نور مقدم قتل!!!

117

نور مقدم قتل ہو گئی اس سے قبل قرۃ العین اور صائمہ کا بھی بہیمانہ قتل ہو گیا تھا، عجیب سا احساس ہے کہ اس درندگی کا تسلسل کیوں نظر آتا ہے، حکومت کہاں ہے، قانون کہاں ہے، حکومت کی رٹ ہے بھی یا نہیں، یہ سوال اہم ہے کہ ملک میں تواتر کے ساتھ کم سن بچیوں کا ریپ ہوتا رہا اور ان کو بے دردی سے قتل کیا جاتا رہا، سوسائٹی خاموش، این جی اوز خاموش، دانشورچپ میڈیا نے خبریں دیں مگر نہیں پوچھا گیا ارباب اختیار سے کہ ملک میں کم سن بچیوں کے ساتھ زناکاری اور پھول سی بچیوں کا قتل تواتر کے ساتھ کیوں ہورہا ہے، اور یہ بھی کہ اس سے کیا یہ تاثر دیاجارہا ہے کہ اسے ایک NORMکے طور پر قبول کر لینا چاہیے معاشرہ انحطاط کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، کیا یہ بات تشویشناک نہیں اور اگر ہے تو ایسا قیامت خیز سناٹا کیوں؟ کیا ہم اس دور میں داخل ہو گئے ہیں جہاں عورت خواہ وہ کسی عمر کی ہو ہوس کا شکار ہو گی اور مرد کو آزاد چھوڑ دیا جائیگا کہ بلاتمیز اپنی شیطانیت کو سرعام اچھالتا پھرے، مگر ہم ایک مہذب دور میں رہتے ہیں جہاں یہ مان لیا گیا ہے کہ انسان اپنی جبلت سے مجبور ہو کر اخلاقیات کی دھجیاں ضرور اڑائے گا، اس پر پند و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہونے والا، لہٰذا معاشرے کے امن کو بچانے کے لئے قانون بنایا گیا جو معاشرے کو جرم سے بچالے انسان کی جبلت کی ہوسناکی کو روک دیا جائے تاکہ تہذیب پھولے پھلے، تمدن سہانا ہو جائے اور انسان محفوظ رہ سکیں، قانون کے بلاامتیاز استعمال نے ایک طرف معاشرے کو پرامن بنانے کے لئے اہم کردار ادا کیا تو دوسری طرف مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کو بھی احساس ہونے لگا کہ وہ معاشرے یا فرد کو نقصان پہنچا کر سزا سے نہ بچ سکیں گے، ایسا بھی نہ تھا جرم کا ارتکاب کرنے والے کو مکمل طور پر قانون کے حوالے کر دیا گیا، نفسیات نے ان لوگوں کا بہت قریب سے مطالعہ کیا جرم کی وجوہات جانیں ان کے ماحول کو سٹڈی کیا اور جہاں ضروری ہوا ان کو نفسیاتی کونسلنگ فراہم کی گئی اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا بھی ہوا کہ نفسیاتی کونسلنگ اور نفسیاتی علاج سے مجرموں کا کایا پلٹ گئی اور وہ معاشرے کے مفید شہری بن گئے، یہ طریقہ مغرب میں کامیابی سے اپنایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکا، مذہب نے اخلاقیات کی تشہیر کی مگر تشہیر کرنے والے عمل کے معیار پر پورے نہ اتر سکے، حضرت علی کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو ایک واعظ کی باتوں کو بہت دھیان سے سن رہے تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ واعظ کیا کہہ رہا ہے لوگوں نے جواب دیا کہ یہ واعظ بہت پر اچھی اخلاقیات کی باتیں بتارہا ہے، حضرت علی نے فرمایا کہ واعظ کی باتوں پر نہ جائو یہ دیکھو کہ وہ لین دین میں کیسا ہے، غیر منقسم ہندوستان میں رہبانیت نے مذہب پر تسلط جما رکھا تھا، زیادہ تر صوفی بزرنگ خانقاہوں میں رہتے، ہندو سماج اور رسوم و رواج کے ان پر گہرے اثرات تھے وہ بھی ہندوئوں کی دیکھا دیکھی برہمچاری بننے کی نقل پر اتر آئے اور مجرد زندگی گزارنے کو ترجیح دی، جب بھی شہوانی خیالات ان پر طاری ہوتے تو وہ اپنے آپ کو سزا دیتے تھے اپنی پیٹھ پر کوڑے برساتے اور جو ایسا نہ کر سکتے وہ چھپا چوری اپنی شہوانی ضرورت پوری کر لیتے اور اس طرح اہل محراب میں جنسی بے راہ روی پھیل