہا ہے اور ایسا تاثر دیاجارہا ہے نواز سیاست میں زندہ ہے، یہ عمران حکومت کا ذہنی دیوالیہ پن ہے، اسی بیان بازی میں کچھ وقت ٹل جائے گا، فوج نے پاکستان کو دنیا میں بالکل اکیلا کر دیا، خیرات ملتی ہے تو ملک چلتا ہے یا OVERSEAS PAKISTANIڈالرز اور پائونڈز بھیجتے ہیں تو کام چل جاتا ہے بیرون ملک پاکستانیوں کی محبت عمران کے دل میں زرمبادلہ بھیجنے کی وجہ سے ہے مگر عمران کو یہ کسی نے نہیں بتایا کہ قونصلیٹ کسی بھی ملک میں کمیونٹی فنڈ کا حساب نہیں دیتی بلکہ اس فنڈ سے یوم کشمیر اور یوم آزادی منایا جاتا ہے،قونصلیٹ کا آڈٹ کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا، عشروں سے اے جی پی آر کے آڈیٹرز آتے ہیں اور شائد 42nd STREETپر اپنے شوق پورے کر کے چلے جاتے ہیں۔ زرداری کا فوج سے سمجھوتہ ہو چکا ہے، نواز شریف کے واپس آنے کا کوئی امکان نہیں، ایک بات بعید ازعقل ہے اور وہ یہ ہے جب نواز شریف کا لندن میں کوئی سوشل اور لیگل STATUSتو اس نے لندن میں اتنی گراں قدرجائیداد کیسے خرید لی، یہ جائیداد حسین اور حسن کے بالغ ہونے سے پہلے خریدی گئی تھیں، ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ ملین پونڈز لے کر لندن آئے اور جائیداد خرید لے ایک بڑی رقم INVESTکرنے پر قیام کی سہولت تو دی جاتی ہو گی، بغیر کسی اجازت نامے کے کوئی INVESTMENTکیسے کی جا سکتی ہے؟
تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ عمران کو بظاہر کوئی خطرہ نہیں، لوگ نالاں ہیں مگر مہنگائی سہہ رہے ہیں۔ مگر ان کا کسی احتجاج کا کوئی ارادہ نہیں، غلامی ان کے مزاج میں رچی بسی ہے، یہ بات عمران بھی جانتے ہیں اور فوج بھی اور اگر کبھی احتجاج ہو تو قوم کو ڈرانے کے لئے ڈنڈا بردار انتہا پسندمولوی موجود ہیں، اور اب وہ اتنے طاقت ور ہیں اور فوج کی سرپرستی حاصل ہے کہ قرآن و سنت کی رو سے کچھ ہو یا نہ ہو ،ہوگا وہی جو وہ چاہیں گے، کراچی تک تو وہ آہی چکے ہیں بس پنجاب کا وسطی علاقہ ان کی گرفت میں آنے کی دیر ہے پاکستان میں مکمل افغانی پشتون تسلط ہو گا یہ جو حکومت کی سیاسی اچھل کود ہے وہ بس عوام کو مصروف رکھنے کا بہانہ ہے حکومت کچھ کر ہی نہیں پارہی معاشی سرگرمی کچھ بھی نہیں، تین سال سے بس چوروں، ڈاکوئوں کا رونا، یہ نہ نواز شریف کو واپس لا سکتے ہیں اور نہ لوٹی ہوئی دولت، شہزاد اکبر جتنا چاہیں جھوٹ بول لیں۔