واشنگٹن میں اضطراب!!!

285

طالبان نے گذشتہ چند دنوں میں افغانستان کے شمال میں پانچ بڑے شہروں پر اور جنوب میں ایک بڑے شہر پر قبضہ کیا ہے دو ہفتے پہلے تک بائیڈن انتظامیہ اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ طالبان دیہاتی علاقوں میں فتوحات جاری رکھیں گے مگروہ فروری 2020 کے دوحہ معاہدے کے مطابق شہروں پر حملے نہیں کریں گے مگر اب قندوز‘ سر پل ‘ تالقان‘ شبر غن ‘ زرنج اور ایبک پر طالبان کے قبضے کے بعد واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں امریکی انخلا کی مخالفت کرنیوالے حلقوں نے اب بہ آوازز بلند پوچھنا شروع کر دیا ہے کہ امریکہ کب تک طالبان کی پیشقدمی کا تماشہ کرتا رہیگا میڈیا بائیڈن انتظامیہ سے پوچھ رہا ہے کہ کیا امریکہ کے پاس دوحہ مذاکرات اورگیارہ اگست کو دوحہ میں ہونیوالی Extended Troika ملاقات جسمیں امریکہ‘ روس اور چین کے علاوہ پاکستان بھی شامل ہے کے علاوہ بھی کچھ آپشنز ہیں وائٹ ہائوس نے ابھی تک اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا اتوار کے دن طالبان نے قندوز‘ سر پل اور تالقان پر برق رفتار حملوں کے بعد قبضہ کر لیاریٹائرڈ جنرل ویزلے کلارک جو نیٹو افواج کے کمانڈر رہ چکے ہیں نے طالبان کی فتوحات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا It is a tragedy for the people of Afghanistan, and a consequence of American misjudgements and failures یعنی یہ افغا نستان کے لوگوں کیلئے ایک المیہ ہے اور یہ امریکہ کی غلط بینی اور ناکامیوں کا نتیجہ ہے ریٹائرڈ امریکی ڈپلومیٹ Ryan Crocker جو پاکستان ‘ افغانستان اور عراق میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں نے کہا In my experience, we just have a lack of strategic patience as a nation and as a government یعنی میرے تجربے کے مطابق ہم میں بحثیت قوم اور بحثیت حکومت تزویراتی صبر کی کمی ہے سابقہ سفیر نے یہ بھی کہا کہ اب ہمارے دوست اور دشمن دونوں جان گئے ہیں کہ ہم ایک ہی راستے پر زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے دیکھا جائے تو بیس سال ایک طویل عرصہ ہے اور امریکہ میں ایک طبقے کی رائے یہ بھی ہے کہ اگر ہم بیس سال میںافغانستان کیلئے کچھ نہیں کرسکے تو آئندہ بھی کچھ نہ کر سکیں گے صدر بائیڈن نے گذشتہ ماہ صدر اشرف غنی کیساتھ ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ’’ ہم وہاں نیشن بلڈنگ کیلئے نہیں گئے تھے افغانستان کے معاملات کوسدھارنا ہمارا کام نہیں ہے‘‘ صدر بائیڈن کے اس بیان کے بارے میں جب امریکی میڈیا نے کابل میں افغان دانشوروں سے انکی رائے پوچھی تو افغان سکالر اور محقق ارزالہ نعمت نے کہا کہ’’ امریکہ نے بیس سالوں میں افغانستان کو مکمل طور اپنا محتاج بنایا اور پھر ایک دن صبح اس نے فیصلہ کیا کہ اسے یہاں سے چلا جانا چاہیئے پھر اس نے اپنا سامان اٹھایا اور چلا گیا اسے کم از کم اتنا تو کرنا چاہیئے تھا کہ ہمیں اپنے بنائے ہوے راستوں پر چلنا سکھا دیتا ‘‘ پروفیسر عمر صدر نے صدر بائیڈن کے بیان کے بارے میں کہا کہ’’ صدر جارج بش نے کئی مرتبہ کہا تھا کہ وہ افغانستان میں نیشن بلڈنگ کیلئے آئے ہیںاب امریکہ ایک خطرناک انتشار پیدا کر کے ہم سے یہ کہہ رہا ہے کہ ہم خود اسے سنبھالیں‘‘ پروفیسر صدر نے افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی ناکامی کی ذمہ داری امریکہ پر ڈالتے ہوے کہا کہ ’’ امریکہ نے ہمارے کلچر اور تاریخ کو نظر انداز کرکے ہم پر امریکی ماڈل مسلط کرنے کی کوشش کی جو ہماری سمجھ میں نہیں آیا اور آج اسکے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں‘‘
قندوز پر طالبان کے قبضے کے بعد اب دنیا کی نگاہیں قندھار اور کابل پر لگی ہوئی ہیں قندوز وسطی ایشیا جانے والی اہم شاہراہ پر واقع تقریباّّ ساڑھے تین لاکھ آبادی کا شہر ہے طالبان نے دو مرتبہ پہلے بھی اس پر قبضہ کیا تھا مگر افغان فوج نے امریکی فضائی حملوں کی مدد سے دونوں مرتبہ اسے واپس لے لیا تھا یہ شہر معاشی اور تزویراتی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے طالبان نے جون سے اسے محاصرے میں لیا ہوا تھا اور دو مہینوں کی جنگ کے دوران افغان فورسز کو تھکا دینے کے بعد انہوں نے اس پر قبضہ کر لیا امریکہ اگر چہ کہ ریپر ڈرون طیاروں اور AC- 130 گن شپ ایئر کرافٹس کے ذریعے طالبان جنگجوئوں اور انکے اسلحہ خانوں پر حملے کرتا رہا ہے مگر یہ حکمت عملی طالبان کی پیشقدمی کو روکنے میں ناکام رہی ہے قندوز کی فتح کے بعد قندھار تا ریخی ٰ اور تزویراتی اعتبار سے اہم ترین شہر ہے طالبان نے 1990 میں اسی شہر سے اپنی جہدو جہد کا آغاز کیا تھا امریکی ماہرین کے مطابق افغان فورسز اگر چہ کہ اس شہر کے دفاع کے لئے پوری طرح تیار ہیں مگر وہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک اسے دشمن کی دستبرد سے نہ بچا سکیں گی
صدر بائیڈن نے دس اگست کو وائٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز کی کمزور کارکردگی کے باوجود انہیں اپنے فیصلے پر افسوس نہیں ہے اور وہ طالبان کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوے بھی اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیںگیارہ اگست کے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اب بائیڈن انتظامیہ یہ سوچ بچار کر رہی ہے کہ کابل میں امریکی سفارتخانے کو کب تک کھلا رکھا جائے اخبار نے افغانستان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں لکھا ہے کہ Everything is moving in the wrong direction بعض انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق طالبان تین مہینے کے اندر کابل پر قبضہ کر سکتے ہیںو اشنگٹن میں پھیلتے ہوے اضطراب کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیکرٹری آف ڈیفنس لائیڈ آسٹن اس سوال کا واضح جواب نہیں دے رہے کہ اکتیس اگست کے بعد امریکہ طالبان پر فضائی حملے جاری رکھے گا یا نہیں۔