کیا پاکستان عورتوں کیلئے بھی ہے؟

97

دوتین برس کی بچی تھی وہ جب میں نے نور کو پہلی بار دیکھا تھا ،نومبر 1996 میں جب میں عراق میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے پہنچا تو نور کے والد، شوکت مقدم،، وہاں میرے فرسٹ سیکریٹری تھے۔ نہایت خلیق، خوش اخلاق اور جانفشانی سے اپنی ذمہ داریاں بجالانے والے شوکت مقدم میرے لئے ایک ماڈل مددگار اور معاون ثابت ہوئے۔ اپنے ڈھائی برس کے قیامِ بغداد میں میں نے شوکت کی صاحبزادی نور کو بڑے ہوتے دیکھا لیکن وہ چھوٹی سی لڑکی ہی تھی جب میں عراق سے رخصت ہوا۔ اس کے بعد شاید ایک آدھ بار میں نے بحرین میں شوکت کے گھر پر اس بچی کو دیکھا پیاری ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ماں باپ کی طرح ملنسار اور نفیس آداب والی تھی۔ اس کے بعد میں نے نور کو کبھی نہیں دیکھا اور اب یہ طے ہے کہ میں اسے زندگی میں کبھی نہیں دیکھ سکوں گا۔
میں ان دنوں سفر میں ہوں، دبئی میں اپنی نواسی کی شادی کی تقاریب میں شرکت کیلئے۔ نور میری نواسی کی ہم عمر ہی تھی لیکن اس جواں سال بچی کی زندگی کا چراغ ایک بیرحم اور شقی قاتل نے 20 جولائی کی شام کو اسلام آباد میں بجھا دیا۔ بیس جولائی دنیا بھر میں، ماسوا پاکستان کے، مسلمانوں کیلئے عید الاضحی کا دن تھا، وہ دن جب مسلمان اس قربانی کی یاد مناتے ہیں جس کا سلسلہ ابراہیم خلیل اللہ سے آغاز ہوا اور سید الشہدا، سیدنا حسین، شہیدِ کربلا کی عظیم اور لازوال قربانی پر اس کا اختتام ہوا۔ ایسے متبرک دن کو نورکے بچپن کے ایک ساتھی، ظاہر جعفر، نے جس درندگی کے ساتھ نور کو بلامبالغہ ذبح کیا اور اس کا سر تن سے جدا کیا وہ سلوک تو قربانی کرنے والے قربانی کے جانور کے ساتھ بھی نہیں کرتے بلکہ روایت کے مطابق قربانی کے جانور کو اس احتیاط سے ذبح کیا جاتا ہے کہ اس کو جانکنی کی صعوبت نہ اٹھانی پڑے۔
نور کے درندہ صفت قاتل نے اس کے ساتھ وہ لحاظ بھی نہیں کیا جو مسلمان قربانی کے جانور کے ساتھ کرتے ہیں۔ نور کے بیرحمانہ قتل کی تفصیلات بہت ہی دردناک اور رونگٹے کھڑے کردینے والی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس خونی واقعہ نے جس طرح دنیا کے کونے کونے میں آباد پاکستانیوں کو متاثر کیاہے اور ان کے دل دہلائے ہیں تو آپ نے بھی وہ سب تفصیل نیوز میڈیا میں اور سوشل میڈیا میں ضرور پڑھی اور سنی ہوگی۔ میرے پاس ویسے بھی وہ الفاظ نہیں ہیں جو اس درد و غم کو بیان کرسکیں جو میں اس واقعہ کی خبر سننے کے بعد سے اپنے دل میں محسوس کررہا ہوں۔
لیکن پاکستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں جسمیں ایک عورت کو بیدردی اور شقاوت کے ساتھ قتل کیا گیا ہے اور یہ بھی بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ یہ اس نوعیت کا آخری واقعہ نہیں ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے جاگیرداری معاشرہ میں عورت کو مرد کے مقابلہ میں کمتر درجہ کی مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ کھلی ہوئی منافقت ہے جس کا ذکر تو پاکستان میں بہت ہوتا ہے لیکن آج تک نہ صاحبانِ منصب و اقتدار کہ یہ توفیق ہوئی اور نہ ہی ہمارے ملک کی عدلیہ کو کہ وہ اس دعوی کے باوجود کہ پاکستان دین کے نام پر بننے والی ایک اسلامی ریاست ہے عورت کو وہ مقام دلواسکے جو اسلام نے اسے دیا ہے۔
مشکل یہ ہے کہ عوام کی مانند خواص بھی زیادہ تر اس طبقہء فکر سے تعلق رکھتے ہیں جن کی فکر پر جاگیرداری نظام کی چھاپ بہت زیادہ ہے اور اسلام کی تاریخ اور شعائر سے ان کی واقفیت بس واجبی سی ہے۔ دین اسلام کو اگر جانتے ہوتے تو پھر انہیں یہ یاد دلانے کی ضرورت نہ ہوتی کہ اسلام وہ دین ہے جس کا ظہور اس معاشرہ میں ہوا تھا جس میں بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتاتھا۔ لیکن اسلام نے کیا روایت قائم کی اور کس طرح سے عورت کے مقامِ حرمت کو دنیا میں بے نظیر بنایا وہ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ دین لانے والے رسول کی ذریت اور عترت ان کی بیٹی سے چلی اور آج تک سیدہ کی اولاد ہر اسلامی معاشرہ میں افضل و اعلیٰ تسلیم کی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر جائیداد میں حصہ دیا اور اسے باپ کی وراثت کا منصب اور حق دیا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے عورت کو مرد کے شانہ بشانہ زندگی کے ہر شعبہ میں برابر کا مقام اور حق دیا، وہ چاہے امن ہو یا جنگ کا میدان ہو عورت مرد سے پیچھے نہیں رہی اور یہ تو تاریخِ اسلامی کا ہر طالبعلم جانتا ہے کہ وہ واقعہ جس پر ابراہیم خلیل اللہ کی قربانی منتج ہوئی، یعنی سانحہء کربلا اس کی مبلغ اور مفسر سید الشہدا کی عظیم بہن سیدنا زینب ہیں۔
لیکن ہمارا مادر پدر ظالم جاگیردارانہ معاشرہ یہ سب تاریخ اور روایات بھول جاتا ہے جب اس میں عورت کے مقام کا سوال آتا ہے۔ وہاں دقیانوسی اور انسان دشمن جاگیردارانہ کلچر اسلامی تاریخ اور شعائر پر حاوی ہوجاتا ہے اور عورت کو اس کمتر مقام پر کھڑا کردیا جاتا ہے جہاں ہندوستان کے ہندو معاشرہ نے اسے آج تک رکھا ہوا۔ مقتولہ نور کے باپ، اور میرے دیرینہ رفیق شوکت مقدم نے نیوز میڈیا کے سامنے اپنے سینہ چاک کرتے ہوئے بہت اچھی بات کی، بہت پتے کی بات کی، کہ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ تحریکِ انصاف کی حکومت، جس کے نام اور منشور میں انصاف پر بہت زور ہے اور وزیر اعظم عمران خان اپنی ہر تقریر اور بیان میں کھینچ تان کے ریاستِ مدینہ کو ضرور لے آتے ہیں وہ کیسے بہیمانہ قتل اور درندگی کے اس مقدمے کی پیروی کرتی ہے اور انہیں انصاف دلواتی ہے؟
ورنہ روایت تو پاکستان میں یہی ہے کہ دولتمند اور اثر و رسوخ رکھنے والے بڑی آسانی سے انصاف کو خرید لیتے ہیں۔ یہ محض ہنسنے ہنسانے کی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پیسے والے خاندان اپنے بیٹے یا بھائی کو بچانے کیلئے وکیل کرنے کے بجائے جج کرلیتے ہیں، منصف کہ منہ مانگے دام دے کے خرید لیتے ہیں اور اسلامی جمہوریہء پاکستان میں انصاف کی مسند پربیٹھنے والے ایسے ایسے بے ضمیر لوگ پائے جاتے ہیں جو انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے انصاف بیچتے ہیں اور ان کے ماتھے پر ندامت کا پسینہ تک نہیں آتا۔
نور کا قاتل، ظاہر جعفر بھی پاکستان کے ایک بہت مالدار اور بااثر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ کراچی کے باسی اور قدیم شہری تو بطورِ خاص واقف ہیں احمد جعفر خاندان سے جن کے دفاتر کی شاندار عمارت گورنر ہاؤس کے سامنے ریکس سنیما سے متصل تھی اور آج بھی ہے۔ پاکستان کے ان مالدار خاندانوں کے سپوت کیسے ہوتے ہیں یہ ہم نے بہت دیکھے ہیں۔ انگریزی اسکولوں میں ان کی تعلیم ہوتی ہے اور بڑے خاندان والے تو اس پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے سپوت گرامر اسکول جیسے اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں جہاں ان کی ذہنی تربیت مشنری کرتے ہیں اور اس تربیت کا لبِ لباب ان بچوں کو اسلام سے جتنا زیادہ دور کردینا ممکن ہو کیا جائے۔ پھر ان لڑکوں کو مزید تعلیم کیلئے انگلستان اور امریکہ وغیرہ بھجوادیا جاتا ہے جہاں پیسے کی ریل پیل انہیں ان عیاشیوں کا عادی بنادیتی ہے جو مغربی تہذیب اور معاشرہ میں بھی لعنت سمجھی جاتی ہیں۔ جعفر خاندان کا یہ سپوت بھی انہیں نوجوانوں میں شامل ہے جس کے ماں باپ نے یہ سمجھا کہ اسے مشنریوں کی گود میں پلوا کر اور امریکہ کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم دلوا کر انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا اور ایک ماڈرن نوجوان پاکستانی معاشرہ میں منشیات اور ہتھیاروں کا کلچر پھیلانے اور عام کرنے کیلئے پیدا کردیا۔
بہر حال اب اس روح فرسا واقعہء قتل کے بعد صرف پولیس کا محکمہ اور پاکستان کا عدالتی نظام ہی انصاف کے کٹہرے میں نہیں کھڑا ہوا بلکہ عمران خان کی حکومت اور ان کا یہ بلند بانگ دعوی بھی !!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.