پاکستان میں قحط الرجال ہے کیا؟

298

پاکستانیوں نے دنیا بھر میں ہر جگہ اپنی سانس روکی ہوئی تھی اور ہر لب پر ایک یہی سوال تھا کہ نیزہ باز ارشد ندیم کیا 29 برس کی اس قحط سالی اور جمود کو توڑ سکے گا جو اولمپکس مقابلوں میں تمغہ جیتنے کے معاملے میں اتنے طویل عرصہ سے چلاآرہا ہے۔
لیکن آخر میں یہی ہوا کہ قحط ختم ہوا نہ میڈل کا جمود ٹوٹا۔ ندیم نے اپنی بھرپور کوشش کی، بہت زور لگایا، بہت جان لگائی لیکن زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد والا سلسلہ جاری رہا اور پاکستان ٹوکیو اولمپکس میں بھی کوئی تمغہ، کوئی میڈل، جیتنے سے محروم رہا۔
وہ آخری اولمپکس مقابلے جو اسپین کے شہر بارسلونا میں 1992 میں منعقد ہوئے تھے وہ آخری بار تھی جو پاکستان کے ایک مکہ باز، یا عرفِ عام میں باکسر، نے تیسرے نمبر پر آکر اپنے ملک کیلئے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن پاکستان نے پھر کوئی میڈل نہیں جیتا۔
بہت ہوتے ہیں 29 برس۔ دو نسلیں جوان ہوجاتی ہیں اس طویل عرصے میں۔ خود پاکستان نے اس دوران کیا کچھ تبدیلی نہیں دیکھی۔ نام نہاد جمہوری حکومتوں کوایک کے بعد دیگرے آتے جاتے دیکھا، رنگیلے جرنیل مشرف کا طویل عسکری دور بھی دیکھا جس میں انہوں نے جمہور پسند ہونے کی بہت کوشش کی لیکن ان کی نیت میں کھوٹ اور فتور تھا تو اپنے اقتدار کے دمَِ آخر تک وہ وہی رہے جس مطلق العنانیت کی ان پر چھاپ تھی۔
سب سے بڑا کارنامہ اس طویل دورانیہ میں پاکستان کا ایٹم بم بنانا اور اسکا کامیاب تجربہ کرکے دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کا ہوا ہے۔ پاکستان نے یہ تاریخی سنگِ میل مغربی استعمار پرستوں کی طرف سے سخت ترین مخالفت اور کھلی دشمنی کے باوجود پار کیا اور دنیا پر ثابت کردیا کہ اپنی قومی سلامتی کے باب میں پاکستان کوئی سمجھوتہ کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہوسکتا۔ ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا مغربی سامراج اور اس کے گماشتوں میں، جن میں صیہونی اسرائیل اور جنگی جنون میں مبتلا بھارت پیش پیش تھے، لیکن پاکستانی سائنسدانوں اور ماہرین کی شبانہ روز محنت آخرِ کار ثمر بار ہوئی اور جوہری طاقت بننے کی پاکستانی مہم سبیل کو پہنچی۔
تو یہی تو رونے کا مقام ہے کہ بائیس کڑوڑ محنتی اور ہمت والے لوگوں کا ملک جو دنیا کی بے اصول مخالفت کے باوجود ایٹم بم بنا سکتا ہے وہ کھیلوں کے میدان میں اتنا پیدل اور ناکارہ ہے کہ 29 برس سے اولمپکس مقابلوں میں جھوٹ کو بھی ایک تمغہ نہیں جیت سکا۔
ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہر اس حکومت کی ہے جو ان تین دہائیوں میں پاکستان میں برسرِ اقتدار رہی ہے۔ اور جواب دینا فرض صرف حکومت یا حکومتوں کا نہیں ہے بلکہ افواجِ پاکستان کا بھی ہے جن کی روایت یہ رہی ہے کہ ماضی میں پاکستان کے بہترین کھلاڑی افواجِ پاکستان سے وابستہ رہے ہیں۔ پھر گذشتہ سترہ برس سے ایک ریٹائرڈ لفٹیننٹ جنرل پاکستان اولمپکس کے ادارہ کے سربراہ چلے آرہے ہیں۔ اس دوران بلاشبہ انہوں نے مراعات کے ضمن میں اپنی تمام ضروریات بھرپور طریقے سے پوری کی ہونگی لیکن ان کی طویل قیادت نے پاکستان میں میڈل کے میدان میں قحط سالی کا کوئی مداوا نہیں کیا جو قابلِ افسوس ہے۔ بلکہ صرف افسوس کا اظہار کرکے بات ختم نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ قیادت اور رہنمائی کے تمام تر دعوے دھرے رہ جاتے ہیں اور بائیس کڑوڑ عوام کی قوم کو ہر اولمپکس کے بعد شرم سے سر جھکانا پڑتا ہے۔
