پاکستان میں کھیلوںکا عروج و زوال : بحالی کیسے ہو؟

328

جب تک آپ یہ کالم پڑھیں گے ٹوکیو میں ہونے والی اولمپکس اختتام پذیر ہوچکی ہونگی۔ان گیمز میں 206 ملکوں اور اولمپکس کمیٹیوں نے حصہ لیا۔ ان میں سے صرف89نے16اگست تک ایک یا اس سے زیادہ تمغے حاصل کیے۔باقی 117 ممالک کو کوئی تمغہ نہیں ملا، جن میں ہمارا پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ تھوڑی اچنبھے کی بات ہے کہ23کڑوڑ کی آبادی والا ملک ایک بھی کھلاڑی یا ٹیم نہیں بھیج سکا جو اس کے لیے کوئی ایک ہی تمغہ حاصل کر سکتا۔ اگرچہ باقی کے 116ملک زیادہ تر کم آبادی والے اور پسماندہ ہیں، ان میں یا اسطاعت نہیں یا ان کے وسائل استعمال کرنے کی ترجیحات فرق ہیں، جو وہ ان کھیلوں میں یا تو شرکت ہی نہیں کر سکے یا کوئی پوزیشن نہیں حاصل کر سکے۔دنیا والے حیران تو ہوں گے کہ پاکستان وہ ملک ہے جس کا سربراہ اس ملک کا مایہ ناز کھلاڑی اور سب سے پہلے کرکٹ کا سب سے بڑا اعزاز لانے والا ہے۔ عمران خان کو بھی اس بات کا احساس ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے وہ اپنی حکومت کے آئیندہ دو سالوں میں کھیلوں پر توجہ دیں گے۔
پاکستان کی73 سالہ زندگی میں ، کھیلوں کے میدان میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے وطن کا نام بہت دفعہ روشن کیا۔ پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے پانچ سال قبل بین الاقوامی کھیل کے میدانوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کے کارنامے بتائے جو قابل تحسین ہیں۔ ان میں، 1992میں عمران خان کی کپتانی میں پاکستان کو کرکٹ کا پہلا اور اکلوتا ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز ملا۔پاکستان کے کھلاڑیوں، یونس خان، شعیب ملک، اور شاہد آفریدی نے کرکٹ میں بڑے بڑوں کو ہرایا، جیسے شعیب ملک نے2007 میں سری لنکا کے کمار سنگگکارا کو لورڈز میں شکست دی۔اگر اولمپکس میں کرکٹ بھی شامل ہوتی تو شاید پاکستان ایک یا زیادہ تمغے تو حاصل کر ہی لیتا۔
دوسرا بڑا اعزاز سکواش کے ورلڈ اوپن میچز میں جان شیر خان کو ملا جنہوں نے آٹھ مرتبہ ان میچز میں چیمپین کا کپ اٹھایا۔سکواش میں ان کی فتح کے جھنڈے13سال (1988-2000) تک دیکھے گئے۔ اسی کھیل میں جہانگیر خان نے بھی خوب نام کمایا۔ جنہوں نے متواتر پانچ سال تک 555میچز کھیلے اورجیتے۔ تیسرے نمبر پر سہیل عباس کا نام آتا ہے جنہوں ہاکی کے میدان میں کل ملا کر 268گول کیے۔ اس معاملے میں انہوں نے نیدرلینڈ کے مشہور کھلاڑی پال کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور بین الاقوامی ہاکی میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے اور بھی کئی ریکارڈ بنائے جن میں ایک سال میں ساٹھ گول کرنے کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔وہ دنیا کے پہلے ہاکی کے کھلاڑی تھے جنہوں نے سب سے زیادہ (348) گول کیے۔ پاکستان کی ہاکی ٹیم کو اس کھیل میں سب سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے. 1971 میں بارسلونا میں سپین کو شکست دیکر ورلڈ کپ جیتا۔ اور سات سال بعد نیدرلینڈ کو شکست سے دو چار کیا۔ تیسے بڑا اعزاز بھارت میں حاصل کیا جب پاکستان کی ہاکی ٹیم نے مغربی جرمنی کی ٹیم کو 3-1 سے ہرایا۔اور آخری بار ،1994 میں سڈنی آسٹریلیا میں نیدرلینڈ کو پھر شکست دی۔ اس کے علاوہ ایشین گیمز کے مقابلوں میں پاکستان کی ہاکی کی ٹیم نے15 دفعہ مقابلوں میں حصہ لیا اور 8 دفعہ سونے کا تمغہ لیکر جیتے۔اور مزے کی بات یہ تھی کہ ان میں سات مقابلے بھارت کی ٹیم کے ساتھ تھے جن میںپاکستان فتحیاب ہوا۔آخری بار2010 میں چین میں ایشیائی کھیلوں کے مقابلہ میں پاکستان کی ہاکی ٹیم نے ملیشیا کو ہرا کر سونے کا تمغہ لیا۔
اب ذرا اولمپکس میں پاکستان کی کار کردگی کا جائزہ لیں۔ پاکستان نے خیر سے 1956میں میلبورن آسٹریلیا میں حصہ لیا اس کے بعد سوائے 1980 کے ہر اولمپکس میں 1992 تک حصہ لیتا رہا، جن میں کل دس تمغے حاصل کیے جن میں سے 3 سونے کے، 3 چاندی کے اور باقی چار کانسی کے۔ یہ سب تمغے ہاکی میں جیتے سوائے دو کانسی کے تمغوں کے جو محمد بشیر نے کُشتی میں اور سید حسین شاہ نے باکسنگ میں لیے۔پاکستان کے مقابلے میں، ابتک، افغانستان نے ۲ کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ بھارت نے کل 9 سونے کے، 7 چاندی کے اور12کانسی کے تمغے لیے۔ ایران نے کل67تمغے لیے جن میں18 سونے کے اور 21چاندی کے تھے۔ دنیا میں سب سے زیادہ تمغے لینے کا اعزاز امریکہ کا ہے جس نے کل تک 2521 تمغے جیتے جن میں سے 1022 سونے کے ، اور 795 چاندی کے تھے۔حالیہ اولمپکس میں جو ٹوکیو میں منعقد ہوئی ہیں، ہمارے مقابل بھارت ایک سونے کا تمغہ لے سکا، اور پاکستان نے ایک تمغہ بھی نہیں جیتا۔سوچنے کا مقام ہے کہ فیوجی جیسے چھوٹے سے ملک نے بھی ایک سونے کاایک کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ اور کیو با نے ۱۲ تمغے جیتے جن میں سے ۵ سونے کے تھے۔بھارت ، کیوبا سے اور پاکستان فیوجی سے بھی گیاگذرا ملک نکلا۔پاکستان میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب سے کرپشن نے زور پکڑا، کھیلوں کی دنیا بھی ویران ہو گئی۔اس لیے کہ کھیلوں کے لیے جو تھوڑا بہت فنڈ ملتا تھا اسے منتظمین کھا پی جاتے تھے۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ کچھ ملک اتنے زیادہ میڈل جیت لیتے ہیں؟ اس کی کئی وجوحات ہیں۔ جیسے کچھ فیلڈز ایسی ہیں جن میں ایک کھلاڑی کئی میڈل جیت سکتا ہے۔ مثلاً پیراکی میں، امریکہ کے پیراک مائکل فیلپ نے اتنے سونے کے میڈل لیے کہ کسی نے کبھی بھی نہیں لیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں پیراکی کی ایک پرانی تاریخ ہے اور اس فیلڈ میں امریکہ کا مقام بن چکا ہے۔ پیراکی میں108میڈل دیے جا سکتے ہیں۔جبکہ باسکٹ بال اور ہاکی وغیرہ میں صرف ایک۔اس سے بھی بہتر ٹریک اور فیلڈ کے مقابلے ہیں جن میں141 میڈل مل سکتے ہیں۔فرق یہ ہے کہ پیراکی میں ایک پیراک8 تمغے بھی لے سکتا ہے لیکن ٹریک اور فیلڈ میں نہیں۔ اس کے مقابلہ میں جمناسٹک کے کھیل ہیں جن میں ایک اچھا جمناسٹ 8 تمغہ بھی جیت سکتا ہے۔ اور لڑکیاں چھ تمغے۔ امریکن کھلاڑیوں کو تمغے جیتنے پر انعامات ملتے ہیں جو اس سال بڑھا دئیے گئے ہیں۔سونے کا تمغہ جیتنے پر 37ہزار ڈالر، چاندی کے تمغے پر ساڑھے بائیس ہزار اور کانسی جیتنے پر 15 ہزار ڈالر۔بظاہر یہ رقم کھلاڑیوں کے ذاتی اخراجات کی وجہ سے دی جاتی ہے، لیکن اصل میں جو خرچ ہوتا ہے اس کے مقابلہ میںیہ انعام کچھ بھی نہیں۔
