آزاد کشمیر الیکشن کے مضمرات!

133

آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی فتح کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں اسکی کامیابی کی طرح یہ جیت بھی بہت جلد قصۂ پارینہ بن جائیگی دو چار دن کی بات ہے مہنگائی‘ بیروز گاری اور حکومت کی کرپشن کے قصے پھر ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر چھاجائیں گے امریکہ کی انتخابی سیاست کا مشہور مقولہ ہے کہ Elections have consequences یعنی انتخابات کے نتائج ہوتے ہیں اس سے مراد صرف یہ نہیں کہ جیتنے والی جماعت حکومت بنا لیتی ہے بلکہ اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ انتخابات کے نتائج لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں وہ فاتح جماعت کی خوبیوں اور شکست خوردہ پارٹی کی ناکامیوں کی وجوہات تلاش کرنے لگتے ہیں یہ درست ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں لوگ اسلئے وفاق کی حکمران جماعت کو ووٹ دیتے ہیں کہ انکی ریاستوں کے ترقیاتی فنڈز اسلام آباد سے آتے ہیں ان علاقوں کے عوام کا وفاقی حکومت پر اس حد تک انحصار ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے حق رائے دہی کا آزادانہ استعمال نہیں کر سکتے وہ اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ دینے کی بجائے اپنی مجبوریوں اور محرومیوں کو مد نظر رکھ کر ووٹ دیتے ہیں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کب تک ایسا کرتے رہیں گے فی الحال انہوں نے پی ٹی آئی کو 45 میں سے 25سیٹیں دیکر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے صحت کارڈ اور بلا سود قرضوں کے پروگراموںپر یقین کر لیا ہے اب انہیں انتظار رہیگا کہ وزیر اعظم کب اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں
جہاں تک آزاد کشمیر کے الیکشن کے مضمرات کا تعلق ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان نون لیگ کو ہوا ہے اس جماعت نے 2016 کے انتخابات میں یہاں سے بتیس سیٹیں جیتی تھیں اب اسکے حصے میں صرف چھ سیٹیں آئی ہیں اسے وفاق میں بر سر اقتدار نہ ہونے کی رعایت دے بھی دی جائے تو یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ اسکے اثرات دور رس ہو سکتے ہیںآزاد کشمیر انتخابات کے ڈانڈے دو سال بعد ہونیوالے عام انتخابات سے ملانا دور کی کوڑی لانے والی بات ہے مگر نون لیگ پر اسکے اثرات ابھی سے مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں اس جماعت میں شہباز شریف اور مریم نواز کے متضاد بیانیوںکی کشمکش تو کافی عرصے سے جاری ہے مگر اب یہ نظر آنے لگا ہے کہ مریم نواز کی گھن گھرج والی سیاست ہجوم تو اکھٹا کر لیتی ہے مگر ووٹ حاصل نہیں کر سکتی مریم صاحبہ کی مجبوری یہ ہے کہ انہیں پی ٹی آئی کے شعلہ مزاج لیڈروں کے الزامات کے جواب دینا پڑتے ہیں وہ اگر مخالفین سے دو قدم آگے جا کر جوابی حملہ نہ کریں گی تو جلسے میں تالی بجے گی اور نہ ہی پارٹی کے وفادار ووٹروں کاخون گرم ہو گا وزیر اعظم عمران خان اگر یہ کہیں گے کہ نواز شریف عوام کی لوٹی ہوئی دولت سے اپنے نواسے کو لندن میں پولومیچ کھلا رہے ہیں تو پھر مریم نواز سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس الزام کا جواب نہیں دیں گی اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی جلسوں کی ٹرینڈ سیٹر ہے مسلم لیگ نون تو صرف اپنا رد عمل دیتی ہے تو کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ تکرار وتصادم اسوقت تک جاری رہیگا کہ جب تک حکمران جماعت تو تکار چھوڑ کر گورننس کی طرف توجہ نہیں دیتی اس دشنام طرازی سے آخر عوام کے ہاتھ کیا آتا ہے کیا وہ اپنے کام کاج چھوڑ کر صرف یہ بہتان بازی اور سوت نہ کپاس ہوا میں لٹھم لٹھا دیکھنے کیلئے آتے ہیں کچھ ایسے ضرور ہوتے ہوں گے مگر کسی بھی لیڈر کو اپنی رفعت ِتخیل کو لفظی بازی گری اور فقرہ بازی تک محدود نہیں کرنا چاہیئے تحریک انصاف کی انتخابی مہم اگر صرف علی امین گنڈا پور کی ہلڑ بازی تک محدود رہتی تو تحریک انصاف حکمران جماعت ہونے کے باوجود اتنی کامیابی حاصل نہ کر سکتی عمران خان اگر لوگوں کو اچھے مستقبل کے خواب نہ دکھاتے تو انکی جماعت کو اتنی سیٹیں نہ ملتیں لیکن انتخابی سیاست کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر جماعت کو اپنے ووٹروں کے علاوہ Swing voters یعنی کسی بھی طرف چلے جانیوالے ووٹروں کی ضروریات کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے مریم نواز کے پاس آزاد کشمیر کے عوام کو دینے کیلئے کچھ بھی نہ تھا وہ حکمران جماعت کو ترکی بہ ترکی جواب دینے تک محدود رہیں لگتا ہے کہ آزاد کشمیر کے لوگوںنے اس انداز سیاست کو مستردکر دیا ہے مگر بلاول بھٹو نے بھی تو صرف دشنام طرازی پر اکتفا کیا انکی جماعت کیوں گیارہ سیٹیں جیت گئی اسکے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے امیدوارہمیشہ سے اپنی سیٹیں جیتتے آئے تھے اسلئے انکے ہارنے کے امکانات کم تھے اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے ایک وسیع تناظر میں اسے اسکا فائدہ ضرور ہو گا اس الیکشن کے Spillover Effects یعنی ابلنے اور چھلکنے والے اثرات بھی ہوں گے بلاول بھٹو زیادہ خود اعتمادی کیساتھ آگے بڑھیں گے جبکہ مریم نواز کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی وہ اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والی سیاست پر کاربند رہیں تو 2023 کے انتخابات میں یہ اندازِ فکر نقصان دہ ثابت ہوگا
اس الیکشن کے بعد نون لیگ کو خاندانی سیاست کے تضادات کی نائو کو بھی کسی کنارے تک پہنچانا ہو گا شہباز شریف کو نظر انداز کر کے میاں صاحب تحریک انصاف کو شکست نہ دے سکیں گے پاکستان کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے آزاد کشمیر کے الیکشن نے طبل جنگ بجا دیا ہے عمران خان کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بہتر گورننس کی اہلیت رکھتے ہیں اور انکے پاس منہ زور وزیروں کی ٹیم سے بہتر افراد موجود ہیں دوسری طرف اپوزیشن کو بھی مستقبل کی منصوبہ بندی عوام کے سامنے رکھ کے ملک و قوم سے اپنی کمٹمنٹ کو ثابت کرنا ہو گا اب خالی پیلی دنگل سوت نہ کپاس ہوا میں لٹھم لٹھا والی سیاست نتائج نہ دے سکے گی !!

Leave A Reply

Your email address will not be published.