چینی کمپنی نے کمرشل ’روبوٹ کتا‘ بنالیا؛ قیمت ڈھائی لاکھ روپے

344

بیجنگ: امریکی ’بوسٹن ڈائنامکس‘ کے روبوٹ کتے ’اسپاٹ‘ کے جواب میں چین کی مشہور ’شیاؤمی‘ اسمارٹ فون کمپنی نے ’سائبر ڈاگ‘ پیش کردیا جسے 1500 ڈالر (ڈھائی لاکھ پاکستانی روپے) میں خریدا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ بوسٹن ڈائنامکس کے روبوٹ کتے خاصی بڑی جسامت کے ہیں جنہیں عسکری مقاصد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کےلیے بنایا گیا ہے۔ان کے مقابلے میں ’سائبر ڈاگ‘ کی جسامت خاصی کم (بڑی بلی جتنی) ہے۔ علاوہ ازیں، انہیں کثیرالمقاصد اور اوپن سورس ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی پیمانے پر فروخت کےلیے پیش کیا گیا ہے۔فی الحال سائبر ڈاگ کے صرف ایک ہزار یونٹ تیار کیے گئے ہیں جن کی آن لائن فروخت کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔سائبر ڈاگ کیا کرسکتا ہے؟ اس کا انحصار خریدنے والے پر ہے جو اسے کھلونے کی طرح استعمال کرکے اپنا دل بہلا سکتا ہے؛ اور اگر چاہے تو روبوٹکس کے میدان میں تحقیق کےلیے بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ایک ’سمجھ دار کھلونے‘ کی طرح، سائبر ڈاگ اپنے مالک کی آواز پر حرکت کرنے کے علاوہ اپنے پچھلے دو پیروں پر بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ ’شیاؤمی‘ کی جاری کردہ یوٹیوب ویڈیو میں دکھایا گیا ہے:دیگر تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ ’سائبر ڈاگ‘ میں سروو موٹریں نصب ہیں جو اسے چاروں پیروں پر چلنے کے قابل بناتی ہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ 11.5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ بھی سکتا ہے۔ان کے علاوہ یہ مختلف الاقسام حساسیوں (سینسرز) اور کیمروں سے بھی لیس ہے جن کی بدولت یہ خاصی باریک بینی کے ساتھ اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو شناخت کرتے ہوئے انہیں عبور کرنے یا ان سے بچ نکلنے کا ازخود فیصلہ کرسکتا ہے۔ٹچ سینسرز، جی پی ایس ماڈیولز، الٹراسونک سینسرز، وائیڈ اینگل فش آئی کیمرا اور مصنوعی ذہانت کے حامل کیمرے وہ چند اہم آلات ہیں جو ’سائبر ڈاگ‘ میں موجود ہیں۔