ملالہ یوسفزئی کیوںاپنے ہی ملک میں مطعون ہے؟

101

افغانستان سے امریکی چلے گئے ہیں، لیکن انہوں نے جانے سے پہلے ایک فعال نظام حکومت نہیں چھوڑا۔ اس دوران میںطا لبان نے بہت سے علاقوں پر اپنے قبضہ کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ حکومت کے قبضے میں علاقہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت اور طالبان میںیہ فیصلہ ہوتا نظر نہیں آتا کہ کس کی حکومت بنے گی۔ اگر مخلوط حکومت ہو گی تو اس کا ڈھانچہ کیا ہو گا؟ کچھ مبصروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور طالبان میں مفاہمت نا ممکن ہے۔ جس سے ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے۔حکومت کے جو مطالبات ہیں ان میں کچھ باعث نزاع معاملات ہیں، ان میں سے ایک لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق ہے۔ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں نہیں۔ وہ اسے بے حیائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ عورتوں کی خود مختاری کا ہے جسے طالبان اسلامی قوانین کے تابع کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عورت کا صحیح مقام گھر کی چار دیواری ہے اور اگر وہ باہر نکلے تو مکمل پردہ میں۔ اور کسی مرد کی ہمراہی میں۔اس کے علاوہ اور بھی اختلافات ہیں، جو زیادہ تر مذہبی نوعیت کے ہیں۔ علاوہ طالبان قیدیوں کی رہائی کے۔
سوال یہ ہے کہ طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق جو رویہ اپنایا ہے وہ کونسی اسلامی تعلیمات سے اخذ کیا گیا ہے؟ کیا رسول اللہ کی احا دیث نہیں ہیں کہ علم کا حاصل کرنا مردوں اور عورتوں دونوں پر فرض ہے؟ اور یہ کہ علم حاصل کرنے کے لیے اگر چین بھی جانا پڑے تو جائو۔ اور ایک حدیث کے مطابق، جب کچھ جنگی قیدی پکڑے گئے تو اللہ کے نبی نے کہا اگر کوئی قیدی دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اس کو رہائی دے دیں گے۔ یہ تو احادیث ہیں۔ قران مجید میں کیا یہ دعا نہیں ہے، کہ یا اللہ میرے علم کو بڑھا! بلکہ سب سے پہلی آیت (۱:۹۶) تو یہی تھی کہ’’ ـپڑھ، اللہ کے نام سے جس نے ہر ایک چیز کو بنایا۔‘‘اس کے ساتھ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جس نے قلم کے ذریعے لکھنے پڑھنے کا علم سکھایا‘‘ (۴:۹۶)
لیکن اللہ بھلا کرے ہمارے مذہبی رہنمائوں کا کہ انہوں نے عوام کو نا خواندہ رکھا۔پاکستان میں بھی ، ہندوستان اور افغانستان میں بھی۔اگر ہم ان ممالک میں ناخواندگی کے اعداد و شمار دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ سن ۲۰۱۱ء میں افغانستان میں ۱۵ سال اور اس سے زیادہ عمر کے صرف 31.7 فیصد لوگ خواندہ تھے۔ پاکستان میں سن ۲۰۱۴ء میں اسی عمر کے ۵۷ فیصد لوگ خواندہ تھے۔جب کہ سعودی عرب میں 94.4 فیصد خواندہ تھے۔ مصر میں 71.2 فیصد۔ ٹرکی، انڈونیشیا میں ۹۵ فیصد سے زیادہ لوگ خواندہ تھے۔ان اعداد و شمار سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسلام خواندگی کے خلاف ہے بالکل غلط ہو گا کیونکہ سعودی عرب، انڈونیشیا اور ترکی مسلمان ملک ہیں۔یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو اسلام برصغیر میں لاگو کیا گیا وہ تعلیم کے خلاف تھا۔
