کشمیر بنے گا پاکستان یا خودمختار !

228

آزاد کشمیر میں موجودہ انتخابات میں 25جولائی 2018ء کی دھاندلی کی تاریخ دہرائی گئی کہ جس میں 25جولائی 2021ء کو پھر وہی انتخابات میں لوٹ مار مچائی گئی کہ انتخابات میں بڑے بڑے عالیشان جلسے اور جلوس اسٹیبلشمنٹی جلسیوں اور جلوسیوں کے سامنے مات پڑ گئے کہ چھ لاکھ ووٹ لینے والی پی ٹی آئی جس کا ایک ممبر تک پہلے نہ تھا وہ ۲۵ نشستوں پر اور پانچ لاکھ ووٹ حاصل کرنے والی مسلم لیگ ن چھ نشستوں پر کامیاب ہوئی جبکہ تین لاکھ ووٹ حاصل کرنے والی پی پی گیارہ نشستوں پر دوسرے نمبر پر رہی جس کے خلاف آزاد کشمیر کے عوام میں شدید ردعمل آیا جنہوں نے کشمیر بنے گا پاکستان کی بجائے کشمیر بنے گا خودمختار کا نعرہ لگایا جس سے وادی نیلم میں ہنگامے برپا ہوئے جس کے خلاف سخت حکمرانی اقدام اٹھائے گئے۔ تاہم موجودہ انتخابات میں دھاندلیوں سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچا ہے جس میں پہلی مرتبہ آزادی کے نعروں میں شدت آئی جن کا نظریہ یہ ہے کہ پورا کشمیر اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق فیصلہ کرے گا کہ وہ بھارت یا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں یا پھر خودمختار ریاست جس کو سبوتاژ کرنے کے لئے بھارت نے دو سال پہلے اپنے آئین میں آرٹیکل 370اور 35Aکا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر پر مکمل قبضہ کر لیا۔ کشمیر کو دی ہوئی آزادی واپس لے لی جبکہ پاکستان میں بھی کشمیر کے حصے گلگت اور بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان ہو چکا ہے جو اب آزاد کشمیر کو بھی ریفرنڈم کے ذریعے الحاقی حربے سے صوبہ بنایا جائے گا جس کا عمران خان کئی مرتبہ اعلان کر چکا ہے جو اقوام متحدہ کی قرارداد کے منافی ہے کہ پورے کشمیرجموں، وادی لداخ، گلگت بلتستان کو بانٹنا ہے کہ ادھر ہم ادھر تم ہوں گے لہٰذا کشمیر کی آزادی جائے بھاڑ میں۔ جو ہورہا ہے کہ اب آزاد کشمیر کو نام نہاد ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان کے ساتھ الحاق کے ذریعے مسئلہ کشمیر سے انحراف کیا جائے گا جس کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے حسب وعدہ امریکی وعدہ جو صدر ٹرمپ انتظامیہ سے کیا تھا اس پر عملدرآمد ہورہا ہے جس کے لئے وہ پارٹی جس کا ایک ممبر تک نہ تھا جس کے جلسے اور جلوس نہ ہونے کے برابر تھے اس کو جتوا کر اپنا وعدہ پورا کیا جائے گا۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان نے آج تک کشمیر کی آزادی پر دھوکہ دہی اختیار کی ہے۔ 1948ء میں جب بھارت نے کشمیر پر لشکر کشی کی تھی تو بانی ٔپاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاک فوج کے سربراہ جنرل گریسی کو حکم دیا کہ آپ بھی پاک فوج کشمیر میں اتار دیں جو ابھی متنازعہ علاقہ ہے جس پر جنرل گریسی نے انکار کر دیا جس کی حمایت میں جنرل ایوب خان نے بھی قائد کے حکم سے انکار کیا جس کے بعد کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہو گیاجس کے خلاف پاک فوج کی بجائے آزاد قبائل کے پٹھانوں نے کشمیر پر حملہ کر کے موجودہ آزاد کشمیر حاصل کر لیا جن کو بھی لیاقت علی خان انتظامیہ نے مزید بڑھنے سے روک دیا ورنہ پٹھان پورے کشمیر پر قبضہ کر لیتے۔ لیاقت علی خان کے دور میں راولپنڈی سازش کیس جنرل اکبر، بیگم نسیم اکبر اور دوسرے دو درجن فوجی افسران کے خلاف بنا جس میں فیض احمد فیض اور دوسرے دانشور بھی شامل تھے جن پر بھی کشمیر میں فوجی مہم جوئی کے الزامات لگائے گئے تھے جو شاید سچ پر مبنی تھے مگر ایسا ہوا تھا تو کشمیر حاصل کرنے کا بہانہ تھا جس کی مخالفت کیوں کی گئی تھی۔ 1965ء میں بھی جنرل ایوب خان نے جبرالٹر آپریشن کے نام جنگ لڑی جس میںبقول ایئرمارشل اصغر خان فوجی قیادت سے پوچھا تک نا گیاتھا جو ناکامی کا باعث بنا جس کے بارے میں یہ بھی آیا کہ جنرل ایوب خان نے کسی طاقت کو خوش کرنے کے لئے یہ جنگ چھیڑی تھی جس کے نتائج بھیانک نکلے۔ 1971ء میں اگر بھارت نے سابقہ مشرقی پاکستان پر قبضہ کر لیا تھا تو پاک فوج مغربی سرحدوں پر خاموش رہی ہے کیوں نہیں پاک فوج کشمیر میں داخل ہو گئی جس کا جواب ندارد ہے جس سے ثابت ہوا کہ کشمیر کو حاصل کرنے کے مختلف مواقع ضائع کئے گئے جس میں کشمیری عوام کو بیوقوف بنایا گیا کہ ہم ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔ فلاں ہو گا مگر معاہدہ تاشقند اور شملہ معاہدہ میں سب کچھ طے پا چکا ہے جس کا اسٹیبلشمنٹ کو علم ہے اگر علم نہیں ہے تو کشمیری عوا م کو نہیں ہے۔ جس کا اظہار اب عمران خان نے کیا ہے اب آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے صوبے بنا لئے جائیں گے جس کے بعد کشمیر کی آزادی زبانی کلامی جاری رہے گی کہ ہم مقبوضہ کشمیر کو بھی حاصل کریں گے جس کے لئے کسی غزنوی، غوری، خلجی، تغلقی، سوری اور درانی کو تیار کیا جائے گا جو کشمیر کو آزاد کرائے لہٰذا نومن تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی اب یہ فیصلہ اہل کشمیر کو کرنا ہو گا کہ وہ آزاد اور خودمختار رہنا چاہتے ہیں یا پھر پاکستانیوں کی طرح مستقل غلام جو کل انگریز کے غلام تھے آج انگریزوں کے پیدا کردہ غاصبوں اور قابضوں کے غلام ہیں بہرحال موجودہ آزاد کشمیر کے انتخابات نے پوری کشمیر کاز کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے وہ پارٹی جو پورے پاکستان میں نااہل، ناکام، نامراد ہو چکی ہے اسے کشمیر پر مسلط کر دیا گیا جو کشمیر کا وہی حشر کرے گی جو اس نے پاکستان کا کررکھا ہے کہ آج پاکستان سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر بدحال اور بے حال ہو چکا ہے جس کا بال بال مقروض ہو چکا ہے جس کے ملازمین کو قرضوں سے تنخواہیں دی جارہی ہیں۔ ملکی خزانہ خالی پڑا ہوا ہے۔ اربوں، کھربوں کے کرپشن برپا ہیں۔ آزادیاں سلب ہو چکی ہیں۔ میڈیا پر پابندیاں عائد ہیں۔ ملک گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں ڈالا جارہا ہے۔ ملک پائی پائی کا محتاج ہو چکا ہے وہ کشمیر کو کیا دے گا۔ ماسوائے کہ کشمیر بنے گا پاکستان جو اب بن چکا ہے لہٰذا اہل کشمیر کو اپنی آزادی اور خودمختاری کی خاطر باہر نکلنا ہو گا جس طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ تین سالوں سے احتجاجوں، ہڑتالوں،جلسوں اور جلوسوں میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح آزاد کشمیر کے عوام کو بھی موجودہ پاکستانی حکمرانوں کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح قربانیاں دینا ہوں گی تاکہ کشمیر کے درمیان دیوار جدائی گرائی جا سکے جو دوہم نسل عوام کے درمیان چنی ہوئی ہے۔