کونسی کل سیدھی؟

252

بچپن سے یہ محاورہ سنتے سنتے بوڑھے ہوگئے کہ، اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی؟ لیکن اس کے باوجود عمر گذر گئی، اور جو باقی بچی ہے وہ تیزی سے گذری جارہی ہے، دیکھتے یہ ہیں کہ جس اونٹ سے بھی یہ سوال کرتے ہیں اس کی طرف سے ہمیں ایسا کوئی جواب نہیں ملتا جس سے یقین ہوجائے کہ جو وہ بتارہا ہے وہی کل سیدھی ہے۔
ہماری عالمی برادری ہے یہ سب ہی جانتے ہیں اور سائنس کی حیرت انگیز تبدیلی نے ہماری اس برادری کو ایک دوسرے سے بہت زیادہ مربوط کردیا ہے اگرچہ کچھ لوگ اسے بالکل پسند نہیں کرتے لیکن وہ بھی بادلِ ناخواستہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ دنیا اب ایک بہت بڑا گاؤں بن چکی ہے جس کے باسی ایک دوسرے کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں بلکہ کچھ کا دعوی تو یہ ہے کہ وہ اپنے گاؤں کے ہر باسی کے بارے میں وہ سب جانتے ہیں جس کا جاننا ضروری ہو اور وہ بھی جانتے ہیں جس کا جاننا بالکل ضروری نہیں ہے لیکن انہیں دوسروں کی ٹوہ لینے کی ایسی بیماری ہے کہ کرید کرید کر سب کچھ جان لیتے ہیں۔
تو ہماری اس عالمی برادری یا بڑے گاؤں کے باسیوں میں سب سے بڑا چودھری امریکہ بہادر ہے جسے گذشتہ سو برس سے، کم و بیش، اپنی طاقت کا بڑا گھمنڈ رہا ہے اور اسی گھمنڈ یا غرور نے اس کی یہ فطرت بنادی ہے کہ وہ ہر ایک کے پھٹے میں ٹانگ اڑانا اپنا حق سمجھتا ہے چاہے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اور دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ اس کی مداخلتِ بیجا کا انجام اس کے اپنے حق میں تو برا ہوا ہی ہے لیکن اس سے زیادہ ان کے حق میں برا ہوتا ہے جن کے پھٹے میں وہ اپنی موٹی ٹانگ پھنساتا ہے۔ تازہ ترین شاہکار اس کی اس بری عادت کا، جس کی وجہ سے یہ سوال کرنا جائز ہوجاتا ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی، افغانستان ہے جہاں وہ پچھلے بیس برس سے براجمان تھا اور اپنی طاقت کے نشہ میں بے تحاشا تباہی اور بربادی کا کھیل رچائے ہوئے تھا لیکن اب جس طرح لشتم پشتم وہ ان بیس برس میں سوائے ناکامی اور ہزیمت کے اور کچھ نہ کمانے کے بعد رسوا اور ذلیل ہوکر نکل، بلکہ بھاگ، رہا ہے۔
امریکہ جس طرح بدحواس ہوکر افغانستان سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر نکل رہا ہے، بلکہ راہِ فرار تلاش کرتا نظرآتا ہے اس کے سبب نہ صرف وہاں، افغانستان میں ایک بڑا سیاسی اور دفاعی خلاء پیدا ہورہا ہے بلکہ افغانستان سے ملحق علاقہ بھی اس خلاء کی زد میں آرہا ہے۔ ایک طرف وہ افغان سیاسی گماشتے جنہیں امریکہ اپنی انگلیوں پر نچاتا رہا اور وہ بھی ناچتے رہے اسلئے کہ اس کھیل میں ان کی تجوریاں بھر رہی تھیں پریشان ہیں کہ اب انہیں اپنی سیاسی موت نظر آرہی ہے۔ امریکہ بہادر کے خیال میں افغانستان صرف کابل تک محدود تھا لہذا انہوں نے تختِ کابل پہ قبضہ کرکے وہاں بیس برس تک اپنی کٹھ پتلیاں نچائیں۔ کٹھ پتلیاں بھی اپنے تماشہ گروں کے ہاتھوں ناچتی رہیں جو انہیں یہ تسلیاں دیتے رہے کہ جن کے ہاتھوں سے چودھری امریکہ نے افغانستان کا اقتدار اور اختیار چھینا تھا، یعنی طالبانِ افغانستان، وہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آسکتے اسلئے کہ امریکہ نے اپنے زعم کی حد تک ان کا سر کچل دیا تھا اور چودھری امریکہ کو یقین تھا کہ طالبان کا بقول ان کے فتنہ اب کبھی سر نہیں اٹھا سکے گا۔