گئی اور اس کے بہت مہیب اثرات معاشرے پر مرتب ہوئے اور اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہندوستان کی مساجد کے امام اور موذن مساجد کے حجروں میں ہی مقیم رہے محلے سے کھانا آجاتا اور عید بقرہ عید پر ان کو محلے والوں سے کپڑوں کے جوڑے مل جاتے اور گزر اووقات ہو جاتی یہ طبقہ معاشرے سے کٹا ہوا رہا مجرد زندگی گزارنے کی وجہ سے مسجدوں اور مدرسوں میں اغلام بازی ہو گئی، یہ لوگ لفظی طور پر اخلاقیات کے مدرس رہے مگر یہ اخلاقیات کے معیار پر کبھی پورا نہ اترے، معاشرے سے دوری ان کی شخصیت کو گھن کی طرح کھا گئی اور ان کو خبر بھی نہ ہوئی اسی طبقے میں ریاکاری، مکر اور منافقت رچ بس گئی اور یہی وہ طبقہ تھا جو فیوڈلز کے ہاتھ سستے داموں بک گیا زمیندار کے کہنے پر انہوں نے غیر اسلامی فتوئوں کی بھرمار کر دی اور اسی صفت کی بنا پر عالمی طاقتوں نے ان کو سیاست کی راہ دکھائی اور ان کو مضبوط بنایا، اخلاقیات کی گراوٹ کی وجہ سے یہ معاشرے کے لئے عفریت بن گئے اور معاشرے کو گدھوں کی طرح نوچ نوچ کر کھانے لگے۔
تقسیم سے قبل کسی مسلمان کی سب سے بڑی تعریف یہ تھی کہ وہ پابند صوم الصلوۃ ہے کبھی کردار نہیں دیکھا گیا، جب اہل سیاست نے ان کو کاروبارِ سیاست میں حصے دار بنایا تو یہ عنصر اپنی اخلاقی گراوٹ لے کر ہی سیاست کا حصہ بنا، پاکستان کے فیوڈلز اور فوج نے اس عنصر کو اتنی طاقت دی کہ یہ نہ صرف ریاستی اداروں اور میڈیا کے لئے خطرہ بن گیا بلکہ دنیا کا امن بھی خطرے میں پڑ گیا، اسی طبقے کا نمائندہ عمران کی شکل میں پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے، عمران نے امریکہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ریپ اس لئے زیادہ ہے کہ عورتیں کم کپڑے پہنتی ہیں مرد روبوٹ نہیں وہ شہوانیت کو قابو نہیں کر سکتے اور ریپ ہوتے ہیں یہ کم نظر شخص بھول گیا کہ کردار بھی کوئی چیز ہے اور مذہب کی بنیاد اخلاقیات پر ہے انسان سے کردار اور اخلاقیات رخصت ہو جائیں تو وہ ایک وحشی درندہ ہے جو شہوانیت کو اپنا مذہب مانتا ہے، اس بیانئے نے پاکستان کی عورت کو بہت غیر محفوظ بنا دیا ہے معاشرے میں افغانی سوچ کے حامی برسرعام عورت کی آبروریزی اغلام بازی اور ان کے قتل کو جائز ماننے لگے ہیں، اس کے پیچھے ایک اور فکر بھی کارفرما ہے اور وہ یہ عورت کو معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے سے روکا جائے اور وہ گھروں میں بیٹھ جائیں، تواتر کے ساتھ عورتوں کا قتل ہونا یہی پیغام دے رہا ہے، عالمی سائنسی حقیقت یہی ہے کہ جب بھی عورت معاشرے میں متحرک کردار ادا کرے گی وہ معاشرہ تعلیم سے مزئین ہوگا اور ترقی آئے گی عالمی طاقتیں پاکستان کو دنیا میں ایک فعال کردار اداکرنے سے روکتی رہی ہیں پاکستان کو پچپن سال سے بفرزون بنا کر رکھا ہوا ہے اور موجودہ حکومت اسی ایجنڈے کو آگے بڑھارہی ہے، انسانی حقوق کی انجمنیں بھی زیر عتاب اور کوئی بھی موثرکردار ادا کرنے سے قاصر، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کا کمیشن بھی تاحال خاموش، یہ SITUATIONبہت ALARMINGہے اور لگتا ہے کہ اس اذیت ناک جرم کے پیچھے حکومتی UNDOCUMENTEDپالیسی ہو سکتی ہے، اگر ایسا ہی ہے تو نور مقدم، صائمہ اور قرۃ العین کا قتل ہوتا رہے گا، اور یہی بات مانی جائے گی کہ عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ان پر جس طرح چاہو جائو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.