ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا!

208

خبر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ذہنی صحت اور روحانی بقا کا حقیقی ذریعہ ہے News is an actual means of mental health and spiritual survival اس مقولے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخبار نویس بڑی اور نتیجہ خیزخبریں سنا کر کتنا اہم قومی اور سماجی فریضہ سر انجام دیتے ہیںیکم اگست کو ایک نامور صحافی نے نون لیگ کے صدر شہباز شریف کا انٹرویو کر کے اہل وطن کے سامنے خبروں کے ڈھیر لگا دئے اب اقتدارو اختیار کے ایوانوں سے لے کر کوچہ و بازار تک کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سی خبر زیادہ اہم ہے اور کون سی غیر اہم کس پہ بات کی جائے اور کسے رہنے دیا جائے ایک بڑی خبر کو صحافتی زبان میں سکوپ(scoope) کہا جاتا ہے اس انٹرویو کو دیکھنے اور اس پر ہونے والے تبصروں کو سن کر کہا جا سکتا ہے کہ اسمیں کئی سکوپ تھے اس انٹرویو کی ضرورت اسلئے بھی تھی کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں نون لیگ کی شکست کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آگئی تھی کہ مفاہمت اور مزاحمت کے بیانیوں کا تضاد اب ایک ایسا بوجھ بنتا جا رہا ہے جسے زیادہ دیر تک نہیں اٹھایا جا سکتا اب شہباز شریف اور مریم نواز کے تنازعے کا حل اسلئے بھی ضروری ہے کہ یہ جھگڑا دو سال بعد ہونیوالے انتخابات میں ایک بڑی شکست کا باعث بن سکتا ہے مسلم لیگ نون کے صدر کافی عرصہ سے خاموش بھی تھے اسلئے انکا میدان عمل میں اترنا ضروری تھانون لیگ کے حمایتیوں کے علاوہ مخالفین بھی گوش بر آواز تھے کہ وہ کیا کہتے ہیں اس صورت حال کو سلیم کوثر نے یوں بیان کیا ہے؎
کسی سنگ دل کو گداز دے ‘ کسی آنکھ میں بھی نمی نہ ہو
کوئی بات ایسی کہو یہاں جو کبھی کسی نے کہی نہ ہو!
اسی غزل کے ایک دوسرے شعر کو شہباز شریف کا جواب کہا جا سکتا ہے
یہاں جان کر نہیں مانتے‘ یہاں مان کر نہیں جانتے
میرے ساتھ جو بھی ہوا یہاں وہ سلوک تجھ سے کبھی نہ ہو!
اس طویل مکالمے میں شہباز شریف یہی کہتے نظر آئے کہ انکی بات انکی اپنی جماعت کے اندر بھی نہیں سنی جا رہی اور باہر بھی انکی شنوائی نہیں ہو رہی اسکا ثبوت دیتے ہوے انہوں نے کہا کہ بڑے میاں صاحب اگر 2018 کے الیکشن کے موقع پر انکی بات مان لیتے تو وہ ویعنی شہباز شریف و زیر اعظم بن سکتے تھے اس بات کو بڑھاتے ہوے انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس سے پہلے بھی وزارت عظمیٰ کی آفر ہوئی تھی مگرانہوں نے اسے بڑے بھائی کی ناراضگی کے ڈر سے مسترد کر دیا تھا سلیم کوثر کے حال ہی میں شائع ہونیوالے شعری مجموعے ’’ خواب آتے ہوے سنائی دئے‘‘ کا ایک شعر ہے
اک عمر ہو گئی ہے میرے حق میں فیصلہ
لکھا تو جا چکا ہے سنایا نہیں گیا !
میاں شہباز شریف عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انکے بڑے بھائی سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ چھوٹے بھائی کی چالیس سالہ خدمات کو مد نظر رکھتے ہوے انہیں وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کا موقع دے دیں مگر یہ بات صرف شہباز شریف کے ذاتی المیے تک محدود نہیں اس خاندانی منظر نامے پر میاں نواز شریف کے ذاتی غم و غصے اور رنج و الم کی پرچھائیاں بھی لہرا رہی ہیںانہیں گذشتہ کئی سالوں سے با آواز بلند جس دشنام طرازی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ اسے غلط ثابت کرنا چاہتے ہیںوہ اگر چھوٹے بھائی کے مفاہمتی بیانیے کو قبول کر لیں تو یہ انکی سیاست کے لئے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے وہ اس انداز فکر کو اپنا کر عوام کے سامنے سرخرو ہونے کی جہدو جہد سے دستبردار ہو جائیں گے یوں انکی سیا ست بھی انکے ذاتی المیے کے حصار میں جکڑی ہوئی ہے سلیم کوثر ہی کا شعر ہے؎
میں تھا تو مجھ سے ساری خرابی تھی دہر میں
اب کس سے پوچھئے کہ میرے بعد کیا ہوا!
میاں نواز شریف کی اس خلش کو صرف مزاحمت کا بیانیہ ہی دور کر سکتا ہے انکے پاس اپنی رنجشوں کے ازالے کیلئے آئین اور قانون کی بالا دستی کے بیانئے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں دوسری طرف شہباز شریف ڈھلتی عمر کیساتھ ایک مہلک مرض میں بھی مبتلا ہیں وہ زندگی بھر دھیمے لہجے میںصلح جوئی اور مصالحت پسندی کی بات کرتے رہے ہیںتنائو اور تصادم انکے مزاج کا حصہ ہی نہیںبڑے بھائی کی اطاعت گزاری بھی انہی نرم و نازک جذبوں سے جنم لیتی ہے اسوقت دونوں بھائی ڈوبتے سورج کے ڈھلتے سایوں میں ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایکدوسرے کو چھوڑا بھی نہیں جا سکتا اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بھی نہیںبڑھا جا سکتا اس پیچیدہ صورتحال کو افتخار عارف نے یوں بیان کیا ہے
لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
دونوں انساں ہیں خدا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
جانِ عارف تو بھی ضدی تھاانا مجھ میں بھی تھی
دونوں خود سر تھے جھکا تو بھی نہیں میں بھی نہیں!
دیکھا جائے تو بڑے لیڈروں کے المیے انکی سیاست ہی سے جنم لیتے ہیں ذالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کی مثال ہمارے سامنے ہے شہباز شریف کا زیر نظر انٹرویو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں بھائیوںکے متضاد انداز فکر اگلے چند سالوں تک کسی منطقی نتیجے پر پہنچتے ہوے نظر نہیں آرہے آثارو قرائن بتا رہے ہیں کہ میاں نواز شریف اپنے انداز فکر کو درست ثابت کرنے کے لئے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیںمیاں شہباز شریف نے تو نہایت جذباتی انداز میں سلیم صافی کو دئے گئے طویل انٹرویو میں اپنا دل کھول کر سامنے رکھ دیا ہے قتیل شفائی نے کہا ہے
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا!