جس تھال میں کھایا اسی میں چھید کیا!

265

بھگوڑے نے لندن میں مزیداپنے قیام کے لئے ویزے کی درخواست دی تھی کیونکہ پہلی مدت جو علاج کے سلسلے میں ملی تھی اس کی معیاد ختم ہو چکی ہے۔ لیکن لندن کی امیگریشن آفس نے ان کی درخواست توسیع ویزا مسترد کر دی ہے۔ اب دوبارہ ذلیل و خوار ہونے کے لئے درخواست دیں گے۔ انشاء اللہ وہ بھی مسترد ہو جائے گی کیونکہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ مریض جاں بلب ہو یہاں تو اس عیار، مکار نے اپنا کسی ہسپتال میں علاج ہی نہیں کروایا کیونکہ کوئی بیماری تھی ہی نہیں پاکستان سے لندن علاج کی غرض سے جانے کے لئے انہیں 6ہفتوں کی اجازت ملی تھی لیکن موصوف 2سال سے وہاں عیاشیوں میں وقت گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں بیٹی فریادی ماتم کررہی ہے۔ جھوٹ کی ایک طویل داستان رقم کی جاری ہے۔ کیا اس جھوٹ مکاری کے پلندوں کو تاریخ کا حصہ بنایا جا سکے گا؟ ویسے دوزخ کے لئے پاکستان سے بہت سا ایندھن فراہم کیا جائے گا۔
ایک صاحب جنت کی طرف سے گزرے دیکھا بیچارے جنتی دال چاول کھارہے ہیں، دوزخ کی طرف گئے تو وہاں دیگیں چڑھی ہوئی تھیں، نہاری، پائے، حلیم، آلو گوشت ،سری پائے پکانے میں ہزاروں باورچی مصروف تھے، ان صاحب نے ایک نگران سے پوچھا ’’بھئی یہ بیچارے جنتیوں کو دال چاول پر ٹرخایا جارہا ہے اور جہنم میں دیگیں چڑھ ہیں( نواز شریف کی تمام پسندیدہ غذائیں موجود ہیں) نگران نے جواب دیا کہ ’’جنتی تو محدود تعداد میں آتے ہیں لیکن جہنم میں لوگوں کی بھرمار ہے اور یہ کھاتے بھی بہت ہیں ان کے لئے دیگیں چڑھانی پڑتی ہیں‘‘ یہ لوگ دوزخ میں تمام غذائیں نواز شریف کی پسندیدہ پکارہے ہیں۔ ایک طرف بھنڈیوں کا کھیت تھا معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ زرداری کی پسندیدہ سبزی ہے کیونکہ ان کا باورچی ہر ملک میں جہاں یہ دوروں پر جاتے ہیں مارکیٹ میں بھنڈیوں کی تصویر دکھا کر لاتا ہے چونکہ مختلف ملکوں میں اس سبزی کا نام بھی مختلف ہوتا ہے۔ اگر پھر بھی دستیاب نہ ہو تو وہاں کے سفارت خانے کو دوسرے ملکوں سے منگوانی پڑتی ہے۔ ان عیاش خاندانوں کا کام ملک کی دولت لوٹنا باہر منتقل کرنا اور کھانا پینا چین کی بانسری بجانا ہے۔ بے نظیر کے پینے کا پانی فرانس سے آتا تھا۔ پڑھے لکھے جاہل عوام ہر دفعہ انہیں ووٹ دے کر اقتدار کی کرسی سونپ دیتے ہیں اور جب استحصال ہوتا ہے تو سر پکڑ کر روتے ہیں۔ وہ لوگ بڑے خوش و خرم رہتے ہیں جن کا لوٹ مار کی دولت میں حصہ نکلتا ہے۔ جب تک پاکستان سے جاگیرداری نظام ختم نہیں کیا جاتا اسکا پاٹھا بیٹھنے والا نہیں یہ لوگ پیسے کے بل بوتے پر الیکشن جیت کر آتے ہیں اور جتنا مال خرچ نہیں کرتے اس سے کہیں زیادہ قومی خزانے کو چونا لگا کر وصول کرلیتے ہیں پھر ان سیاستدناوں سے تعلیمی استعداد کے بارے میں بھی کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی، انہیں ایسے محکموں میں تعینات کر دیا جاتا ہے جس کا انہیں کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ تعلیم کا ویسے ہی جنازہ نکل چکا ہے۔ جعلی ڈگریاں ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے بی اے کی شرط عائد کی تھی تو سینکڑوں لوگ راتوں رات ڈگری یافتہ ہو گئے تھے جنہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا انہوں نے کس شعبے کی ڈگری لی ہے۔ ایک صاحب سے پوچھا گیا ’’آپ نے بی اے کی ڈگری لے لی‘‘ انہوں نے ڈگری دکھائی ’’دیکھئے میں نے بی اے کر لیا‘‘ دوست نے ڈگری دیکھی تواس پر سائنس کے مضامین لکھے ہوئے تھے وہ بی ایس سی کی ڈگری تھی۔ ایک محب وطن ضرور خون کے آنسو روتا ہو گا کہ پاکستان نے انہیں سب کچھ دیا۔ بڑے بڑے عہدے دئیے، نواز شریف کو تین بار وزیراعظم کی کرسی کے مزے لوٹنے کو دئیے اور اس نمک حرام نے معہ اپنے ٹبرکے جس تھال میں کھایا اسی میں چھید کیا۔ اسی دوزخی کا پاکستانی پاسپورٹ کینسل ہو گیا ہے۔ برطانیہ میں سیاسی پناہ مسترد ہو چکی ہے۔ اب یہ کس ملک کے پاسپورٹ پر فرار ہو گا؟ اور مرے پر سو درے یہ اس کے لوگ پوچھ رہے ہیں’’ کیا یہ پاکستانی شہری نہیں‘‘ قزاق دو کشتیوں میں سواررہنا چاہتا ہے اس کی زر خرید ماسی مصیبتاں کہہ رہی ہے ’’اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ وہ سیاسی پناہ کی بھیک مانگیں گے‘‘ یہ چور ڈاکو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں ’’شہد کی مکھیاں جب ہی چھتے سے لپٹی رہتی ہیں جب تک اس میں شہد ہوتا ہے، جب تک گائے دودھ دیتی ہے اس کی دو لاتیں بھی برداشت کر لی جاتی ہیں۔ ناز بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ جہاں دودھ دینا بند وہیں ساری ناز برداریاں طاق نسیان ہو جاتی ہیں یہ لوٹے ہوئے مال سے اپنی اولاد کو عیش کروانے والے غور سے سن لیں یہ تمہارے لوٹ کے مال پر عیش کریں گے اور سزاتم بھگتو گے۔ یہاں بھی اور وہاں کامیاب تو اللہ جانے لاکھوں فریادی رب جلیل کے سامنے ہاتھ جوڑ کر فریاد کریں گے۔ تمہار انجام بہت بھیانک ہو گا۔ ویسے بھی حکمران طبقے کا بڑا عبرتناک استحصال ہو گا۔
نور مقدم ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ نعرے کی سب سے اہم آواز تھیں۔ بینر پر عجیب بیہودہ قسم کے نعرے لکھے ہوئے تھے ایسے لہراتی پھررہی تھیں۔ اس تمام ہنگامے کی وجہ وہ تربیت ہے جو انہیں اپنے والدین سے ملی۔ دراصل باپوں کی حرص پیسہ کمانے کے بارے میں ختم نہیں ہوتی مائیں شاپنگ، بیوٹی پارلر میں مصروف رہتی ہیں۔ ہر وقت اپنی خوبصورتی اور سدا جوان رہنے کی خواہش میں مری جاتی ہیں۔ اولاد نوکروں، ڈرائیوروں کے زیر سایہ پلتی ہے، اس میں بچے ان لوگوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ بہت سی نمایاں شخصیات نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ ظاہر جعفربھی اس بے حس والدین کی اولاد ہے اور یہ ثابت ہوا کہ تعلیم ایک جنسی جنونی، نفیساتی مریض، سفاک انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
نور مقدم کا تعلق بھی اُسے گروہ سے تھا جو نکاح نامے کو ایک کاغذ کا پرزہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک مرد اور عورت کا بغیر نکاح کے ساتھ رہنا معیوب ہنیں۔ ان میں جنسی تعلقات نہ ہونا ناممکن نہیں حدیث ہے کہ ’’کوئی جوان مرد اور عورت تنہا ہوتے ہیں تو ان کے بیچ شیطان آجاتا ہے۔‘‘
نور مقدم بغیر اپنے والدین سے اجازت لئے جہاں چاہے جا سکتی تھیں ان کے اوپر کہیں بھی رہنے کی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی تھی، وہ سہیلی کا بتا کر ظاہر جعفر کے پاس گئی تھیں اور وہاں کوئی بحث مباحثہ ہوا اور یہ واقعہ پیش آیا۔ اس جنونی نے PSYEHO PATHنے بڑی سفاکی سے اسے قتل کیا اور بربریت کی انتہا کر دی کہ اس کا سرتن سے جدا کر دیا۔
اس واقع سے والدین کو یہ سبق لینا چاہیے کہ اولاد کی تربیت کتنی اہم ہوتی ہے۔ ایسے والدین جن کے پاس اپنے بچوں کی پرورش کرنے کا وقت نہیں انہیں اولاد پیدا ہی نہیںکرنی چاہیے۔ قاتل ماں باپ ہیں، قاتل یہ مادر پدرآزاد معاشرہ ہے جہاں لڑکیاں شتر بے مہار ہو گئیں ہیں۔ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ نہایت بدتمیز، تہذیب سے بے بہرہ گفتگو، کوئی کیا سمجھائے کیسے سمجھائے‘‘۔