کورپشن نے جنوبی افریقہ میں قیامت ڈھا دی

307

صاحبو!جانتے ہیںجنوبی افریقہ میں کیا ہوا؟ بھوک، افلاس، بیروزگاری سے تنگ آکر جنوبی افریقہ کے عوام نے بلوہ کر دیا، جس میں لوٹ مار کا بے مثال بازار گرم کر دیا۔ کچھ علاقوں میں کوئی دوکان نہیں بچی۔ کئیوں کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس نے بلوائیوں کو قابو لانے کی کوشش میں ایک سو کو ہلاک کر دیا، اور اس سے کہیں زیادہ گرفتار کر لیے گئے۔ایک اندازے کے مطابق ، ملک بھر میںچالیس ہزار چھوٹے بڑے کاروبار تہس نہس کر دیے گئے۔اور ابتدائی تخمینہ ہے کہ تقریباً 3.4 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ دو سو سے زیادہ شاپنگ سنٹرز، ایک سو مال لٹ گئے یا جلا دئے گئے۔ان کے علاوہ بینک، اے ٹی ایم مشینیں اور پوسٹ آفس بھی نہیں بچے۔ نوے فارمیسیز کو لوٹا گیا۔ اور دوسری طرف،کوڈ کی نئی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔کیا بنے گا؟ اس واقعہ کا بظاہر سبب ملک کے سابق صدر جیکب زوما کی گرفتاری تھی جنہیں کورپشن کے الزام پر پکڑا گیا۔ جب سے ملک سے نسل پرستی کا راج ختم ہوا، پہلی مرتبہ ایسا ہنگامہ ہوا ہے۔ اس تمام ہنگامہ آرائی کی اصل وجہ ، بقول ایک واقف حال صحافی کے، معاشرے میں دولت کی غیر مساوی تقسیم تھی ۔ یعنی ایسا احتجاج کبھی بھی ممکن تھا۔ لوگ مشتعل تھے اور تھوڑی سی چنگاری نے ان کو ایسا بھڑکایا کہ سب کچھ تباہ ہو گیا۔جنوبی افریقہ کے ۷۴ فیصد نوجوان بے کار ہیں، نہ ہی تعلیمی اداروں میں اور نہ ہی تربیت گاہوں میںجہاں انہیں ایسی تربیت ملے جس سے وہ با عزت روزگار لے سکیں۔ ہماری حیثیت کا پیمانہ آج وہاں ہے جہاں برازیل جیسے ملک کھڑے ہیں، دنیا کی بد ترین اقوام کی صف میں، جہاں وسائل کی مکملبے ڈھنگی تقسیم ہے۔خواہ آمدن کے لحاظ سے یا دولت کے یا وسائل کے لحاظ سے۔ نصف آبادی مدتوں سے غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔اور معاشی ترقی کی رفتار صفر ہے۔یہاںکو وڈ کی عالمی وباء کے پھیلنے سے پہلے ہی اقتصادی بحران تھا۔
ان معاشی حالات کو اگر غور سے دیکھیں کہ معاشرے کی اوپر کی سطح پر ایک چھوٹی سی تعداد امراء کی ہے، متوسط طبقہ نہ ہونے کے برابر اور باقی غربت ہی غربت۔اس صحافی نے کہا کہ موجودہ ہنگاموں کی اصل وجہ یہ ہی ہے۔ باقی رہا صدر کی گرفتاری، اس کی کہانی اور ہے۔ اس صدر کے دور میں ملک کو، نجی طبقہ میں، سب سے زیادہ بولی لگانے والوں میں بیچا جا رہا تھا ،خاص طور پر بھارت کی بدنام زمانہ گپتا فیملی کو جو جیکب زوما کے قریبی دوست تھے۔ اس ے جنوبی افریقہ کی ریاست کھوکلی ہو رہی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ کورپشن انتہا پر پہنچی ہوئی تھی۔ ریاستی ادارں کو لوٹا جا رہا تھا، اور دوسری طرف ملک کی سول سروس، ان کے اعلیٰ حکام، ڈائریکٹز، اور جنرل دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کر رہے تھے۔
