تعلیمی نصاب!!

267

زمانہ بدل چکا ہے، نئی فکر ہر دوسرے لمحے ابھرتی ہے اور چونکا دیتی ہے، اور اس وقت جب ہم پر سکتہ طاری ہوتا ہے ہم استعجاب میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں زمانہ اس فکر کو اپنے ساتھ لے کر بہت دور نکل چکا ہوتا ہے، ہماری تہذیب میں یوں بھی چہل قدمی کو اعتبار حاصل ہے سو ہم بھاگ بھی نہیں سکتے، سو ٹہلنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں، زمانے کے ساتھ ہم کبھی چلے نہیں زمانے کے ساتھ چلنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے آپ کو نئے علم سے ہم آہنگ کر لیں اور اس کو اپنی زندگی میں نافذ کربھی کر لیں، ہم ایسا نہیں کرتے ہم نے تو یونانی فلسفہ اس ہاتھ لیا اور دوسرے ہاتھ سے مغرب کو پکڑا دیا، فلسفے سے ڈرنے کی ضرورت تھی ہی نہیں یہ بڑی آسان سی چیز ہے اس کو ایک جملے میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے کہ یہ سوالات کا جواب دینا ہے ہمارے ہاں تو سوال کرنا ہی ایک گناہ ہے تو یونانی فلسفے سے فیض یاب ہونے کا سوال ہی کیا، ہم تو صبر، توکل، استغنا اور راضی بہ رضا کے قائل ہیں ساری دنیا اپنا رزق اپنی محنت اور ہنر سے کماتی ہے ہمارا رزق آسمان سے اترتا ہے کم ہونے لگے تو دعا کرنا پڑتی ہے اور دعا کے قبول ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے کون جانے، دعا قبول ہو جائے تو سبیل بنتی ہے اور امریکہ، مغرب اور دیگر ترقی یافتہ ممالک ہمارے کشکول میں کچھ ڈال دیتے ہیں اور گزارا ہو جاتا ہے، ہم وہ لوگ ہیں جن کو علم حاصل کرنے کے لئے عرب سے چین جانے کا حکم ملا تھا اور ہم وہ لوگ ہیں جن کا صحیفہ اقراء سے شروع ہوتا ہے مگر ہم مطالعہ سے بیر رکھتے ہیں، ہم نے تو چھاپہ خانہ بھی دریا برد کر دیا تھا یہ کہہ کر کہ یہ شے حرام ہے، اور لطف یہ رہا کہ جن جن چیزوں کو ہمارے جید علماء نے حرام کہا وہ چند عشروں بعد حلال ہو گئیں، تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کی فاش غلطیوں میں یونانی فلسفہ سے اجتناب اور چھاپہ خانے سے انحراف کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا، اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ انگریز کی ہر شے بہ یک جنبش قلم حرام قرار دے دی گئی اور کسی نے نہیں سوچا کہ وہ ہندوستان جن کو مسلمان ہزار سال میں تبدیل نہ کر سکے وہ انگریزوں نے دو سو سال سے کم وقت میں تبدیل کر کے رکھ دیا اور پھر یہ تماشہ بھی چشم فلک نے دیکھا کہ جو کچھ انگریز نے دو سال میں تعمیر کیا وہ ہم نے ستر سال میں بڑی محنت سے برباد کر دیا۔
