طالبان کابل میں داخل ہونا شروع، دارالحکومت پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پاگیا

383

طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔

افغان وزارت داخلہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان تمام اطراف سے کابل میں داخل ہو رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کابل میں سرکاری دفاتر کو خالی کروا لیا گیا ہے جبکہ کچھ علاقوں میں دکانیں بھی بند کر دی گئی ہیں جبکہ طالبان نے کابل جانے والی تمام مرکزی شاہراؤں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ مجاہدین جنگ یا طاقت کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں اور کابل کے پرامن سرینڈر کے لیے طالبان کی افغان حکام سے بات چیت جاری ہے۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ عبدالستار میرز کوال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

قائم مقام افغان وزیر داخلہ نے بتایا کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

دوسری جانب افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں جس میں عبداللہ عبداللہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق اشرف غنی اقتدار چھوڑنے کے لیے رضا مند ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ علی احمد جلالی کو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

ذرائع افغان وازارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے اہم لیڈر ملا برادر  قطر سے کابل پہنچ گئے ہیں جبکہ افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ طالبان کے مذاکرات صدارتی محل میں جاری ہیں۔

طالبان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کابل کا گھیراؤ کر لیا ہے لیکن کابل ائیر پورٹ کو کام کرنے کی اجازت ہے، غیر ملکی اپنی خواہش کے مطابق افغانستان چھوڑ سکتے ہیں جبکہ کابل میں موجود غیر ملکیوں کو اپنی موجودگی کی رجسٹریشن کروانی ہو گی۔ اس کے علاوہ فورسز کے اراکین کو بھی گھر جانے کی اجازت ہے۔