اگر ہم ان خواندگی کے اعداد و شمار کو مردوں اورعورتوں کے تقابل میں دیکھیں ، تو معلوم ہو گا کہ پاکستان اور افغانستان میں عورتوں میں خواندگی کا تناسب نصف یا اس سے بھی کم ہو گا۔راقم نے ۱۹۹۸ء میں فروغ تعلیم صحت کی ایک عالمی کانفرنس میں جو سین وان، پورٹو ریکو میں منعقد ہوئی اس میں ایک مقالہ پیش کیا تھا جس بتایا تھا کہ جنوبی ایشیا کی مسلمان لڑکیوں میںتعلیم بڑھانے کے لیے کیا طریقے اختیار کیے جانے چاہییں۔ اس مقالہ میں راقم نے بتایا کہ ۱۹۹۵ء میں افغانستان میں ایک تخمینہ کے مطابق صرف ۱۵ فیصد لڑکیاں خواندہ تھیں۔بنگلہ دیش میں ۲۶ فیصد سے کچھ ہی زیادہ۔ پاکستان میں ۲۴ فیصد سے کچھ اوپر۔ یہ اعداد ایشیا کے دوسرے ممالک کے مقابلہ میں سب سے کم تھے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ انڈونیشیا جو کہ ایک مسلمانوں کا ملک ہے، وہاں ۷۸ فیصد عورتیں خواندہ تھیں۔ ایران میں ۶۶ فیصد۔ جب کہ فلپائین میں جو کہ عیسائی ملک ہے،عورتوں میں شرح خواندگی ۹۴ فیصد تھی۔
یہ جنوبی ایشیا میں کیا خاص وجوہات ہیں کہ مسلمانوں میں تعلیم کا رحجان اتنا کم ہے؟۔ اقوام متحدہ ہر سال، انسانی ترقی پرایک رپورٹ شائع کرتا ہے، جس کا آغاز، ایک پاکستانی دانشور ڈاکٹر محبوب الحق (مرحوم)، نے کیا تھا۔ اس رپورٹ میں دنیا کے تمام ملکوں سے اعداد و شمار اکٹھے کر کے تجزیہ پیش کیا جاتا ہے کہ اور جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ترقی کے میدان میں کس ملک نے کتنی کامیابی حاصل کی ہے۔اس میں جو پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں وہ تعلیم، صحت، عورتوں کے حقوق، سماجی اور اقتصادی ترقی وغیرہ سے متعلق ہوتے ہیں۔۱۹۹۷ء کی رپورٹ میں، جنوبی ایشیا میں انسانی ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے، کہا گیا کہ ’’ جنوبی ایشیا، بڑی تیزی سے غریب ترین، سب سے زیادہ نا خواندہ، سب سے زیادہ بھوک کا مارا ہوا، اور جنسی برابری سے بے خبر ، بلکہ کہنا چاہییے کہ دنیا کا سب سے پسماندہ خطہ ہے۔اور اس کے باوجود، یہ عوام کی تعلیم اور صحت کے شعبوں سے زیادہ فوجی تیاریوں پر وسائل لگاتا ہے۔مسٹر حق نے کہا کہ جب کہ جنوبی ایشیا میں دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ رہتا ہے، اس میں دنیا کی ناخواندہ آبادی کا نصف بھی ہے۔بالغوں میں خواندگی کی شرح سب صحرا افریقہ میںخواندگی کی شرح سے بھی کم ہو گئی ہے ۔ حق صاحب کے مطابق یہ خطہ دنیا کے باقی خطوں کے مقابلے میں انسانی ترقی کے میدان میں سب سے پیچھے رہ جائے گا۔‘‘ مندرجہ بالا رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے ۸۵ ملین بچوں نے کبھی سکول کی شکل نہیں دیکھی۔سکول جانے کی عمر کے صرف نصف بچے سکول میں داخل ہو پاتے ہیں۔اور ان میں سے بھی ۴۲ فیصد پانچویں جماعت سے پہلے ہی سکول چھوڑ جاتے ہیں۔اس کی غالباً دو بڑی وجوہات ہیں: اول یہ کہ غریب والدین لڑکوں کو کم عمری میں ہی کام پر لگا دیتے ہیں۔ اور لڑکیوں کو بھی تیسری چوتھی جماعت کے بعد گھر کے کام کاج کے لیے اٹھا لیا جاتا ہے جب وہ ۹، دس سال کی ہو رہی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکیاں چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال میں ہاتھ بٹاتی ہیں، یا ان کی شادی ہو جاتی ہے۔