انگلینڈ میں ایک اندازے کے مطابق اولمپکس کے ایک کھلاڑی کی تربیت، خوراک اور دیگر ضروریات پر ساڑھے پانچ ملین پونڈز کا خرچ آتا ہے۔ اس حساب سے اگر پاکستان کو دس میڈل جیتنے ہیں تو ملک کو پچپن ملین پونڈزکی سرمایہ کاری کرنی پڑے گی۔پاکستان ملک کی بنیادی اوراشد ضرویات جیسے بچوں کی تعلیم، صحت، اور نوجوانوں کے لیے روزگار، غریبوں کے سر پر چھت، بجلی، پینے کا صاف پانی ،وغیرہ، سے پیسے بچائے تب ہی کھیلوں پر کچھ سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔امریکہ کی اولمپکس میں برتری کی اور وجوہات میں، ایک بڑی وجہ سارے ملک کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میں کھیلوں پر بہت توجہ اور وسائل کا وقف کرنا ہے۔
پاکستان میں کھیلوں کی حیثیت ملک کی یونیورسٹیز میں کیا ہے؟ پہلے ذرا ایک افریقی ملک زمبابوے سے ، 2017 میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ پر ڈالیں جس میں وہاں کی یونیورسٹیز میں کھیلوں کی حالت زار پر نظر ڈالی گئی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ جیسے یہ پاکستانی یونیورسٹیز کی کہانی ہو:
ـ’’گیارہ میں سے صرف دو یونیو سٹیز میں دوڑنے کے ٹریک ہیں۔اور جو مسائل دیکھے گئے ان کی بنیادی وجہ مالی وسائل کی کمی تھی۔یا پھر انتظامیہ کی لا پرواہی، جنہیں طلبا میں کھیلوں کے فوائد کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ کھیلیں اکثر ترجیحات کی فہرست میں جگہ نہیں پاتی تھیں۔اور جب کھیلوں کے لیے مختص فنڈز دیئے جاتے تھے تو وہ بھی دوسرے کاموں پر لگا دیئے جاتے تھے۔یا تو کھیلوں پر کمیٹی ہی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کھیلوں کے لیے وقت رکھا جاتا تھا۔اس تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہ مسائل اتنے دشوار نہیں تھے کہ آسانی سے حل نہ کیے جا سکتے۔اگریونیورسٹیز کی انتظامیہ اپنا رویہ بدل لیں اور کھیلوں کے فروغ کے لیے کمیٹیاں بنا دیں، تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ کھیلوں کی مد میں جو فیسیں اور رقومات جمع ہوں، انکے لیے ڈائریکٹز کوضروری اخراجات پر استعمال کرنے کے اختیارات دیئے جائیں۔لیکن اس انقلاب کو لانے میں بہت سے اداروں کو مثبت رویہ اور پالیسی کو اپنانا ہو گا۔‘‘
اب پاکستان کے بارے میں، ایک رپورٹ جو یوروپین یونین کے ایک ذیلی ادارے (SCCEU) نے فروری 2020 میں شائع کی ہے اسے دیکھئے۔ لکھا ہے: ’’تمام دنیا میں ،یونیورسٹیز کھیلوں میں ایک کلیدی کرداد ادا کرتی ہیں۔پاکستانی میڈیا اکثر جب بھی بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان ناقص کار کردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ کو مورد الزام ٹہراتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قومی ادارے نا اہلی اور وسائل کے فقدان کا شکار ہیں۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کی یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کا بھی کھیلوں کے فروغ میں بڑاکردار ہے۔