آزاد کشمیر میں عمران خان کی شاندار کامیابی، مقبوضہ کشمیر کے بہادروں صبحٔ آزادی بہت قریب ہے!

110

آزاد کشمیر میں انتخابی عمل پورا ہو گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے 45میں سے 25سیٹیں جیت لیں۔ ایک سیٹ کا الیکشن نتیجہ روک لیا گیا کیونکہ وہاں پر4پولنگ سٹیشنوں پر سامان دیر سے پہنچا یا ہنگاموں کی نذر ہو گیا۔ آخری گنتی تک وہاں پر تحریک انصاف ہی جیت رہی تھی۔ پی ٹی آئی سادہ اکثریت حاصل کر چکی ہے اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے یہ ن لیگ کے منہ پر طمانچہ ہے کہ نانی مریم صفدر نے جو زبان عورت ہو کر آزاد کشمیر کے جلسوں میں استعمال کی وہ اس کے منہ پر ہی آگری۔ عمران خان کو گالیاں دینی والی نانی مریم کو جس شکست کا سامنا کرنا پڑا وہ ساری زندگی اُس کو یاد رہے گا۔ ن لیگ جس کے پاس اکثریت تھی۔ راجہ فاروق حیدر اس کے وزیراعظم تھے۔ وہی ن لیگ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی بری طرح شکست کھا گئی اور تیسری پوزیشن پر آئی اس سے بہتر پیپلز پارٹی رہی جس کے 11ممبر منتخب ہو گئے۔ ن لیگ صرف 6سیٹیں جیت سکی۔ یہ ن لیگ اور مریم صفدر کی فرعونیت اور نواز شریف کی افغانستان کے سکیورٹی ایڈوائزار عبداللہ محب سے ملاقات کی وجہ ہے۔ نانی مریم کو یہ بات یاد رکھینی چاہیے کہ چاند پر تھوکا ہوا منہ پر آ کر ہی گرتا ہے صرف زور سے چیخ لینا ہی کافی نہیں ہوتا یا عمران خان کو گالیاں دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ عوام کی ذات کو بھی احترام دینا چاہیے۔ عمران خان بلاشبہ مقبول ترین لیڈر ہے اور عوام میں اس کی جڑیں ہیں وہ واحد لیڈر ہے جس کو عوام ایماندار لیڈر سمجھتے ہیں۔ وہ اس وقت کا مقبول ترین لیڈر ہے جس کا ثبوت آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حکومت ہوتے ہوئے بھی ن لیگ کو شکست فاش ہے۔ نانی مریم صفدر نے اپنی شکست کو دیکھتے ہوئے فوراً ٹوئٹ کر دیا ’’میں نے یہ کہانتائج تسلیم نہیں کئے اور نہ تسلیم کروں گی‘‘ محترمہ آپ کے نتائج نہ تسلیم کرنے سے کیا ہو گا۔ دنیا نے یہ نتائج تسلیم کئے پورے عالمی میڈیا نے یہ نتائج تسلیم کئے۔ پیپلز پارٹی نے یہ نتائمج تسلیم کئے آپ کے نہ تسلیم کرنے سے کیا فرق پڑے گا۔ دنیا بہت آگے چلی گئی ہے اب وہ دھونس اور دھاندلی والا دور ختم ہو گیا۔ حقیقت چھپانے سے بھی نہیں چھپ سکتی۔ اب خواتین اور دوسری نشستوں کا الیکشن باقی ہے۔ پی ٹی آئی کی سیٹ پوزیشن کو دیکھتے ہوئے مزید 4 خواتین کی سیٹیں اس کو مل جائیں گی۔ جس سے اس کی پوزیشن مزید بہتر ہو جائے گی۔ اب وزیراعظم آزاد کشمیر بننے کا مرحلہ ہے۔