آج ، تقریباً۲۰سال بعد بھی حالات کوئی اتنا زیادہ نہیں بدلے۔پاکستان میں ۱۷۔۲۰۱۶ کے اعداد و شمار کے مطابق ، 22.84 ملین بچے، جنہیں سکول میں داخل ہونا چاہیے تھا، وہ سکول سے باہر ہیں ۔جو ۵۶ لاکھ بچے پرائمری سکول سے بھی باہر ہیں ان میں سے بھی نصف کے قریب لڑکیاںہیں۔ ملک میں شرح خواندگی ۶۰ فیصد ہو گئی ہے۔ جو ۲۰۱۴ء میں ۵۴ فیصد تھی۔ ۲۰۱۷ء کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ اگر ۴۸ لاکھ لڑکیاں پرائمری سکول میں داخل ہوئیں، تو صرف پانچ لاکھ اعلیٰ ثانوی کلاس تک پہنچیں۔ ۹۰ فیصد بتدریج سکول چھوڑتی گئیں۔ افغانستان میں ۱۹۹۰ء میں بھی سکول میں چھ سے گیارہ سال کی لڑکیوں کی تعداد 15.5 فیصد تھی۔ اس کے مقابلے میں لڑکوں کی تعداد 33.6 فیصد تھی۔اس سے دو باتیں پتہ چلتی ہیں۔ اول یہ کہ افغانی سوسائیٹی شروع ہی سے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں نہیں تھی۔ اس لیے صرف طالبان کو مورد ازام ٹہرانا مناسب نہیں ہو گا۔ وہ تو پرانے دستور کو بر قرار رکھنا چاہتے ہیں اور نئے زمانے کی ضروریات کو مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس کے مقابلہ میں 37.3 فیصد لڑکیاں سکول جاتی تھیں۔ یہ تعدا دافغانستان سے زیادہ تھی لیکن کوئی قابل ذکر نہیں تھی۔پاکستان میں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق صرف بلوچستان میں لڑکیاں باقی صوبوں کے مقابلے میں بہت کم سکول میں داخل ہوتیں ہیں، ۴۳ فیصد۔ پنجاب میں سو فیصد اور کے پی کے میں ۹۴ فیصد۔یاد رہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کی گاڑی کے پہیے ہیں۔ آج کے دور میں جب انسانی کنبہ کی ضروریات اتنی بڑھ گئی ہیں، جب تک دونوں مالی بوجھ نہیں اٹھائیں گے گھر کا کام کیسے چلے گا؟تمام دنیا میں میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں اور ان کی آمدنی سے گھر چلتا ہے۔اور تعلیم ہونے سے آمدنی بھی زیادہ ہوتی ہے۔
جنوبی ایشیا میں، تعلیم کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سب سی بڑی وجہ حکومتوں کا سرکاری اخراجات میں تعلیم سے غیر ترجیحی سلوک ہے۔ وہ اس لیے کہ اول تو آبادی زیادہ تر غریب ہے اور ٹیکس نہیں دیتی۔ دوسرے آبادی تیز رفتاری سے بڑھتی ہے۔ جس کی وجہ سے حکومت ضرورت کے مطابق سکول نہیں بنا پاتی۔پاکستان میں کچھ خصوصی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں ۔ پاکستان ایک مردانہ برتری کا شکارملک ہے، اس میں عورتوں کا استحصال ایک سماجی روایت ہے۔علاوہ ازیں، زمیندارانہ اور جاگیردارانہ نظام جو ویسے ہی تعلیم کو اپنے مقاصد کے لیے ایک رکاوٹ سمجھتا ہے۔ اور یہی لوگ جب قانون ساز اسمبلیوں میں بیٹھتے ہیں تو سرکاری بجٹ کو تعلیم پر کم سے کم رقم دیتے ہیں۔ کسی حد تک مذہبی رہنما بھی انہی جاگیرداروں کا ساتھ دیتے ہیں، اور خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم پر قدغن لگاتے ہیں۔
اس کی مثال ملالہ یوسفزئی نے اپنی کتاب (سوانح حیات) میں لکھی ہے: ’’(اس کے محلہ کا مبینہ مفتی، غلام اللہ) اس عورت کے پاس گیا جو سکول کی عمارت کی مالکہ تھی، اور اسے کہا کہ ضیاالدین تمہاری عمارت میں ایک حرام سکول چلا رہا ہے،جو محلہ کے لیے باعث شرم ہے ۔ ان لڑکیوں کو گھروں میں پردہ میں ہونا چاہیے۔ ‘‘ اس نے مزید کہا: ’’ میں علماء، تبلیغی جماعت اور طالبان کا نمائندہ ہوں۔ میں اچھے مسلمانوں کا نمائندہ ہوں اور ہم تمہارے سکول کو حرام اور گستاخئی رسول سمجھتے ہیں۔