اگر ہم بیرونی دنیا کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں سے مقابلہ کریں تو یقیناًہمارے سر شرم سے جھک جائیں گے۔پاکستان میں اگر کھیلوں کا معیار کم ہے تو اس کی وجوحات میں صرف وسائل کی کمی ہی نہیں، انتظامیہ کی نا اہلی، اور سب سے زیادہ یونیورسٹیز کی مینجمنٹ کی غیر دلچسپی، اور مناسب حکمت عملی کا نہ ہونا ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں بصیرت، شفاف اہداف، اور واضح مقاصد کا نہ ہونا ہے، جن سے کھیلوں کی ایک حکمت عملی بنتی اور جس سے یونیورسٹیز میں کھیلوں کا ارتقا ہوتا۔حال ہی میں پنجاب کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایک کمیٹی بنائی ہے جس نے یونیورسٹیز میں کھیلوں کے فروغ پر ایک جامع پالیسی بنائی ہے۔کم از کم یہ صحیح سمت کی طرف پہلا قدم ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کھیلوں کا آغاز تعلیمی اداروں سے ہی ہوا تھا۔کمیشن کی پالیسی کی سفارشات بہترین ہیں، جن میں انہوں نے وہ راستے متعین کیے ہیں جن پر چلنے سے کھیلوں میں بہتری آئے گی۔‘‘ اگر ان سفارشات پر عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کی 209یونیورسٹیاں عالمی سطح کے چیمپین نہ پیدا کریں۔‘‘(بشرطیکہ اس عمل کو کرپشن سے بچا کر رکھا جائے)۔
جدیدکھیلوں سے دلچسپی میں کمی کی اصل وجہ کو معاشرے کی روایات میں بھی ٹٹولنا چاہیے۔انگریزآباد کاروں کے آنے سے پہلے، بر صغیر کے مسلمان جو کھیل کھیلتے تھے ان میں بچوں میں گلی ڈنڈا، پل گولی، اور کوڑا چھپائی جیسے کھیل تھے، اور بڑوں میں، کشتی، اور کبڈی مقبول تھے۔ کچھ امیر زادے چوگان سے بھی شغل فرماتے تھے۔لیکن یہ کھیل ایسے نہیں تھے جن کو اولمپکس کی رسائی ملتی۔ دیسی سٹائل دنگل تو بین الاقوامی کشتی میں شامل نہیں ہو سکتا تھا جیسے جاپان کی سومو کشتی۔اولمپکس میں شامل ہونے والے کھیلوں کے لیے جو معیارمقرر کیے گئے ان میں یہ کھیل قابل قبول نہیں ہیں۔ پاکستانیوں نے جن کھیلوں میں نام پیدا کیا وہ کرکٹ، ہاکی، اور سکواش تھے۔ ان میں سے صرف ہاکی کو اولمپکس میں شامل کیا گیا، اور پاکستان نے ہاکی سے توجہ ہٹا لی۔ بلکہ سب کھیلوں سے سوائے کرکٹ کے۔ کرکٹ پر اس لیے کہ اس سے گیٹ اور اشتہارات کی آمدنی کھلاڑیوں کے علاوہ، سیاستدانوں اور اہل کاروں کی جیبیں بھی گرم کرتی ہے۔ ہاکی سے ایسی کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔کھیلوں پر بے توجہی کا ایک سرا اسلامی تعلیمات سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ سب کھیل اسلام کے کئی سو سال کے بعد ظہور پذیر ہوئے، ان پر اسلامی احکامات ہی نہیں۔ اس لیے مومن بے چارہ کرے تو کیا کرے؟ ویسے تو جن اعمال پر اسلامی احکامات واضح ہیں ان پر کونسا عمل ہوتا ہے؟ مثلاً اللہ کا فرمان ہے کہ’’ حاکموں کو رشوت نہ دو‘‘ (۱۸۸:۲)۔باقی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