اس وقت پی ٹی آئی کے پاس 3 اشخاص وزیر اعظم آزاد کشمیر بننے کے لئے موجود ہیں۔ ایک بیرسٹر سلطان محمود دوسرے سردار تنویر الیاس تیسرے خواجہ فاروق احمد، بیرسٹر سلطان محمود وزیراعظم آزاد کشمیر رہ چکے ہیں۔ ان کو کافی تجربہ ہے۔ دوسرے سردار تنویر الیاس عثمان بزدار کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔ کافی تجربہ کار ہیں تیسرے صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر خواجہ فاروق احمد ،پوری کشمیر کی الیکشن موومنٹ خواجہ فاروق کی مرہون منت تھی۔ اس میں اہم رول مراد سعید اور دوسرے وزیروں کا بھی تھا لیکن آرگنائز سب کچھ خواجہ فاروق نے کیا۔ اس کامیابی میں عمران کان کی شخصیت کے ساتھ ساتھ پوری ٹیم کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ یقینا پوری آزاد کشمیر کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے اور اس ٹیم کا سہرا عمران خان کے سر جاتا ہے جو اتنی بہتر ٹیم کو لیڈ کررہے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ ٹیم ایک قوت بن کر بھارت سے ٹکرائے گی اور بھارت کی ہٹ دھرمی کو پاش پاش کر دے گی۔
اے مقبوضہ کشمیر کے بہادر سپوتوں نوید ہو کہ اب صبح ٔآزادی بہت قریب ہے۔ ستر سال سے زیادہ کی ظلم کی داستان ختم ہونے والی ہے۔ 5اگست کی تاریخ سے جو آپ پر مزید ظلم ہورہا ہے وہ بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔ برہان وانی کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی۔ کشمیری قیادت پر ظلم رائیگاں نہیں جائے گا۔ یاسین ملک پر جیل میں ظلم رائیگاں نہیں جائے گا۔ آر ایس ایس کا سربراہ مودی جتنا چاہے ظلم کر لے وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا وہ بھارت کا گوربا چوف ثابت ہو گا۔ آزادی اس کے ہاتھ سے آپ کو ملے گی۔ بھارت اب ٹوٹنے کے قریب ہے۔ مبارک ہو کہ بیرونی طاقتیں اب آہستہ آہستہ آپ کی بہادری کو سلام کررہی ہیں دنیاآپ پر اب ظلم برداشت نہیں کرے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب ظالموں نے ظلم بڑھایا حریت پسندوں نے اپنے سینے اور کھول دئیے۔ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اب شاید بھارت کے مٹنے یا ٹوٹنے کا وقت آگیا ہے۔ بھارت کی ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہو چکا ہے چین نے اس کی گردن پر پیر رکھ دیا ہے۔ بھارت کی چکن نیک چین کے پیروں کے نیچے ہے۔ سات صوبے ایک جھٹک میں الگ ہو جائیں گے۔ تازہ ترین خبر ہے کہ ان سات صوبوں میں دو کی آپس میں جنگ شروع ہو چکی ہے۔ فاروق عبداللہ نے چین سے آزادی کیلئے مدد مانگی ہے۔ محبوبہ مفتی خاموش ہیں ۔میرواعظ خاموش ہیں۔ سید گیلانی قید ہیں لیکن پاکستان نہیں سورہا ہے۔ عمران خان آپ کا سفیر پوری دنیا میں آپ کا مقدمہ لڑرہا ہے۔ وہ دنیا کو بتا رہا ہے نہتے کشمیری قید ہیں۔ کشمیریوں کو گولی ماری جارہی ہے۔ عورتوں کو اغواء کیا جارہا ہے۔ بچوں کو گولیاں ماری جارہی ہیں۔ پیلٹ گن چلائی جارہی ہے۔ کشمیری آپ کی توجہ کے مستحق ہیں۔ بہادر کشمیریوں آپ نے جنگ آزادی خود ستر سے زیادہ عرصہ سے لڑرہے ہیں۔ ایک لاکھ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ مودی جتنا چاہے ظلم کر لے صبح ٔآزادی قریب ہے۔ ایک شاندار مستقبل آپ کا منتظر ہے۔ ایک شاندار ماحول آپ کا منتظر ہے ظلم اور بربریت سے ہٹ کر جشنِ آزادی عنقریب آپ کی منتظر ہو گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.