سعودی کھلاڑی سے مقابلہ،ایرانی کھلاڑی چالاکی سے گولڈ میڈل کا حق دار بن گیا

284

سعودی عرب کے کراٹے اسٹار طارق حامدی کو گذشہ روز ٹوکیو اولمپکس کے فائنل میچ میں ریفری کے ایک عجیب فیصلے کے بعد چاندی کا تمغہ ملا، ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک چاندی کا تمغہ بھی سونے کی طرح ہے۔

عرب نیوز کے مطابق تئیس سالہ سعودی کھلاڑی طارق حامدی جاپان کے نیپون بڈوکان میدان میں پچھہتر کلوگرام پلس کے مقابلے میں اپنے ایرانی حریف سے چار ایک سے برتری لئے ہوئے تھے اور فتح کی طرف گامزن تھے، آخری راونڈ میں طارق حامدی کی ایک اونچی کک نے اپنے ایرانی حریف سجاد گنج زادہ کو نیچے پھینک دیا۔

اس کے فورا بعد جیسے ہی ایرانی کھلاڑی کو اسٹریچر پر ڈال کر رنگ سے باہر لے جایا گیا تو طارق حامدی نے جیت کا جشن منانا شروع کردیا،عین اسی وقت ریفری نے انہیں نااہل قرار دے کر سجاد گنج زادہ کو فاتح قرار دے دیا۔

طارق حامدی کے چاہنے والوں نے ریفری کے فیصلے پر ملے جُلے تاثرات کا اظہار کیا ہے، ایک سوشل میڈیا صارف نے سوالیے نشان کے ساتھ لکھا کہ ایک فٹبالر کے لیے گیند کو زور سے لات مارنے کے بعد ریڈ کارڈ ؟۔

ایک اور مداح نے لکھا کہ جب میں ایرانی حریف کو فرش پر پڑا دیکھتا ہوں اور سعودی ہیرو کو پہاڑ کی طرح کھڑا دیکھتا ہوں تو میں چیمپئن ہونے پر کیسے فخر نہیں کرسکتا۔