کسی قوم کی زندگی میں تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے اور یہ تعلیمی نصاب ہی ہوتا ہے جو کسی ملک کے مستقبل کا تعین کرتا ہے، انقلاب فرانس کے بعد مغرب نے اپنے معاشرے سے بہت سا BAGGAGEاتار پھینکا، یہ سب ضروری تھا پھر سماجیات اور نفسیات کے علوم کی ترقی نے راستے متعین کئے اور یہ طے ہوا کہ تعلیمی نصاب میں غیر ضروری مضامین نہیں پڑھائے جائیں گے، لہٰذا مغرب کے کسی ملک میں مادری زبان سکھانے کا جنون کبھی نہیں رہا اور جہاں مادری زبان پڑھائی گئی وہاں ان کی ہی زبان میں سائنس اور ٹیکنالوجی موجود تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی ان کی اپنی زندگی میں پیوست تھی، ذرا غور کیجئے کہ انگریزی نظام تعلیم کی وجہ سے ہندوستان میں اردو ادب میں اس قدر تیزی سے ابھار آیا کہ ہم دنگ رہ گئے، بہت معذرت کے ساتھ یہ جو اردو ادب جس پر بڑا ناز کیا جاتا ہے یہ سب انگریزی ادب کی مرہونِ منت ہے اس سے قبل صرف حکامات سعدی اور صوفیاء کے ملفوضات تھے اور پھر ہم اس بات پر بھی دنگ رہ گئے کہ1947 کے بعد ہم کوئی بڑا ادیب اور شاعر بھی پیدا نہ کر سکے، سائنسدان تو بہت دور کی بات ہے، ہوا یہ کہ ہم نے اپنا نظام تعلیم قرارداد مقاصد کے تحت کر لیا اور ملک میں امام اور حفاظ ہی پیدا ہوتے رہے جبکہ ضرورت تو ڈاکٹرز، ENGENEERS, TECHNICIANS,کی تھی، نئے ملک کو ریڑھی سے اتارکر تیز رفتار ریل پر ڈالنا تھا، یہ کام نہ ہو سکا، مشرق نے دانشور بھی پیدا نہیں کئے جو فکر تبدیل کر دیتے، مغرب بھی یہی چاہتا تھا، ایک منصوبے کے تحت اس ملک پر مذہب کو مختلف حیلے بہانوں سے مسلط کیا گیا اور سائنس اور ٹیکنالوجی چھین لی گئی، ذہن بھی چھین لئے اور ایسے حکمران مسلط کر دئیے جو ناک کے نیچے بھی نہیں دیکھ سکتے تھے، انہی میں سے ایک عمران ہیں، عمران کو لانے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ پاکستان کی کسی پالیسی کا ٹکرائو کبھی امریکہ کی افغان پالیسی سے نہیں ہو گا، جیسے اب کھیلوں میں ہوتا کہ کوئی کھلاڑی ایک بڑی رقم لے کر اپنی ٹیم کو شکست سے دو چار کر دیتا ہے اسی طرح کوئی جنرل حکمران سیاست دان جس کو خرید لیا جاتا ہے وہ عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کرتا ہے اور اپنے ملک کو مختلف نعروں میں الجھا کر اس کی ترقی روکتا ہے اور ملک کے POTENTIALکو استعمال نہیں کرتا۔
عمران کا حالیہ فیصلہ کہ پنجاب میں پانچویں تک قرآن ناظرہ اور بارہویں تک قرآن پڑھایا جائے گا ایسی ہی ایک کوشش ہے جو قوم کو رجعت پرستی کی جانب لے جائے گی اور ملک کو قاری، حفاظ اور امام دئیے جائیں گے سکول سکول ،کالج کالج مولوی بھرتی ہوں گے اور وہ سکول انتظامیہ کو بتائیں گے کہ کیا اسلامی ہے اور کیا غیر اسلامی، یوں ہر تعلیمی ادارے کو ایک دینی محتسب دے دیا جائے گا جو اختلاف کرے گا اس پر توہین رسالت اور توہین ناموس صحابہ کے جھوٹے الزام بھی لگائے جاسکتے ہیں، تعلیمی نصاب کو دینی نکتہ نگاہ سے SORT OUTکیا جا رہا ہے اور سائنس کی کتب سے بھی ایسا مواد نکالا جارہا ہے جو اسلامی عقائد پر ضرب لگاتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ملک بھر میں مدرسے سے طلباء کو درس نظامی کی تعلیم دینگے، ملک کو سائنس اور ٹیکنالوجی سے دوررکھا جائیگا، یہ2012 کی بات ہے کہ شائد عمران خان کی ایک میٹنگ کراچی میں عارف علوی، شفقت محمود اور مختلف علمائے دین سے ہوئی تھی جس میں یہ طے پایا تھا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر مذہبی کر دیا جائیگا، اس کی رپورٹ مولانا سمیع اللہ کو بھی دی گئی تھی اور اسی خفیہ معاہدے کی بنا پر عمران کو پختون خواہ میں کامیابی ملی تھی اور قارئین کو یاد ہو گا کہ76 کروڑ کی خطیر رقم مولانا سمیع اللہ کو انکی حمایت کی وجہ دی گئی تھی جس پر شور اٹھا تھا، ملک میں یکساں نصاب کا نعرہ انتخابی مہم میں بہت مقبول ہوا تھا مگر اس وقت سارے لبرلز عمران کے ساتھ تھے اور قیاس یہی تھا کہ پاکستان کا تعلیمی نصاب بہت زیادہTHOUGHT PROVOKINGہو گا، الیکٹرانک میڈیا میں اچھل کود کرنے والوں کی بھرمار ہے وہ خبر کی تلاش میں ہوتے ہیںان کو لیڈر کی فکر اور اس کے منشور پر گہرائی تک بات کرنے کا شعور ہوتا ہی نہیں کسی نے نہیں پوچھا کہ ملک کا یکساں تعلیمی نصاب کن نکات پر مبنی ہو گا، عمران کے کسی مشیر نے ان کو یہ اچھا سیاسی مشورہ دیا ہو گا کہ ہر بات میں ابہام رکھنا، اور پھر بعدازاں یہ بھی سمجھا دیا کہ قوم کی یادداشت بہت کم ہے سو اپنی بات سے مکر جانے سے کبھی نہ ہچکچانا حسن نثار نے ایک بار کہ تھا کہ عمران کمینگی کی حد تک بدلحاظ ہے اور اس کی یہ صفت نکھر کر سامنے آئی ہے سارا لبرل طبقہ اور وہ بھی پارٹی پر اثر انداز ہو سکتا تھا یا تو جا چکا ہے یا اس کو نکال دیا گیا، سوال یہ ہے کہ قرآن، حدیث، تفسیر اور صوفیاء کے ملفوظات پڑھ کر کون سا ملک معاشی اور مادی ترقی کر گیا اور سپر طاقت بن گیا، چلیں یہ سوال بھی کر لیتے ہیں کہ قرآن، حدیث، تفسیر کے مطالعے سے وہ کون لوگ ہیں جو ولی بن چکے ہیں، وہ وظیفہ کس نے پڑھا جس کے ورد سے رزق ایسے برستا ہے کہ گھر میں رکھنے کی جگہ نہیں رہتی، بات یہ ہے کہ یہ عالمی طاقتوں کا ایجنڈا ہے جو عمران اور باجوہ مل کر عمل کررہے ہیں بہت سوچنے کے بعد بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ باجوہ کو واشنگٹن میں بارہ توپوں کی سلامی کیوں دی گئی تھی امریکی حکام بھی اس سوال پر مسکرا دیتے ہیں، مقصد یہی ہے کہ عشروں تک ملک کو سائنسی علوم سے دور رکھنا ہے اور معاشی اور مادی ترقی سے، یہ بات اسی وقت سمجھ میں آگئی تھی جب پناگاہیں، لنگر خانے اور دستر خوان کی باتیں ہورہی تھیں کٹے اور مرغی معاشی ترقی کی بنیاد سمجھے جانے لگے اور چہرے پر مکاری سجا کر یہ کہا گیا کہ کوئی بھوکا نہیں سوئے گا مگر سچ یہی ہے کہ صرف فوج، مولوی اور اشرافیہ کو پیٹ بھر کر آرام سے روٹی ملتی ہے۔