چنانچہ ، ملک میں سینکڑوں مجرم ہیں جن کو جیل میں ہونا چاہیے، اور یہ لوگ افریقن نیشنل کانگریس کی حکومت کا حصہ ہیں۔یہ لوگ نہیں چاہتے کہ آئین کی پاسداری ہو، کیونکہ اگر قانون پر عمل ہونا شروع ہو گیا تو ان کا کیا بنے گا۔ قانون کی پاسداری کا ایک جیتا جاگتا ثبوت صدر زوما کی قید ہے، جو نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ اگر صدر کو پکڑا جا سکتا ہے تو پھر آپ کس باغ کی مولی ہیں جو بچ جائیں گے؟ اس لیے جنوبی افریقہ میں بہت سے ایسے سرکاری ملازم ، بزنس مین ، ٹھیکیدار اور سیاستدان ہیں جو قانون کے اس نفاذ کے خلاف ہیں۔اس لیے وہ جیکب زوما کے نام پر ا پنی جان بچانا چاہتے ہیں۔
سوال اٹھتا ہے کہ نیلسن منڈیلا نے کتنی جدو جہد کے بعد اپھارتھئیڈ(نسل پرستی) کا خاتمہ کیا، تو اس کے نتیجہ میں قوم کا یہ حال کیوں ہوا؟ وہ اس لیے ہوا کہ منڈیلا اور اسکی پارٹی کو حکومت تو مل گئی لیکن حکومت چلانے کی سمجھ نہیںملی۔ جس سے ملک ترقی کرتا، لوگوں کو ملازمتیں ملتیں، کاروبار چلتے اور باہر سے سرمایہ کاری آتی۔ یہ سب کچھ نہیںہوا۔ اب جنوبی افریقہ کو سب سے پہلے ملک میں نا مساوی تقسیم زر کو ختم کرنا ہو گا۔ اس کے لیے صحیح قیادت چاہیے، اور اس کے ساتھ ایک لایحہ عمل۔ ابھی دونوں نہیں ہیں۔
کیا اب کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے؟ ہاں۔ کیونکہ ہمارا ملک ایسی بری پوزیشن میں پہلی دفعہ نہیں پہنچا۔ یہ جب پہنچتا ہے تو کسی نہ کسی طرح سنبھل جاتا ہے۔یہ وقت بھی گزر جائے گا۔جنوبی افریقہ ابھی کووڈ کی وباء سے نہیں سنبھلا۔
اب اندر کی کہانی ، بھارتی اخبار اوریسہ پوسٹ سے سنئے: اس کی ۱۶ جولائی ۲۰۲۱ء کی اشاعت میں لکھا گیا ہے:’’ ڈربن کے کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ ہم (بھارتی) بزنس اور پیشوں میں بہت کامیاب ہیں اور بہت سے مقامیوں کو یہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ان کو بس ایک موقع کی تلاش تھی کہ ہمیں لوٹیں۔یہ ڈربن کے ایک بھارتی نژراد مسٹر نائدو کا کہنا تھا،جہاں دس لاکھ بھارتی نژرادرہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس صرف تماشائی بنی سب لوٹ مار دیکھتی رہی۔ بلکہ کہیں پر وہ ان لوٹ مار اور آتش زدنی کرنے والے بلوائیوں میں شامل بھی ہو گئے، جو انڈینز کو کہ رہے تھے کہ گھر جائو۔راجیش پٹیلکا کہنا تھا کہ ہم یہاں کئی پشتوں سے ہیں۔اب کچھ زولو مہم جو کہ رہے ہیں کہ ہم جائیں۔ یہ تمہارا ملک نہیں ہے۔ پٹیل صاحب کی بہت ساری کریانے کی دوکانیں ہیں۔اس خبر کے مطابق صرف ڈربن میں پچاس ہزار سے زیادہ کاروبار تباہ ہوئے جن میں سے زیادہ تر بھارتیوں کے تھے۔حکومت نے اعتراف کیا کہ ۱۱۰ لوگ ہلاک ہوئے جن میں زیادہ بھارتی نژراد تھے۔خبر میں بتایا گیا ہے کہ صدر زوما کی گرفتاری سے فسادات شروع ہوئے اور جلد ہی بھارتیوں کے خلاف ہو گئے۔یہ قابل ذکر بات ہے کہ ۱۴ لاکھ بھارتی نژراد جنوبی افریقہ میں ہیں جو زیادہ تر ڈربن میں کام کرتے ہیں۔جیسے جیسے فسادات بڑھے تو سوشل میڈیا پر (ٹویٹر) پر جنوبی افریقنز نے بھارتیوں کو خصوصاً گپتا برادران کو کورپشن کا ذمہ وار ٹہریا۔جس کے ساتھ صدر زوما ملے ہوئے تھے۔کوئی جنوبی افریقن اپنے ساتھیوں کو اکسا رہا تھا کہ بھارتیوں پر حملے کریں،اور یاد کریں کہ کس طرح جیکب زوما نے ملک کو انڈین مونوپلی کیپیٹل کو بیچ دیا تھا۔اس کے ساتھ گپتا برادران کی تصویر بھی تھی۔گپتا فیملی کی کل مالیت دس بلین ڈالر کے قریب ہے۔ ان کے اثاثوں میں کوئلے کی کانیں، کمپیوٹرز، اخبار اور میڈیا کے کاروبار ہیں۔انہوں نے جیکب زوما اور دوسرے سیاستدانوں سے مل کراربوں ڈالر جنوبی افریقہ سے باہر بھیجے جس سے حکومتی خزانہ کو نا قابل تلافی نقصانات ہوئے۔ اب ان کی وجہ سے پوری بھارتی کمیونیٹی ذلیل ہو رہی ہے۔لوگ سب بھارتیوں کو گپتا کے ساتھی سمجھتے ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ افریقی ممالک میں اکثربھارتیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور تشدد کو جائز بنانے کے لیے بہانہ سازی کر لی جاتی ہے۔یہاں تک کے فجی میں بھی، بھارتی نقل مکانی کرنے والوں کو مطعون سمجھا جاتا ہے۔‘‘
اس راقم کو یاد ہے کہ جب میں کینیا میں تعنیات تھا تو مجھے وہاں کے افریقی دوست بتاتے تھے کہ انہیں انڈین نژراد سے شکایت ہے کہ وہ ہم لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں اور منافع کماتے ہیں، لیکن ہم سے سماجی تعلقات نہیں بناتے۔ ہمیشہ علیحدہ رہتے ہیں۔ اپنی لڑکیوں کی شادی افریقی لڑکوں سے نہیں کرتے بلکہ واپس بھارت سے ان کے دولہے لاتے ہیں۔ ہم سیجو مال کماتے ہیںاس سے سونا خرید کر واپس بھارت لے جاتے ہیں۔ اور بجائے مقامی افریقنز کو ملازم رکھنے کے، انڈیا سے بھائی بھتیجوں کو لے آتے ہیں۔ یہی صورت حال یوگنڈا میں بھی تھی جب وہاں عیدی امین کی حکومت بنی اور انڈین نژراد کو دیس نکالا دے دیا گیا، اکثر گھر بار، دوکانیں چھوڑ کر جان بچا کر بھاگے۔کینیا والوں نے ایسا نہیں کیا۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ ان سب ملکوں میں مسلمان بھی، خواہ فلسطین کے اور خواہ ہندو پاک کے ، کاروبار کرتے تھے، دوکانیں چلاتے تھے، لیکن ان کے خلاف اسقدر اشتعال نہیں ہوتا تھا۔ جتنا انڈینز کے خلاف۔شاید اس لیے کہ افریقنز میں بھی اکثر مسلمان آبادیاںہوتی تھیں جو ہو سکتا ہے، کچھ مفاہمت پیدا کرتی ہوں۔ ویسے بھی مسلمانوں میں خیرات، صدقہ، اور زکوۃ دینے کا حکم ہے جس سے وہ مقامی آبادی میں اپنی آمدنی بانٹتے رہتے تھے۔ لیکن اس معاملہ میں تحقیق کی ضرورت ہے۔ انڈینز بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ رفاہی کام کرتے ہوں، لیکن جب ان ہی میں سے کچھ، بڑے پیمانے پر، حکومتی قیادت سے ملکر ملک لوٹ رہے ہوں ، تو لوگ دو جمع دو جمع تو کریںگے ہی۔تو پوری انڈین کمیونٹی کے خلاف ایک منفی تاثر پڑنا تو لازمی ہے۔
انڈیا کی کاروباری آبادی بہت تجربہ کار، کاروبار کی اونچ نیچ کو سمجھنے والی، اور جانتی ہے کہ منافع کیسے کماتے ہیں، نہ صرف انڈیا میں بزنسز پر چھائی ہوئی ہے، بلکہ افریقہ اورمشرق وسطیٰ ، بلکہ ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ اگر ان کو کسی سے مقابلہ کرنا پڑا ہے تو وہ اہل یہود اور چینی ہیں جو انہی کی طرح بزنس کے دائو پیچ جانتے ہیں۔انڈینز کا کاروباری انداز اور رہن سہن تقریباً ایک جیسا رہتا ہے بزنس وہ خواہ ممبئی میں کریں یا ٹمبکٹو میں۔اپنی سماجی روایات اور رسوم و رواج کی پابندی ہر جگہ ایک جیسی ہوتی ہے۔ اسی لیے جس ملک میں بھی انڈینز کاروبار کرتے ہیں، رفتہ رفتہ مقامی آبادی میں غیر مقبول ہوتے جاتے ہیں ۔ اور اس کی بڑی وجہ ان کا مقامی آبادی کے ساتھ سماجی دوری رکھنا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک یہ اپنے سماجی تعلقات، مقامی آبادیوں کے ساتھ بھائی چارہ، رفاہی اور مخلاصانہ سرگرمیاں نہیں بڑھائیں گے ، اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے۔
لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ انڈینز اور عرب کاروباری لوگ جب بزنس کرتے تھے تو نہ صرف اپنا سرمایہ لگاتے تھے، بلکہ اس کے ساتھ ان کو بزنس کرنے کا ہنر بھی آتا تھا ۔ سوادا کہاں سے خریدنا ہے، کب خریدنا ہے اور کتنے کا بیچنا ہے، اس سب کے لیے معلومات چاہییں، اور تجربہ بھی۔ ان کے بغیر بزنس نہیں چلایا جا سکتا۔ مثلاً جب یوگنڈا سے انڈینز دوکانیں چھوڑ کر چلے گئے، تو مقامی افریقنز نے ان پر قبضہ کر لیا۔ اور خوب سودا بیچا اور پیسے کمائے۔ اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ کچھ دیر میں دوکانیں خالی ہو گئیں ۔ اب کیا کریں؟ اب ذرا جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن کا سوچیں۔ مقامی آبادی نے اکثر سٹور لوٹ لیے، دوکانیں خالی کر دیں۔ اس سے انڈینز کو تو جو نقصان ہوا وہ تو وہ سہہ لیں گے، لیکن کیا وہ دوبارہ سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہوں گے؟ اور کیا مقامی آبادی میں وہ علم، تجربہ اور سرمایہ ہو گا کہ وہ ان کی جگہ لے سکیں گے؟ شاید ؟ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ لوٹ مار کا سامان تو جلد ہی ختم ہو جائے گا، اور لوگوں کو ضروریات زندگی کی ضرورت پڑے گی۔تو پھر سے بازار سجانے کا خیال آئے گا۔یہ ایک بڑا مشکل اور دشوار مرحلہ ہو گا، جس میں کئی بچے، بیمار، بزرگ اور مفلس اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔حکومت پہلے ہی کورپشن کے چنگل میں پھنسی بیٹھی ہے، اس کا خزانہ بھی خالی ہے۔ اب حالات پہلے بد سے بد تر ہوں گے پھر شاید بہتری کی کوئی صورت نکلے؟
قارئین، جنوبی افریقہ میں جو ہوا، اس کی وجوحات میں اور پاکستان کے حالات میں، کچھ مماثلت تو نظر آتی ہوگی؟ میاں نواز شریف کو جنوبی افریقہ کا صدر جیکب زوما سمجھیں، اور ان کے بھارتیوں کے ساتھ تعلقات، تو بہت سے گتھیاں سلجھنے لگیں گی۔اگر پاکستانیوں نے عمران خان کو منتخب نہ کیا ہوتا تو پاکستان بھی ایسی قیامت سے دو چار ہونے کی توقع کر سکتاتھا۔