آئی ایم ایف کی حکمرانی جاری ہے!

203

سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان جھگڑا ہورہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد میں لگے ہوئے شام ہوتے ہی عوام ٹی وی کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور یوں رات گزر جاتی ہے۔ لیکن پاکستانی عوام کے ساتھ کیا ہورہا ہے اس جانب توجہ نہیں دی جارہی۔ لوگوں کو کورونا ایس او پیز ویکسین اور لاک ٹائون میں الجھارکھا ہے۔وفاق اور سندھ کی حکومتیں مل کر عالمی ایجنڈا پورا کررہی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف اورآئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق پیٹرول ، بجلی ، گیس کی قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ تمام چیزیں بھی مہنگی ہورہی ہے جن کا پیٹرول ، بجلی اور گیس سے تعلق ہے۔ ایسے میں ایک مرتبہ پھر حکومت نے 1.71 روپے پیٹرول پر بڑھادیے ہیں۔ بجٹ آنے کے بعد سے چار مرتبہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھادی گئی ہیں اور اسے آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق 120روپے فی لیٹر تک پہنچادیا گیا ہے۔ اور یہی حکم دیا گیا تھا۔ ابھی دو مرتبہ قیمت اور بڑھائی جائے گی۔ 125روپے تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ جبکہ اعلان کیا گیا کہ اب آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں مانی جائے گی۔ اب عوام کو خوشخبریاں ملیں گی۔ اور عوام خوشخبریوں کے انتظار میں ویکسی نیشن کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اور ویکسی نیشن سینٹر کا حال یہ ہے کہ لوگ وہاں ویکسین لگوائیں یا کورونا۔ بعض ویکسی نیشن سینٹرز میں عملہ ہی نہیں ہے۔ حکومتی فیصلے کے تحت صرف پیٹرول کی قیمت ہی نہیں بڑھی ہے۔ بلکہ آٹا چینی اور گھی بھی مہنگے ہوگئے ہیں۔ مٹی کا تیل بھی 35پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے۔ مٹی کا تیل اب بھی بڑے پیمانے پر عوام کے استعمال میں آتا ہے۔ مہنگائی میں اضافے کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ ہر چیز تیزی سے مہنگی ہورہی ہے۔ سرکار کے وفاقی ادارہ شماریات نے گزشتہ ہفتے کی جو رپورٹ دی ہے اس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ایل پی جی، انڈے ، ٹماٹر،آلو ، پیاز سمیت 23اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان ساری چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لاک ڈائون کے نتائج پر بھی غورکریں تو اندازہ ہوگا کی حکومت عوام کو کس طرح قتل کررہی ہے۔ اور ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ مہنگائی کی شرح 12.20فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا سارا زور دو باتوں پر ہے ایک تو نواز شریف ،زرداری اور دوسرا اب کہاں حکومت بنانی ہے۔آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے کس قدر پاپڑ بیلے گئے ہونگے۔کتنی محنت کی گئی ہوگی۔ اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ جب حکومت کی توجہ دوسری تیسری حکومت بنانے پر ہو تین سال پہلے کی حکومت اور 8سال پہلے کے حکمرانوں کو کرپٹ ثابت کرنے پرہو تو عوام کو کیا ریلیف دیں گے۔ یقینا جو نتائج سامنے آرہے ہیں یہی آئیں گے۔ وفاقی حکومت نے پاکستان کو عملاً آئی ایم ایف کا غلام بنارکھا ہے۔پورا ملک مہنگائی،پابندیوں اور مسائل کا شکار ہے وفاق اور سندھ محاذ آرائی میں بیان بازی کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔وفاقی وزیر کہتے ہیں کہ کوئی صوبائی حکومت اپنی مرضی سے فیصلے نہیں کرسکتی لیکن وفاقی حکومت صرف بیان پر اکتفا کررہی ہے۔ اس طرح صوبائی حکومت کہتی ہے کہ ہم نے تمام فیصلے وفاقی وزراء اور این سی او سی کے ساتھ مشورے کے بعد کیے ہیں۔ ہمیں وفاقی وزراء نے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ بار بار این سی او سی کا نام لیا جارہا ہے کہ اس کے مشورے سے فیصلہ کیا گیاہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کھیل میں این سی او سی خاموش ہے۔ یہ خاموشی توڑے اور بتائے کہ عوام کا معاشی قتل کس کے حکم پر کیا جارہا ہے۔ دراصل حکمرانوں کے پاس بتانے کو کچھ نہیں کیونکہ یہ روبوٹ ہیں انہیں جو ہدایات ملتی ہیں جو ایجنڈا ملتا ہے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ یہ بھی نہیں بتاسکتے کہ 1240ارب روپے کہاں گئے۔ جو کورونا کے نام پرآئے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں بتاسکے کہ کراچی میں صرف ایک ہزاربستر کورونا کے مریضوں کے لیے مختص کرکے حالات قابو سے باہر ہونے کا ہنگامہ کیوں مچارہے ہیں دو سال میں اربوں روپے وصول کرکے بھی اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے جگہ نہیں بناسکے۔ وینٹی لیٹر نہیں لاسکے۔ ویکیسن کے بارے میں تو اب دنیا میں سوال ہورہا ہے کہ تجربہ کے طور پر لگنے والی ویکسین کسی طور پر جبراًنہیں لگائی جاسکتی تو انسانی آزادی کیوں سلب کی جارہی ہے۔آزاد مرضی کا تصور کیوں ختم کیا جارہا ہے۔ صرف آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کا ایجنڈا چلے گا۔ یا انسانی زندگی کا احترام بھی کیا جائے گا!!