لیکن فتنہ نہ صرف بیدار ہوگیا ہے بلکہ چودھری صاحب کے اپنے نقیبوں اور ترجمانوں کے بقول یہ فتنہ اب پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور با اثر بن کر اٹھا ہے اور، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا کے مصداق اس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ ملک کا آدھے سے زیادہ علاقہ اب طالبان کی دسترس میں ہے، ان کے زیرنگیں ہے، اور جس تیزی سے طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اسے دیکھتے اور سمجھتے ہوئے یہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کابل کے تخت پر امریکی گماشتوں اور مہروں کی جگہ طالبان بیٹھے ہونگے۔
کابل کے کٹھ پتلی حکمرانوں کو تو اپنا مستقبل صاف دکھائی دے رہا ہے کہ کیا ہوگا۔ لہٰذا وہ اپنے سرپرست کی دیکھا دیکھی کابل سے اس گھڑی کے آنے سے پہلے بھاگنے کی تیاریوں میں جٹ گئے ہیں جب طالبان فاتح کی حیثیت میں کابل میں داخل ہونگے۔ کٹھ پتلیاں وہی لوگ بنتے ہیں جو بے ضمیر اور بے شرم ہوتے ہیں اور امریکہ نے ایسے بے ضمیروں کے بل بوتے پر ہی افغانستان کو بیس برس تک تباہ و برباد کیا۔ یہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ جیسے تھالی کے بینگن اور بقول شخصے لوٹے، بھی اتنے ہی بے غیرت ہیں جتنے ان سے پہلے حامد کرزئی تھے۔ ان سب کو پاکستان نے پناہ دی تھی، ان کو پالا تھا لیکن بے ضمیر کی ایک علامت یہ بھی تو ہوتی ہے کہ وہ اُسی شاخ کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے جس نے اسے آشیانہ بنانے کی جگہ دی ہو۔ سو اب یہ سب امریکی گماشتے کھسیانی بلیوں کی طرح کھمبے نوچ رہے ہیں اور اپنی اور اپنے سرپرست امریکہ کی صاف اور کھلی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹہرا رہے ہیں۔ خیر، جو سمجھدار پاکستانی ہیں اور تاریخ کو جانتے ہیں انہیں افغانوں کی وفاداری کے متعلق کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ افغانوں کی فطرت میں طوطا چشمی ہے اور انہیں جب موقع ملے تو یہ آستین کے سانپ کی طرح ڈسنے سے نہیں چوکتے۔ یہ جانتے ہوئے بھی پاکستان کے حکمرانوں نے آستین کے ان سانپوں کو دودھ پلایا اور پروان چڑھایا اسلئے کہ پاکستانی اپنی میزبانی کی فطرت سے مجبور ہیں اور اس روایت کو ترک نہیں کرتے کہ دشمن بھی اگر کاسہء طلب لیکر دروازے پہ آجائے تو اسے خالی ہاتھ لوٹانا پاکستانی تہذیب کے منافی ہوگا۔
لیکن افغانستان کے دیگر پڑوسیوں کی طرح پاکستان کو بھی یہ تشویش لاحق ہے کہ طالبان کے ایک بار پھر بر سرِ اقتدار آنے کا نتیجہ یا نتائج کیا ہونگے اور پاکستان ان سے کس طرح سے نبٹے گا؟ امریکہ سے تو خیر کی کوئی امید نہیں ہے اسلئے کہ خیر چودھری صاحب کی فطرت میں ہی نہیں اسی لئے تو بار بار یہی سوال لب پہ آجاتا ہے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی؟ یہ سوال اس حالیہ پیش رفت کے بعد اور زیادہ متعلقہ اور برمحل ہوگیا ہے جس میں چودہری صاحب کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے بھارت کا دورہ کیا تاکہ اپنے ہی جیسے ایک اور اونٹ کے ساتھ، جس کی کوئی کل خود ان کی اپنی کلوں کی مانند سیدھی نہیں ہے، گٹھ جوڑ کے امکانات تلاش کریں اور سر جوڑ کے بیٹھیں اور کوئی ایسا ابلیسی منصوبہ بنا سکیں جس سے ان کی تخریبی کارروائیوں میں اضافہ ہوسکے اور ان کا یہ ہدف پورا ہوسکے کہ افغانستان میں امن چین نہ ہونے پائے اسلئے کہ وہاں اگر امن ہوگیا تو افغانستان کے دو خاص پڑوسیوں، پاکستان اور چین، کا یہ خواب پورا ہونے کی سبیل پیدا ہوجائے گی کہ جس افغانستان کو امریکہ نے برباد کیا ہے اور مودی سرکار کی شیطانی چالوں نے لوٹا ہے وہاں تعمیر و ترقی کا دور دورہ ہو اور چالیس برس کی استعماری سازشوں نے جو تباہی اور بربادی مچائی ہے اس کا ازالہ ہوسکے اور افغان عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
