کیا سندھ میں آ کر کرونا وائرس بھی متعصب ہو گیا ہے کیا؟

195

اندرون سندھ اور کراچی، حیدر آباد میں سندھی حکومت کا متعصبانہ رویہ کوٹہ سسٹم جیسا ہی امتیازی سلوک ہے ہمیں کسی نے ایک پوسٹ بھیجا ہے جس میں کرونا وائرس کا ایک سرٹیفکیٹ دکھایا گیا ہے۔ سرٹیفکیٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر ہے اور درج ہے کہ ان کو دونوں وائرس کی ویکسی نیشن کر دی گئی ہے اور اس پوسٹ کے اوپر درج ہے کہ ’’آج بھی بھٹو زندہ ہے‘‘ کہنے کو تو یہ ایک مذاق ہے مگر یقین جانیے کہ پہلی نظر میں ہم نے جانا کہ یہ حقیقت بات ہے کیونکہ جس قسم کی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کرپشن کررہی ہے وہاں یہ چیز بھی ممکن ہے کیونکہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان کے کراچی میں ہاسپٹل کے اچانک دورے کے دوران پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن کے کمرے میں موجود شراب کی بوتل کو یہ کہہ کر ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اس بوتل میں جو کہ گو شراب کی تھی مگر اس میں شہد رکھا گیا ہے جبکہ چیف جسٹس نے اُسے سونگھ کر دستاویزی ثبوت کیلئے لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تھا، ایسے میں ہر چیز ممکن ہے کیونکہ حکومت بھی سندھی، انتظامیہ بھی سندھی، عدلیہ بھی سندھی، پولیس بھی سندھی اور لیبارٹری بھی سندھ کی۔ لہٰذا چیف جسٹس ثاقب نثارکی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس شراب کو شہد ثابت کر دیا گیا اور وہ کچھ بھی نہ کر سکے کیونکہ عدالت دستاویزی ثبوت دیکھتی ہے اور شراب کی بوتل کو سونگھنا ایک دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔ تو آپ یہاں پر یہ بات نوٹ کریں کہ اڑتالیس سال پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے صوبہ سندھ میں سندھیوں کیلئے کوٹہ سسٹم لاگو کر کے اور سندھی زبان کو سرکاری زبان بنا کر جو بیچ بویا تھا وہ آج ہم سندھ میں کاٹ رہے ہیں۔ ہر سرکاری اور صوبائی آسامی پر اندرون سندھ کا ایک نان کوالیفائی شخص دھڑلے سے بیٹھا ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ نمک حلالی تو کرے ہی گا۔ چاہے وہ شراب کو شہد ثابت کرنا ہو یا گندم کی بوریوں کا ہیر پھیر کا معاملہ ہو یہ ہی وجہ ہے کہ آج پورا پاکستان سندھ کی حکومت کو ملک کی کرپٹ ترین حکومت کے نام سے پکاررہا ہے اور ایسے میں سندھی حکومت آخر کار سندھ کارڈ استعمال کرتی ہے۔ اس وقت سندھ حکومت نے کراچی، حیدر آباد سمیت پورے سندھ میں کرونا وائرس کے حوالے سے مکمل لاک ڈائون لگادیا ہے مگر دادو، خیرپور، لاڑکانہ اور دیگر اندرون سندھ شہروں میں وہ صورتحال نہیں ہے جو حیدر آباد اور کراچی میں ہے۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے بعد اب وفاقی وزراء بھی سندھ حکومت پر الزام لگارہے ہیں کہ کراچی اور حیدر آباد میں مکمل لاک ڈائون لگانا ایک متعصب فیصلہ ہے اور اس کے پس منظر میں مہاجروں اور اردو بولنے والوں کے کراچی میں بزنس کو تباہ و برباد کرنا ہے۔ سندھی حکمران کراچی کو روپے کا سمندر سمجھ کر دونوں ہاتھوں سے بٹوررہے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ کیونکہ کراچی والے کبھی پیپلزپارٹی کو ووٹ نہیں دیتے تو وہ انہیں سزا بھی دینا چاہتے ہیں۔ کراچی اور حیدر آباد کے اردو بولنے والوں پر پچھلے ہی اڑتالیس سالوں سے ہر قسم کی پیشہ وارانہ تعلیم اور نوکریوں پر دروازے بند ہیں، لہٰذا اس کا توڑ ان شہروں کے مہاجروں نے یہ نکالا تھا کہ وہ بزنس اور تجارت کی طرف منتقل ہو گئے اور اس پیشے کو یوں انہوں نے نوکریوں اور کوٹہ سسٹم کے نعم البدل کے طور پراپنا لیا۔ سندھی حکومت کو یہ بات بھی بہت ناگوار گزررہی ہے کہ انہوں نے تو کوٹہ سسٹم کو اس طریقے سے فیل کر دیا لہٰذا اب وہ حیلے بہانوں سے کراچی کے ان بزنس اونرز کو برباد کرکے اور لاک ڈائون کے بہانے انہیں تجارت سے بھی باہر نکالنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ اس سے بیشتر بھی وفاق نے اور وزیراعظم نے مکمل لاک ڈائون کی مخالفت کرتے ہوئے سندھ میں صرف سمارٹ لاک ڈائون کرنے کی اجازت دی تھی اور اس مرتبہ بھی وہ یہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سمارٹ لاک ڈائون کو دنیا بھر میں سراہا گیا تھا اور آج بھی بہت ممالک اس کو فالو کررہے ہیں مگر یوں معلوم ہورہا ہے کہ سندھ حکومت اس بات پر مضر ہے کہ آخر کار تنگ آ کر وفاقی پالیسی سے ٹکرائو کر کے وہ ایسی صورت حال پیدا کر دے کہ وفاق کو خلاف ورزی کی بنیاد پر سندھ میں گورنر راج لگانا پڑ جائے۔ مسٹر ٹین پرسنٹ اور کھاتا ہے تو کھلاتا بھی ہے جیسی کرپشن کے بانی ایک زرداری سب پر بھاری کیلئے راستے محدود ہوتے جارہے ہیں اور اب خالی شہری سندھ ہی نہیں بلکہ کتے کے کاٹے ہوئے دیہی سندھ کے لوگ بھی زرداری اینڈ کمپنی سے اکتا چکے ہیں، لہٰذا اب سندھ کارڈ نہیں چلے گا!