تحریک بدکلامی اور بدزبانی کا دور دورہ

258

عمران خان کی تحریک بدکلامی اور بدزبانی اور بداعمالی اب رنگ لارہی ہے جس کا دائرہ کار اندرون اور بیرون ملک پھیل چکا ہے جس کو دور جدید کی خطرناک فسطائیت کہا جا سکتا ہے جس میں مخالفین اور تنقید کرنے والوں کو چن چن کر مارنا پیٹنا ،اغوا اور گالی گلوچ سے اذیت دی جارہی ہے تاکہ لوگ خوف زدہ ہو کر موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور نااہلیوں پر گفتگو نہ کریں جس سے ملکی سیاست ذاتیات کی طرف رخ پکڑرہی ہے جو آہستہ آہستہ خانہ جنگی کی شکل اختیار کر جائے گی۔ ظاہر ہے جب کسی پارٹی یا شخص کو مسلسل انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا تو پھر وہ بھی اپنے دفاع میں ہر وہ حربہ اختیار کر جائے گا جس کی توقع نہ تھی۔ ابھی کل کا حادثہ ہے کہ وزیراعلیٰ بزدار کی موجودگی میں میزبان کے بھائی کا قتل ہو گیا۔ عمران خان کی خانہ بدوش ترجمان فردوس اعوان کا ایک ایم این اے مندوخیل کو ٹی وی شو میں تھپڑ مارنا۔ سندھ کے ڈاکوئوں کے سربراہ اور مشیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کا ایک صحافی کو گالی گلوچ اور تھپڑ مارنا ۔عمران خان اور ان کے وزیر کشمیر علی امین گنڈاپور کا مریم نواز کو گالی گلوچ نکالنا اور تھپڑ مارنے کی دھمکی دینا۔ عمران خان کا مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کے بارے میں جھوٹوں اور مفروضوں پر مبنی غلیظ زبان استعمال کرنا جس کے ردعمل میں مریم نواز کا اپنے بیٹے کے دفاع میں ان کے صاحبزادوں کے بارے میں یہودی گود میں پلنا یا جمائما کا یہودی کارڈ پر مبنی جواب دینا ۔یہ وہ بیانات ہیں جس کی پاکستان اور پاکستان سے باہر گونج کی آواز پہنچ چکی ہے جس کے اثرات برطانوی حکومت پر پڑے کے جمائما گولڈ سمتھ نے اپنے اثرورسوخ سے نواز شریف کا میڈیکل گرائونڈ پر قیام کو رد کروا دیا ہے جواب عدالت میں اپیل کے لئے جارہے ہیں تاکہ ان کا میڈیکل مکمل ہو پائے حالانکہ مریم نواز کا صاحبزادہ برطانوی یونیورسٹی کیمبرج کی پولو کھیل کا کپتان ہے جس پر عمران خان کی طرح یونیورسٹی پیسے خرچ کررہی ہے جس سے پاکستان کا نام روشن ہورہا ہے جس طرح عمران خان پر آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ پر پیسے خرچ کیا کرتی تھی یا پھر عمران خان کے تینوں بچے اپنے یہودی نانا کے ہاں پرورش پارہے ہیں جو ایک فضول قسم کی بحث ہے جس کا آغاز عمران خان نے بذات خود کیا تھا جس کے سوالات کے جوابات کیے اور دئیے جارہے ہیں جس میں دونوں اطراف کے بچوں تک کو معاف نہیں کیا گیا ہے حالانکہ بچوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر والدین اپنے اپنے بچوں کے دفاع میں سامنے آگئے ہیں جس کا مجرم صرف اور صرف عمران خان ہیں جو ہر معاملے میں ذاتیات پر اتر آتا ہے۔ علاوہ ازیں لندن کے ایک ترک طعام خانے میں بعض یوتھیوں نے مسلم لیگ(ن) کے رہنما پر گالی گلوچ کی بچھاڑ کرا دی جس کے جواب میں شیر علی نے بھی سخت زبان استعمال کی ہے جس سے لگتا ہے کہ عمران خان کی بدکلامی اور بدزبانی کا دور دورہ وسیع ہوتا جارہا ہے جس کے ردعمل میں متاثرہ پارٹیاں بھی الرٹ ہورہی ہیں جو یوتھیوں کو دیکھتے ہی آوازیں کسنا شروع کر دیں گی جس سے ملک اور ملک سے باہر پاکستانی آپس میں الجھ جائیں گے جو ایک بین الاقوامی ایجنڈا ہے تاکہ پاکستانی قوم بھی افغانستان اور صومالیہ کی طرح ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں۔ ظاہر ہے جب کوئی قوم آپس میں ذاتیاتی معاملات میں الجھ جائے تو وہ بکھر جاتی ہے جس کا شیرازہ تتر بتر ہو جاتا ہے جس کو اپنی ریاست کا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے جس کی مثال لبنان یا پھر موجودہ کراچی سے ملتی ہے کہ آج اہلیان کراچی آپس میں تقسیم ہیں جس کی وجہ سے تین کروڑ کا شہر لاوارثوں کا شہر بن جاتا ہے جس کی آمدن پر ملک چل رہا ہے مگر اہلیان کراچی روٹی، پانی اور صفائی کے لئے ترس رہے ہیں مگر اہلیان کراچی میں اتحاد اور تنظیم باقی نہیں رہی ہے جو آج سے چالیس برس پہلے پورے ملک کی آواز ہوا کرتے تھے یہاں سے جمہوری قوتوں کی طاقت کا مظاہرہ ہوا کرتا تھا جس میں کراچی کے مزدوروں، محنت کشوں، طالب علموں اور عام شہریوں کی آواز بلند ہوا کرتی تھی وہ اب آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دی گئی جس کا ذمہ دار وہ طبقہ ہے جنہوں نے اہلیان کراچی کو آپس میں لڑایا جھگڑایا اور مروایا ہے کہ آج کراچی والے بڑے سے بڑے قومی واقعات اور حادثات پر خاموش نظر آتے ہیں جو اپنی سابقہ خانہ جنگی پر خوف زدہ ہیں تاکہ دوبارہ گلی کوچوں میں جنگ و جدل نہ شروع ہو جائے سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان ٹولہ بشمول مقتدر اعلیٰ ادارے کب تک یہ غیر اخلاقی، غیر سیاسی اور غیر انسانی حربے استعمال کرتے رہیں گے ۔کب تک جھوٹ، بہتان، فریب سے دھوکہ دیتے رہیں گے۔کب تک دوسروں کی پگڑیاں اچھالتے رہیں گے۔ کب تک دوسروں پر جوتے برساتے رہیں گے جو آہستہ آہستہ واپس ان کے منہ پر لگ رہے ہیں۔
کب تک لوگوں کو سیاست، صحافت اور معیشت میں انتقام کا نشانہ بناتے رہیں گے جو ایک خطرناک کھیل ہے۔ اگر کسی بھی شدت پسند سیاستدان نے منفی سوچ پر مبنی نعرہ بلند کر دیا تو پورے پاکستان میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی جس کو روکنا مشکل اور ناممکن ہو جائے گا لہٰذا عمران خان کی بدکلامی، بدزبانی، گالی گلوچ اور کردار کشی کا سلسلہ بند کرنا ہو گا جس سے ملک میں خانہ جنگی کا سماں پیدا ہورہا ہے جو کسی بین الاقوامی ایجنڈا کا حصہ ہے تاکہ پاکستانی ایٹمی طاقت کی قوم کو تقسیم در تقسیم کیا جائے جس پر مسلسل عمل ہورہا ہے جو ظاہراً حب الوطنی مگر اندر سے ملک کھوکھلا ہورہا ہے۔ بہرحال عمران خان کی بدکلامی، بدزبانی، بداعمالی اور بدانتظامی سے پاکستان تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑا ہے جس میں ان کی تاریخی ناکامیوں، نااہلیوں اور نالائقیوں کا بہت بڑا عنصرشامل ہے جس کو چھپانے کے لئے مخالفین پر حملے ہورہے ہیں جس میں سیاستدانوں کی گرفتاریاں، صحافیوں کا اغواء اور قتل سرفہرست ہے جس سے ملک بدحال اور بے حال ہو چکا ہے جس کے اردگرد حالات بدل کر خوفناک شکل اختیار کر چکے ہیں جو آج کے افغانستان کے بدلتے ہوئے حالات سے خائف ہیں کہ کہیں طالبان کا سیلاب پاکستان کی طرف نہ رخ کر جائے تو پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ظاہر ہے پاکستان میں بھی شدت پسندی اور فرسودیت کا بہت بڑا عنصر ہے جو پی ٹی آئی میں بھی پایا جاتا ہے جو ایسے حالات میں کھل کر سامنے آجائے گا جس کا مطالبہ پاکستان کو طالبان کی خلافت کے ماتحت کرنے کا ہو گا تاکہ طالبان کے خلیفہ کے ماتحت پاکستان کے گورنرز مقرر کئے جائیں گے۔