یہ عدالتی پائلٹ !بی اے پاس کر کے یا جعلی ڈگری لیکر دو سال میں وکیل بن جاتے ہیں!!

196

ملک خداداد اس وقت دو طرفہ محاذ پر کھڑا ہے۔ اُسے بیرونی دشمن سے بھی نبرد آزما ہونا ہے اور اندرونی سانپ بچھوئوں سے بھی لڑنا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کمزور معیشت ہونے کی وجہ سے عوام جس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اُسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قومی خزانے کا ڈاکہ، ٹیکسوں کی چوری، ذخیرہ اندوزی ،چوربازاری، لوٹ مار ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
سب سے بڑا سانحہ چینی انجینئروں کی ہلاکت کا ہے جس کی وجہ سے داسو ڈیم پر کام التواء کا شکار ہو گیا ہے۔ چینی انجینئروں کی موت کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے بھی کراچی ایک فلائی اوور کی تعمیر کے وقت بھی چار چینی انجینئروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ دشمن ممالک اس گھات میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح چین سے پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہو جائیں اور سارے ترقیاتی منصوبے سی پیک وغیرہ اس کی زد میں آجائیں۔اس میں ملکی دشمن سانپ، بچھو دشمن ممالک سے ملکر بڑا فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ داسو ڈیم کی تعمیر میں جو ادارے کام کررہے تھے ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان ایجنڈوں کی حفاظت کا فول پروف انتظام کرتے کیونکہ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ یہ ایک مجرمانہ لاپروائی ہے جس کا سدباب کرنا مشکل ہو گا دیکھیں اب یہ منصوبہ کس طرح پایہ تکمیل تک پہنچے گا؟۔
کشمیر الیکشن کی مہم زوروں پر ہے۔ عوام کے پیسے کا زیاں بتاتے ہوئے عمران خان نے پھولن دیوی کے بیٹے جنید صفدر کے پولو گیم کا ذکر کر دیا تھا تاکہ عوام کو پتہ چل جائے کہ ان کے خزانے کی لوٹ مار سے سردار ڈاکو نے کس طرح اپنی اولاد درد اولاد کو عیاشیاں کروائی۔ پولو بادشاہوں، شہزادوں، توابین کا کھیل ہے۔ بہت مہنگائی شوق ہے۔ یہ بے غیرت چوٹّے لوٹے ہوئے مال سے کیا کیا عیاشیاں کررہے ہیں۔( ویسے نواز شریف ان سب گناہوں کا عذاب تمہیں اکیلے جہنم کا ایندھن بن کر جھیلنا ہو گا) عمران خان کے اس انکشاف پر پھولن دیوی ن لیگ کی نانی مصیبتاںکیسے خاموش رہتی فوراً عمران خان کے بیٹوں کو یہودی بنا دیا اور جمائما خان سے بھی ٹکر لے لی۔ پھولن دیوی کا ذہنی توازن خاصا بگڑ چکا ہے۔ جوش خطابت میں یہ بھی کہہ گئیں کہ انہیں ہر فوجی جوان کی صورت میں اپنا بیٹا جنید صفدر نظر آتا ہے۔ تو کتنے شہیدوں کے چہرے میں آپکوجنید صفدر نظر آیا؟ اور کتنے شہیدوں کی مائوں سے آپ جا کر ملیں۔ آپ نے تو بیچارے یتیم کیپٹن صفدر کی بھی وردی اتروا دی۔ بیٹے کو باپ کی جگہ کیوں نہ بھیجا۔ آپ اپنے بیانات پر ذرا غور کریں۔ ہم کہیں گے تو شکایات ہوگی۔ایک جگہ آپ نے فرمایا تھا ’’بندوق والے ڈرتے ہیں ایک نہتی لڑکی سے‘‘ آپ کی اور آپ کے والد صاحب کی فوج کے بارے زہر افشانیاں کہاں تک بیان کریں۔ فوج پاکستان کے سر کا تاج ہے۔ عوام فوج کو برا بھلا کہنے والوں کی زبان کاٹ کر ہاتھ میں دے دیں گے۔ اس زمین کو اپنے خون سے سینچنے والے قوم کے محافظ ’’خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں‘‘
ضمانت پر رہا یہ ملزمہ ہر جگہ چومکھی مارتی پھررہی ہے۔ اس پر کیا کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی؟ یہ کشمیریوں کے مسائل کیا حل کرے گی؟ پہلے لوٹ مار کا مال تو ٹھکانے لگالے۔ عوام کی اور بدعائیں تو لے لیں۔ تمہاری یہ عیاشیاں دیکھ کر عوام خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ کبھی تو ان کی خاموش صدائیں فلک کا سینہ چیر ڈالیں گی۔ کبھی تو تم لوگ انصاف کے کٹہرے میں جکڑے جائوگے۔ کشمیر کا ذکر گیا چولہے بھاڑ میں یہاں ایک دوسری جنگ شروع ہو گئی ہے کوئی بھی یہ غور کرنے کو تیار نہیں کہ کتنی جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ یہ ٹبر تو شرم و حیاکو بھی بیچ کر کھا گیا ہے۔ بے حیا، بے غیرت لوگ ہیں ان کی ہرزہ سرائی کا جواب صرف خاموشی ہے۔ دنیا انہیں جان چکی ہے لیکن دوسرے تو اپنا دامن آلودہ نہ کریں۔!
آصف زرداری نے اپنے بجر بھٹو کو امریکہ روانہ کر دیا تھا۔ وہ کشمیر کی مہم چھوڑ کر پتہ نہیں کس سلسلے میں وہاں گیا ، کس کے پائوں پکڑنے تھے۔ ’’میرے ان داتا مجھے وزیراعظم بنا دو،پھر جتنے چاہو ہم اڈے دینے کو تیار ہیں‘‘ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مین ہیٹن جو نیویارک کا سب سے مہنگا علاقہ ہے وہاں زرداری کا کوئی فلیٹ دریافت ہوا ہے اس کو چوری چوری فروخت کرنے میں خواجہ سرا کو بھیجا گیا تھا۔ اس کا چپڑاسی مراد علی شاہ وہاں پہلے ہی دھونی رمائے بیٹھا ہے۔ اب دیکھئے کیا عقدہ کھتا ہے۔!
ایک چینی اعلیٰ عہدیدار سے کسی نے سوال کیا کہ آپ نے اپنے ملک میں کرپشن کس طرح ختم کی؟عہدے دار نے جواب دیا، ہم نے تین سالوں میں تین سو وزراء کو پھانسی دی اور کرپشن ختم ہو گئی! اُس چینی نے بالکل صحیح کہا جب تک مجرمان کو پھانسی نہیں دی جائے گی جرائم ختم نہیں ہوں گے۔ ان کی طاقت کو ختم کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے پڑے گی، انہوں نے پیسے سے لوگوں کو خرید لیا ہے۔ ادارے بکائو مال بن گئے ہیں۔ جب پی آئی اے کے پائلٹوں کو جعلی ڈگریوں کی وجہ سے نکالا گیا تو لوگوں کا کہنا ہے کہ عدلیہ جو اس طرح کے بے ہنگم قسم کے فیصلے کررہی ہے تو اس میں بھی پائلٹ موجود ہیں ان کی بھی چھان بین ہونی چاہیے۔
ایک طالب علم بڑی محنت شاقہ کے بعد ڈاکٹر یا انجینئر کی ڈگری حاصل کرتا ہے اور یہ عدالتی پائلٹ تو ڈویژن میں بھی بی اے کر کے یا جعلی ڈگری لیکر دو سال میں وکیل بن جاتے ہیں۔ کالا کوٹ ،پتلون اور کالی ٹائی لگا کر عدالتوں میں مٹر گشت کرتے پھرتے ہیں کہ کوئی مصیبت کا مارا شکار مل جائے اور اگر کوئی معصوم ان کے پلے پڑ گیا تو کیس چلتا رہے گا تاریخیں پڑتی رہیں گی۔ نتیجہ کچھ برآمد نہ ہو گا۔ موکل بیچارہ قرض دار ہوتا رہے گا۔ ان کی فیس ہی پوری نہیں ہو گی۔ یہ امر اب ضروری ہوگیا ہے کہ ان کی جانچ پڑتال کی جائے ورنہ یہ سفارشی ججوں کی کرسیوں پر بھی براجمان ہو سکتے ہیں!!!