پاکستان کے چوہترویں یوم آزادی کے موقع پر کشمیریوں سے پوچھیں کہ آزادی کی کیا قدروقیمت ہے!

199

آج سے چوہتر سال پہلے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہم نے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی اور ڈاکٹر علامہ اقبال مفکر پاکستان کے خواب کی تعبیر حاصل کی۔ کچھ وہ لوگ تھے جو 13اگست کو سوئے تو ہندوستانی تھے اور جب 14اگست کو بیدار ہوئے تو پاکستانی تھے اور کچھ وہ لوگ تھے جو آزاد پاکستان کا آنکھوں میں خواب سجائے اپنا تن، من،دھن، پیسہ، جائیداد ، آبائو اجداد کو پیچھے چھوڑ کر ہجرت کر کے اپنا سب کچھ لٹا کر پاکستان پہنچے اور پھر کچھ ایسے بے شمار لوگ بھی تھے جو اپنی تمام تر قربانیوں کے بعد بھی اپنی آنکھوں سے پاکستان کی تعبیر نہ دیکھ سکے۔ یہ وہ پاکستانی تھے جو لاہور کے ریلوے سٹیشن پر کٹی ہوئی خون آلودہ لاشوں کی صورت میں آنے والی ٹرینوں کی صورت میں اس سرزمین پر پہنچے۔ اسی طرح سے ایسے بے شمار pakistani, to beوہ خواتین ہیں جنہوں نے بلوائیوں کے خوف سے اور اپنی عصمتیں بچنے کی خاطر ہندوستان میں ہزاروں پانی کے کنوئوں میں چھلانگ لگا کر اپنی جانیں قربانی کر دیں۔ ان میں ایسی بے شمار جوان دو شیزائیں بھی شامل ہیں جن کے بھائیوں اور باپوں نے انہیں درندگی سے بچانے کے خاطر اپنی ہی گولیوں اور خنجروں سے شہید کر دیا۔ مہاجرین کے لٹے پٹے قافلے جب پاکستان کے مختلف شہروں میں پہنچے تو عوام نے کھلے دلوں اور کھلے ہاتھوں سے ان کا خیرم مقدم کیا۔ مہاجرین نے نئے پاکستان میں نئی زندگی، نئے سفر اور نئی جدوجہد کا آغاز کیا۔ غرض یہ کہ آزادی کی قدر و منزلت اور اہمیت کیا ہے اس کا اندازہ ان لوگوں کی جدوجہد سے لگایا جا سکتا ہے۔ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں جہاں پاکستانی نژاد آباد ہیں وہاں وہاں پاکستان کا جشن آزادی روایتی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے مگر آزادی سے سرشار ان خوشگوار لمحات میں ایک لمحے کیلئے ذرا سوچیں کہ پچھلے چوہتر سالوں سے اسی خطے میں موجود مقبوضہ کشمیر کے کشمیری بھی اسی آزادی کا خواب دیکھ رہے ہیںجو ہم نے حاصل کر لی تھی۔ اسی خواب کی تعبیر کے منتظر ہیں جس کی ضمانت یو این کی ریزولیشن میں دی گئی ہے۔ 21اپریل 1948ء میں یونائیٹڈ نیشن سکیورٹی کونسل نے ریزولیشن نمبر 47جاری کیا جس کے مطابق کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کی جدوجہد کو کسی ایک ملک کے ساتھ وابستہ کرنے کی گارنٹی دی گئی۔ وہ استصواب رائے غیر جانبدار اور آزادانہ بنیادوں پر یو این کے زیر نگرانی ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ نے کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ ڈیکلیئر کیا، پاکستان اور انڈیا کے درمیان اگست کے اس مہینے میں جیسا ہم اپنی آزادی کا جشن منارہے ہیں اگست کا دن کشمیریوں کیلئے ایک یوم سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے جب 2019ء میں انڈین گورنمنٹ نے نہ صرف یو این کے تسلیم شدہ کشمیری تنازعے کو بلکہ انڈین آئین کے مطابق آرٹیکل 35-Aار آرٹیکل 370کو کالعدم قرار دے کر ان کا آزاد ریاست کا سٹیٹس ختم کر دیا۔ پچھلے دو سالوں سے مقبوضہ علاقے کے کشمیری ایک بڑی جیل میں مقید زندگی گزارہے ہیں۔ پچھلے چوہتر سالوں میں لاکھوں کشمیری آزادی کی خاطر اپنی جانیں انڈین فورسز کے ہاتھوں گنوا چکے ہیں۔ بے شمار خواتین قابض فوجوں کے ہاتھوں اپنی عصتمیں گنوا چکی ہیں۔ لاتعداد کشمیری نوجوان برہان وانی سمیت شہادتیں دے چکے ہیں اور ان گنت کشمیریوں کو اغواء کر کے غائب کر دیا گیا۔ ہمارے لئے یہ مہینہ ماہ آزادی ہے مگر لاکھوں کشمیریوں کیلئے یہ مہینہ سیاہ ہے۔ براہ مہربانی آزادی کی خوشیاں مناتے ہوئے ان کشمیریوں کی مظلومیت غلامی اور اذیت کو بھی ذہن میں رکھیں جو آج چوہتر سالوں بعد بھی اپنی جدوجہد آزادی کی خونی جنگ لڑرہے ہیں۔ جن وجوہات کی وجہ سے پاکستان قائم ہوا تھا ان ہی وجوہات کیلئے آج کشمیری بھی لڑرہے ہیں۔ انہیں سپورٹ کیجئے۔ کشمیریوں سے پوچھیں کہ آزادی کی کیا قدر و منزلت ہے!