عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ کیا خالد منصور کی تقرری کی وجہ سے دیا گیا ہے؟

250

پاکستان بھی بڑاعجیب ملک ہے یہاں پر ذاتیات اور شخصیات کی جنگ ہمیشہ چلتی رہتی ہے ملک کا مفاد یہاں پر لوگوں کے سامنے نہیں رہتا ہے بلکہ اپنے مفاد ات سامنے رہتے ہیں۔ سی پیک پاکستان کے آئندہ آنے والے دنوں میں شہ رگ ہو گی۔ پاکستان کی معاشی ترقی کا سارا دارومدار سی پیک کی ترقی پر ہو گا۔ اس کے ساتھ پاکستان کے اتنے منصوبے جڑے ہوئے ہیں اور اتنے شیل زون جڑے ہوئے ہیں کہ ملک ذرا بھی اس ڈگر سے ہٹ نہیں سکتا سی پیک کے جتنے زونز اور پروجیکٹ سامنے آرہے ہیں اور دنیا کی دلچسپی سامنے آرہی ہے وہ اس پروجیکٹ کو بہت اہم بناتی ہے۔ بھارت اور امریکہ شروع دن سے اس کے مخالف رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت نے اس کو اپنی سرزمین پر قائم ہونے والا منصوبہ قرار دیا۔ نام نہاد بھارتی حکومت کے مطابق POKاس کا حصہ ہے گلگت بلتستان اس کا حصہ ہے تو اس ہی کے راستے سے گزر کر سی پیک کیسے بنایا جا سکتا ہے اور آگے دنیا میں کیسے بھارت کی سرزمین پر سے گزر کر مال آگے جا سکتا ہے۔ خیر یہ بھارت کی خیام خیالی ہے نہ بھارت کا حصہ POKرہا ہے اور نہ رہے گا۔ کشمیر ایک ایسی سرزمین ہے جس کا فیصلہ حق رائے دہی کے ذریعہ ہونا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو پاکستان سے الگ نہیں کر سکتی یہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔
عاصم سلیم باجوہ جب سے ڈی جی ISPRبنے تھے اس وقت سے وہ اپوزیشن کی نظروں میں کھٹکتے ہیں۔ حامد میر کی گولی لگنے کے واقعہ کے وقت باجوہ نے ہی جیو ٹی وی کے منافق اینکروں کا جواب دیا تھا اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بچا گئے تھے۔ پھر وہ بلوچستان کے کور کمانڈر بنا دئیے گئے وہاں پر بھی دہشت گردوں کو انہوں نے سکون سے نہیں رہنے دیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد عمران گورنمنٹ نے اسی لئے ان کو سی پیک کا سربراہ لگایا۔ ایک تو وہ بلوچستان میں کور کمانڈر رہ چکے تھے دوسرے دہشت گرد ان کے دور میں سر نہیں اٹھا پائے تھے۔ اس دوران عمران خان نے ان کو شبلی فراز کے ساتھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں بھی لگا دیا لیکن مریم صفدر نے ان پر اپنے حملے تیز کر دئیے ان کے خاندان کا امریکہ میں بزنس زیر بحث لایا گیا ان پر کرپشن کے بھی الزام لگنے شروع ہوگئے۔ تھک ہار کر انہوں نے وزارت اطلاعات کا عہدہ چھوڑ دیا اور سکون سے سی پیک اتھارٹی میں کام کرنے لگے۔ ان کا بہت بڑا کارنامہ سی پیک کابل پاس کروانا تھا اور اسکو قانون کے تحت ریگولزائر کروانا تھا۔ عاصم سلیم نے کتنے اکنامک زون پاکستان میں شروع کروائے تاکہ پاکستان کی معاشی ترقی کو بہترکیا جا سکے۔
بروز منگل شام کو عاصم سلیم باجوہ کا ایک ٹوئٹ منظر عام پر سامنے آتا ہے جس میں وہ عمران حکومت کی تعریف کرتے ہیں اور سی پیک کے شاندار مستقبل کی نوید سناتے ہیں لیکن چند لمحوں کے بعد ہی ایک خبر ٹی وی پر نشر ہونے لگتی ہے کہ خالد منصور کو معاون خصوصی برائے سی پیک مقرر کر دیا گیا ہے۔ پوری پاکستانی میڈیا اور عوام حیران رہ گئے ایسا کیا ہو گیا کہ ایک معاون خصوصی مقرر کر دیا گیا اور سلیم باجوہ کو غیر موثر کر دیا گیا سی پیک قوانین کے تحت صرف چیئرمین ہی سی پیک کا سربراہ ہو سکتا ہے۔ فوری طور پر سلیم باجوہ کا دوسرا ٹوئٹ منظر عام پر آگیا کہ وہ مستعفی ہورہے ہیں پاکستانی عوام کی سمجھ نہیں نہیں آیا کہ سلیم باجوہ کو کیوں ہٹنا پڑا اور اس کے پیچھے کہانی کیا ہے۔
فوری طور پر تو کوئی خبر باہر نہیں آئی لیکن آہستہ آہستہ کہانی صاف ہونے لگی کہ یہ اسد عمر کی کارروائی ہے۔ دوبارہ کیبنٹ میںآنے کے بعد اسد عمر اپنے پنجے گاڑنے لگے ہیں۔ جہانگیر ترین کے ہٹنے کے بعد اور شاہ محمود قریشی کی وزارت خارجہ میں شمولیت کی وجہ سے وہ نمبر ٹو بننا چاہ رہے ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے مہرے ہر جگہ بٹھانا چاہ رہے ہیں خالد منصور فی الحال جسکو میں کام کررہے تھے اسد عمر کے انڈر ہیں اینگرو میں بھی کام کرتے تھے۔ شائد یہی وجہ بنی ہے ان کے ایڈوائزر ٹو پرائم منسٹر آن سی پیک بننے کی بہرحال اب یہ فیصلہ لیا جا چکا ہے۔ اسد عمر سلیم باجوہ کو ہٹانے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ابھی کسی بھی آدمی کو سی پیک کا سربراہ لگانا باقی ہے یہ ایک آئینی عہدہ ہے اور وہ خالی نہیں رکھا جا سکتا۔ امید ہے عمران خان کسی قابل آدمی کو سی پیک کا سربراہ بنائیں گے تاکہ سی پیک پاکستان کی ترقی میں اپناکردار ادا کرتا رہے۔