اپنے دورہء بھارت کے بعد بلنکن نے جو بیان دلی میں دیا وہ زہر سے بھرا ہوا تھا۔ان سے اور توقع بھی اور کیا ہوسکتی تھی کہ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں ہوتا ہے اور بچھو ڈنک مارے بغیر رہتا نہیں۔ سو بلنکن نے طالبان کے خلاف بہت زہر اگلا لیکن زہر اگلتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ انہیں طالبان کے ساتھ، جنہیں وہ دہشت گرد قرار دے رہے ہیں، ان کی حکومت نے مذاکرات کئے اور مذاکرات بھی طالبان کی شرائط پہ گھٹنے ٹیک کر کئے لیکن کیا کریں کہ اپنی فطرت سے مجبور ہیں اور افغانستان میں عبرتناک شکست کھانے کے باوجود انہیں اب بھی یہ زعم ہے کہ وہ مستقبل کے افغانستان کو اپنی پسند میں ڈھال سکیں گے۔ ہائے ری بے شرمی اور ہٹ دھرمی، کوئی ان سے پوچھے کہ میاں جو بیس برس تک اس ملک میں تباہی اور بربادی کا رقصِ ابلیس کرنے کے باوجود تم حاصل نہیں کرسکے وہ اب کیسے حاصل کروگے۔ طالبان تو تمہاری من مانی کرنے سے رہے اور نہ ہی پاکستان اب تمہارے ہاتھوں میں کھلونا بننے کیلئے تیار ہے اسلئے کہ تمہارے پاکستانی گماشتوں کا دور تو لد چکا۔ زرداری، نواز اور مشرف جیسے ضمیر فروش اب تمہارے کسی کام کے نہیں اسلئے کہ پاکستانی قوم ان ملت فروشوں کو رد کرچکی اور ان کی جگہ اب پاکستان کی قیادت ایک غیور اور جواں عزم عمران خان کے ہاتھوں میں ہے اور عمران اور ان کے ترجمانوں نے بار بار یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستان اب امریکہ کے سامنے جھکے گا نہیں بلکہ اب دو طرفہ تعلقات برابری کی بنیاد پر ہونگے اور پاکستان کی قومی غیرت کا کوئی سودا نہیں ہوگا۔ اسی طرح چین نے بھی طالبان کے ایک وفد کی اپنے ہاں پذیرائی کرکے دنیا کو جتادیا ہے کہ وہ افغانستان میں ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے آمادہ ہے اورہوا کے رخ کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے وہ ان کے ساتھ روابط استوار کرنا چاہتا ہے جو کل کو افغانستان کی قیادت کا بار اٹھانے والے ہیں۔
استعماری امریکہ کا افغانستان کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں ساتھ دینے کیلئے اب اگر کوئی آمادہ ہے تو وہ فسطائی بھارت ہے جس کے شیطانی منصوبے افغانستان میں ایسے ہی ناکام ہوئے ہیں جیسے چودھری امریکہ کے۔ بھارت کے فسطائیوں کو خوش فہمی تھی کہ وہ افغانستان میں اشرف غنی اور حامد کرزئی جیسے گماشتوں کے بل بوتے پر ان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف تخریبی اور دہشت گر کارروائیوں کیلئے استعمال کرتے رہینگے لیکن ان کے گماشتے اور ان کے سرپرست تو وہاں بری طرح پٹ گئے سو بھارت بھی اب لشتم پشتم افغانستان سے راہ فرار اختیار کررہا ہے لیکن اب اس کی خواہش یہ ہے کہ وہاں طالبان بر سر اقتدار نہ آئین بلکہ، اس کے ترجمانوں کے بقول، بھارت کے حق میں سب سے بہتر یہ ہوگا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت رہے تاکہ بھارت اپنے منصوبوں کے مطابق تخریبی اور دہشت گر کارروائیاں جاری رکھ سکے!