پاکستان میں یہ قحط الرجال ہے یا معاملہ کچھ اور ہے یہ جاننے کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔
یہ کہنا تو حقیقت سے انکار ہوگا کہ پاکستان میں جوہرِ قابل کا فقدان یا قحط ہے۔ ایٹم بم کی مثال ہی بہت کافی ہے۔ اسکے علاوہ دیگر شعبہِ حیات کو جانے دیجئے کھیلوں کے میدان میں ہی کرکٹ کی مثال لے لیجئے جس میں پاکستان کا شمار دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے اور یہ اس کے باوجود ہے کہ ملک میں آج تک کرکٹ کے کھیل میں باقاعدہ تربیت کا وہ نظام قائم نہیں ہوسکا جو کرکٹ کے جنون میں مبتلا قوم میں ہونا چاہئے۔ افسوس اور بھی ہوتا ہے کہ گذشتہ تین برس سے پاکستان کی قومی اور سیاسی قیادت ایک ایسے کرکٹر کے ہاتھوں میں ہے جو وزیرِ اعظم بننے سے پہلے ہر موقع بے موقع یہ تنقید کیا کرتا تھا، سابقہ حکومتوں پر، کہ وہ پاکستان میں کرکٹ کو نظر انداز کرنے کی مجرم ہیں اور ان کی غفلت کے سبب پاکستان کے بیشمار کھلاڑی جو دنیا میں نام کماسکتے تھے اور پاکستان کا نام روشن کرسکتے تھے ابھر کر سامنے آنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اب کوئی عمران خان سے پوچھے کہ حضرت، آپ نے پاکستانی کرکٹ کو کن انعامات سے نوازا ہے؟ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ معاملہ تو پاکستانی کرکٹ میں یہ ہوا کہ آپ کے دور میں یہ کھیل اور پاکستان کا اس سے وابستہ نام اور ساکھ دونوں رو بہ زوال ہورہے ہیں۔ پاکستانی عوام کو توقع یہ تھی کہ آپ کی سرپرستی میں کرکٹ کی ٹیم دنیا میں کامیابی اور کامرانی کے نت نئے جھنڈے گاڑے گی لیکن ہوا یہ کہ پاکستان کی بنی بنائی ساکھ بھی بگڑتی جارہی ہے اور قوم حیران و پریشان ہے کہ ان کی چہیتی ٹیم کو کس کی نظر لگ گئی ہے جو بات سنورتی ہی نہیں ہے۔
بس تو بات سمجھ میں آگئی اور ناکامیوں کا بھید کھل گیا۔ پاکستان میں کھیل یوں نہیں پنپ رہے کہ حکومت کو اور ان کو جو صاحبان مسند و منصب ہیں اس سے کوئی دلچسپی ہے کہ ملک کیسے بدنام ہورہا ہے، کس طرح رسوائی اس کا مقدر بنی ہوئی ہے کہ ایٹم بم بنانے والی قوم تیس برس میں ایک کانسی کا تمغہ بھی نہیں جیت سکی۔
ملک میں کھیل بھی سیاست کے ایسے ہی شکار ہیں جیسے زندگی کے دیگر شعبے۔ کرکٹ کی مثال دینی پڑتی ہے جس پر مصباح الحق اور وقار یونس برسوں سے یوں قابض بیٹھے اور قوم کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں جیسے کرکٹ بورڈ ان کی جاگیر ہو اور انہیں تاحیات سونپ دی گئی ہو۔ برا حال ہے کرکٹ کے ٹورنامنٹ خوب ہوتے ہیں، ان میں ایک سے ایک ہنرمند، نوجوان کھلاڑی ابھر کر سامنے آتے ہیں لیکن جب قومی ٹیم کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے تو ہر پھر کے پھر وہی پرانے، آزمائے ہوئے ناکام کھلاڑیوں کے نام ہی سامنے آتے ہیں جو یہ سوچنے پہ مجبور کردیتے ہیں کہ کیا واقعی ملک میں جوہر قابل کا قحط ہے؟
پھر یہ بھی المیہ ہے کہ کرکٹ ایسے خواص و عوام کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہے کہ اس کے ماسوا کسی اور کھیل کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم ان کھیلوں میں بھی اب ناکام و نامراد رہتے ہیں جن میں کبھی ہمارے نام کا سکہ چلا کرتا تھا۔ اس کی بد ترین مثال ہاکی ہے جسمیں ہم نے ماضی میں وہ نام کمایا تھا کہ ایک دنیا ہم پہ رشک کرتی تھی۔ روم میں 1960 کے مقابلوں میں اور پھر 1968 میں میکسیکو کے اولمپکس میں پاکستان نے سونے کے تمغے جیتے تھے اور دنیا سے اپنی مہارت اور صلاحیت کا لوہا منوایا تھا لیکن اب یہ عالم ہے کہ پچھلے دو اولمپک مقابلوں کیلئے تو ہماری قومی ہاکی ٹیم کوالیفائی ہی نہیں کرسکی تھی اور یہی قحط سالی حالیہ ٹوکیو اولمپکس میں بھی برقرار رہی۔
