یاسر کی بولنگ پرفارمنس پر تنقید کے تیر برسنے لگے

305

لاہور: یاسر شاہ کی بولنگ پرفارمنس پر تنقید کے تیر برسنے لگے جب کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ کنگسٹن ٹیسٹ کے دوسرے روز لیگ اسپنر صلاحیتوں کے جوہر نہیں دکھاسکے۔کنگسٹن ٹیسٹ کے دوسرے روز ویسٹ انڈین ٹیم 100پر 5وکٹیں گنوانے کے باوجود 34رنز کی برتری حاصل کرلی تھی،پیسرز کو یاسر شاہ کی معاونت کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،لیگ اسپنر کی گیندوں پر آسانی سے رنز بنے، انھوں نے 13اوورز میں 46رنز دیئے اور کوئی وکٹ نہ حاصل کرسکے،یاسر شاہ گزشتہ سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے، اس بار ان کی بولنگ میں کاٹ کی کمی رمیز راجہ کو کھٹکنے لگی ہے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ یوں تو پاکستان ٹیم ایک یونٹ کے طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی، یاسر شاہ بالکل بجھے بجھے نظر آئے اور صلاحیتوں کا اظہار نہیں کرپائے،ان کا ویسٹ انڈیز کیخلاف ریکارڈ شاندار رہا ہے مگر لائن و لینتھ اور کارکردگی میں تسلسل نہ ہو تو کپتان بھی اعتماد نہیں کرتا،ایک موقع پر لیگ اسپنر فی اوور 4رنز دے رہے تھے، ایسی صورتحال تو چھوٹے اسپیلز کیلیے ہی بولنگ ملتی ہے،اگر وہ نپی تلی بولنگ کرتے تو ہی کپتان کا اعتماد ان کو حاصل ہوتا۔انہوں نے کہا کہ یاسر شاہ کو زیادہ کنٹرول اور کارکردگی میں تسلسل لانے کی اشد ضرورت ہے،یاسر شاہ اب بھی پاکستان کو میچ جتواسکتے ہیں لیکن اس کیلیے انھیں بنیادی لیگ اسپن پر انحصار کرنا ہوگا، ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں پچ کی حالت مزید خراب ہوگی، اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی۔