افغانستان کی بدلتی صورت حال، اشرف غنی کی حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے

268

آج کل افغانستان آتش فشاں بنا ہوا ہے روزانہ نئی نئی خبریں آرہی ہیں طالبان نے اپنے حملے تیز کر دئیے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے سے پہلے پوری کوشش کی کہ اشرف غنی کی حکومت کسی طرح قائم رہے یا دونوں فریقوں میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔ ایک مشترکہ حکومت قائم ہو جائے اور امریکن رٹ بھی قائم رہے یا امریکہ اپنے مفادات کی نگرانی بھی کرتا رہے۔ اس کے سامنے چائنہ اور روس دو ملک ایسے ہیں جوامریکی حکومت کی ساری محنت پر پانی پھیر سکتے ہیں۔ پاکستان اس وقت خطہ کا سب سے اہم ملک بن گیا ہے۔ امریکہ چاہے بھی تو وہ پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ امریکی طاقت اور دولت کا خواب اب چکنا چور ہو گیا ہے۔ پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کا ڈرامہ اب ختم ہوگیاہے۔ عمران خان نے Absolutly notکہہ کر امریکی حکومت کا منہ بند کر دیا ہے۔ اس وقت بہت ہی مشکل صورت حال میں امریکہ گرفتار ہے۔ طالبان سے معاہدہ کر کے وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ آسانی سے افغانستان سے نکل جائے گا اور کمزور طالبان کو اشرف غنی حکومت کے سامنے چھوڑ جائے گا۔ امریکہ نے اتنا اسلحہ اور ٹریننگ اشرف غنی کے فوجیوں کو دی تھی جو بہت کامیاب سٹرٹیجی سمجھی جاتی تھی۔
ساتھ ساتھ بھارت بھی اس ملک میں موجود تھا اس کے کونسل خانے راء کے ورکروں کاگڑھ بنے ہوئے تھے۔ یہاں سے ہی پاکستان میں دہشت گردی کی جاتی تھی۔ پاکستان میں ستر ہزار سے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ بھارت اس سے بہت خوش تھا وہ اپنے ایجنٹ بلوچستان سے پاکستان میں داخل کررہا تھا وہ ہر حال میں سی پیک کو ختم کر دینا چاہتا تھا۔ اس کے لئے اس کو امریکہ کی آشیر باد بھی حاصل تھی وہ کسی طرح بھی پاکستان کی ترقی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کو ایک کمزور اور معاشی طور پر بدحال پاکستان چاہیے تھا۔
طالبان نے اب بہت تیزی سے اپنے قدم بڑھانا شروع کر دئیے ہیں جو یہ سمجھا جارہا تھا کہ طالبان ملا عمر کے بعد کمزور ہو گئے ہیں یاان کا مرکزی ڈھانچہ ٹوٹ گیا ہے یا ان کی سپلائی لائن کٹ گئی ہے یا مالی طور پر وہ بہت کمزور ہو گئے ہیں وہ باتیں غلط ثابت ہو گئی ہیں۔ اس وقت طالبان کی کمان کس کے پاس ہے اس کا اندازہ تو نہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملاغنی برادر سب سے اہم کردار طالبان گروپ میں ادا کررہے ہیں۔ وہ ہی سب سے آگے آگے ہر میٹنگ اور معاہدے میں نظر آتے ہیں۔ قطر میں ہر میٹنگ میں وہ موجود رہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور شاہین اپنے بیانوں اور دعوئوں میں تیزی لے آئے ہیں ان لوگوں نے 85فیصد علاقوں پر دعویٰ کردیا ہے کہ افغانستان پر ان کا کنٹرول مستحکم ہوتا جارہا ہے اور اشرف غنی کی حکومت اب صرف کابل تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اشرف غنی کے اقتدار کا ستارہ اب آہستہ آہستہ ڈوبتا جارہا ہے۔ کابل اب اس کے لئے ڈرائونا خواب بنتا جارہا ہے۔ امریکہ سے وہ امیدیں لیکر چلا تھا یا امریکہ اس کو جس مقصد کے لئے لایا تھا اب ساری امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں۔ امریکہ تو اپنا بوریا بستر گول کر چکا۔ اب صرف اشرف غنی کا جانا ہی رہ گیا ہے۔ سب سے گھاٹے میں جو آدمی رہے گا اس کا نام ہے عبداللہ عبداللہ دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔ اس کی ساری حسرتیں اور خواہشیں دل ہی میں رہ گئیں وہ یہ سوچ رہا تھا اگلے الیکشن میں وہ اشرف غنی کو ہٹا کر خود صدر بن جائے گا اور لمبے عرصے تک حکمرانی کرے گا لیکن اب ایسا ممکن نہ ہو گا وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے طالبان بہت تیزی کے ساتھ کابل کی طرف بڑھ رہے ہیں طالبان کی کوشش یہ ہے کہ وہ سب سے آخر میں کابل کو فتح کریں پہلے وہ اشرف غنی کی فوجوں سے ہتھیار دلوالیں یا اپنے ساتھ ملا لیں یا ان کو بھاگنے پر مجبور کر دیں پھر جو اشرف غنی کی بچی کھچی فوج ہو اس پر چاروں طرف سے حملہ کیا جائے۔ اگر اشرف غنی خود بھاگ جاتا ہے تو کابل پر قبضہ کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ اس وقت بھی دوبارہ قطر میں ایک مذاکرات کا دور ہورہا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان لیکن اس کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلنا ۔طالبان نے اپنے پنجے تیز کر لئے ہیں۔ کابل کی فتح ان کو بہت قریب نظر آرہی ہے۔ جس انداز سے اشرف غنی کی فوجیں شکست کھارہی ہیں کابل ان سے بہت قریب آتا جارہا ہے۔ اس وقت ایران کے بارڈر کے پاس لڑائی ہورہی ہے پوری دنیا کا میڈیا طالبان کی کامیابیوں کی نوید سنارہا ہے۔ بی بی سی ، سی این این، الجزیرہ کا بلیٹن ایسی کامیابیوں سے بھرا ہوتاہے۔
پچھلے دنوں طالبان نے ایک تصویر میڈیا اور سوشل میڈیا پر نشر کی جس میں ایک طالبان نے رشید دوستم کی مارشل کی وردی پہن رکھی تھی جس سے ظاہر ہو رہا تھا طالبان رشید دوستم کے گھر تک پہنچ گئے یہ سارا علاقہ شمالی اتحاد کے کنٹرول کا علاقہ کہلاتا ہے اب طالبان وہاں قابض ہیں ۔آنے والے دن افغانیوں کے لئے بہت خون ریزی لیکر آرہے ہیں۔ افغانستان میں کب سکون اور امن ہو گا یہ کہنا بہت مشکل ہے۔