یہ قحط سالی رہے گی، یونہی رہے گی بلکہ بد سے بدتر ہوتی جائیگی اگر ہم نے اپنی موجودہ روش نہ بدلی۔
عجیب و غریب حال ہے اس قوم کا کہ اسکی ساری توجہ، اور بہترین صلاحیتیں، مرکوز ہیں سیاست پر۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ پاکستانی قوم کا پسندیدہ کھیل اور مشغلہ سیاست اور صرف سیاست ہے۔ دور کیوں جائیں، دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی کا مرکز و محور گذشتہ تین چار ہفتوں سے ٹوکیو میں ہونے والے، اور کووڈ کے ہاتھوں انتہائی غیر معمولی حالات میں ہونے والے، اولمپکس مقابلوں اور کھیلوں پر تھا لیکن پاکستان میں بحث و مباحثہ کا مرکز و محور یہ تھا کہ برطانیہ کی حکومت نے لندن میں مقیم پاکستان کے سزایافتہ اور بھگوڑے سابقہ وزیرِ اعظم نواز شریف کے ویزا میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک بھر کے پنڈت اور برہمن اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ یہ نامی چور جو پاکستان کے قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے لندن میں چھپا بیٹھا ہے اب کیا کرے گا؟
حکومتِ وقت کے عمائدین خوشی سے بغلیں بجارہے تھے کہ عمران کا بدترین سیاسی مخالف اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر فرار ہونے والا نواز شریف اب اپنے ہی جال میں پھنس گیا ہے۔ وہ کہیں اور فرار نہیں ہوسکتا کیونکہ حکومت نے اس کے پاسپورٹ کی مدت میں توسیع کرنے سے انکار کردیا ہے جو قانونی طور پہ درست فیصلہ ہے کہ ایک ایسے مجرم کو پاسپورٹ کی سہولت نہیں دی جاسکتی جو ملک سے مفرور ہے اور ایک مدت سے لندن میں اپنی کمیں گاہ سے عمران حکومت کو ٹھینگا دکھاتا رہا ہے، منہ چڑاتا رہا ہے لیکن اب زیرِ دام آگیا ہے۔
کسی بقراط کو یہ سوچنے اور بتانے کی زحمت یا توفیق نہیں ہوئی کہ میاں، نواز جیسے مالدار مجرم کے پاس پاکستان نہ لوٹ کر آنے کے اب بھی بہت سے راستے ہیں۔ برطانیہ کا قانون اپیل کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ نواز نے پاکستان سے جو دھن لوٹا ہے وہ کس دن کام آئے گا۔ وہ برطانیہ کے بہترین وکیل کرسکتا ہے اور ان کی مہارت اسے اگلے کئی برسوں تک برطانیہ میں پناہ گزیں رکھ سکتی ہے۔ کچھ بھی ہو پیسے میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور پیسہ جب حرام کا ہو تو اسے لٹانے میں چور کا دل نہیں دکھتا۔
تو بات یہاں آکے رکتی ہے کہ پاکستان میں نہ جوہرِ قابل کی کمی ہے نہ دماغوں کی۔ مسئلہ یہ ہے، جو فساد کی جڑ بھی ہے، کہ ہماری ترجیحات غلط ہیں۔ اور جب تک قوم میں یہ شعور پیدا نہیں ہوتا کہ کیا اہم ہے اور کیا نہیں ہے تو یہی صورتِ حال رہے گی اور بائیس کڑوڑ عوام دعا مانگتے رہ جائینگے اور خواب کو تعبیر نہیں ملے گی۔ دعا بھی اس وقت مستجاب ہوتی ہے جب اس کے ساتھ عمل بھی ہو۔ بند دروازے صرف صدا دینے سے نہیں کھلتے اس کیلئے جستجو بھی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جذبہ ہو اور اس کے ساتھ محنت ہو تو پہاڑ بھی کٹ جاتے ہیں اور جوئے شیر بھی مل جاتی ہے۔؎بے فیض زمانے میں ابھرتی نہیں قومیں!!!