تم اس سکول کو بند کر دو۔ لڑکیوں کو سکول نہیں جانا چاہیے۔ لڑکی ایک محرم ہے اس کو باپردہ ہونا چاہیے اور مکملاً با حیا۔ اتنا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی عورت کا نام بھی اپنی کتاب میں نہیں لکھا۔‘‘ (یہ درست نہیں۔ قران مجید میں مریم اور زلیخہ کا ذکر ہے۔ اور عورتوں کی تکریم کا ذکر ہے۔)۔ یہ ’مفتی‘ صاحب کی لگائی ہوئی آگ تھی جس کے نتیجہ میں بالآخر ملالہ پر قاتلانا حملہ ہوا۔اس لیے کہ ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم کی ضرورت پر باقاعدہ مہم چلا دی تھی۔
اسی ضمن میں عرض کرتا چلوں کہ ایک تازہ ترین اخباری رپورٹ میں ایک ہندوستان بھر کے جائزے کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق ہندو ،مسلمانوں سے بہتر حالت میں ہیں۔مرد عورتوں سے بہتر ہیں۔ اگرچہ عورتوں میں خواندگی کی شرح عموماً بڑھی ہے، مسلمان عورتوں میں خواندگی باقی گروہوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے، جو 64.3% ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان میں عورتوں کی خواندگی کی شرح اس سے بھی کم ہے۔بھارتی مسلمانوں کو بھی تعلیم سے پیچھے رکھ کر انکے علماء نے ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔
بر صغیر میں باقی ایشائی ممالک کے مقابلے میں تعلیم کو پس پشت کیوں رکھا گیا؟ مسلمانوں میں سر سید احمد خان نے جب تک مسلمانوں کو جنجھوڑا نہیں، وہ تعلیم سے دور ہی بھاگتے رہے، خصوصاً دور جدید کی تعلیم جس میں حساب، کیمسٹری، فزکس، بوٹنی، زوالوجی، کے ساتھ تاریخ ، جغرافیہ اور انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی۔ لیکن اسلامی مذہبی رہنما ئوںکا اصرار تھا کہ قران اور احادیث میں جس تعلیم کا ذکر کیا گیا ہے وہ دینی تعلیم ہے نہ کہ دنیاوی تعلیم۔۱۸۵۷ء کے بعد ، جب انگریزوں نے مسلمانوں کو غدر کا ذمہ وار ٹہرایا تو ان پر ظلم کی انتہا کر دی۔ سر سید نے اس موقع کو مسلمانوں کی حالت بہتر کرنے کا سوچا اور اس کا علاج تھا مغربی تعلیم۔ ہندو قائدین نے تو پہلے ہی انگریزی تعلیم پر کام شروع کر دیا تھا۔مسلمان علماء کی ایک جماعت نے سر سید پر کفر کے فتوے لگائے اور انگریزوں کا پٹھو کہا، لیکن سر سید جانتے تھے کہ اگر مسلمانوں نے دنیا میں ترقی کرنی ہے تو انہیں مغربی تعلیم حاصل کرنی ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں نے دنیاوی تعلیم کے خلاف اتنی کوتاہ اندیشی کا فیصلہ کیسے کیا؟ اور کیوں کیا؟ راقم اگر کچھ سمجھ سکا ہے تو وہ وجہ یہ ہے کہ مسلمان علماء نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ انگریزی تعلیم میں طلباء سائنس پڑھیں گے اور اس کے نتیجہ میں اسلام پر ان کا ایمان کمزور پڑ جائے گا۔ حالانکہ جب تک کوئی شخص سائنسی انداز فکر کو نہیں اپناتا، اس کو سائنس کچھ نہیں کہتی۔ اور مسلمانوں نے اگر سائنس پڑھی بھی تو سائنسی انداز فکر کو نہیں اپنایا۔اسی لیے بڑے بڑے سا ئنسدان مسلمان ہو کر بھی پکے مسلمان رہے۔کیونکہ انہوں نے کبھی سائنسی انداز فکر کو مذہب کو جانچنے کے لیے استعمال نہیں کیا۔پاکستان کی حکومتیں جب تک دنیاوی تعلیم کو ترجیحی ، بلکہ ہنگامی بنیادوں پر نہیں لیں گی، تعلیم کا مستقبل بہتر ہونے کی کوئی امید نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.