آزاد کشمیر میں نواز لیگ کی تاریخی ناکامی کے تابوت میں آخری کیل نواز شریف نے افغان مشیر حمداللہ سے مل کر گاڑ دی!

249

گلگت بلتستان کی طرح آزاد جموں کشمیر میں بھی پی ٹی آئی نے پنتالیس میں سے پچیس سیٹیں حاصل کر کے ایک تیسری بڑی پارٹی ہونے کی مہر ثبت کر دی۔ درحقیقت ہم اسے پی ٹی آئی کی کامیابی نہیں بلکہ عمران خان کی کامیابی کہیں گے کیونکہ زیادہ تر امیدوار جو کامیاب ہوئے وہ بالکل گمنام اور سیاست میں نووارد تھے لہٰذا کشمیریوں نے انہیں عمران خان کے نام پر ووٹ ڈالے۔ ویسے بھی الیکشن سے پہلے جو بین الاقوامی سروے آرہے تھے ان میں واضح طور پر عمران خان کی مقبولیت کو سرفہرست بتایا جارہا تھا اور الیکشن میں کامیابی کے لئے بھی پی ٹی آئی کو سرفہرست بتایا جارہا تھا جبکہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دوسرے اور تیسرے نمبر پر آرہی تھیں مگر آخر میں آکر لوگوں نے دوسرے نمبر پر نواز لیگ کے بجائے پیپلز پارٹی کو ترجیح دی کیونکہ سروے کے وقت تک میڈیا میں میاں نواز شریف کی افغانی مشیر حمداللہ کی میٹنگ کی تصویریں سامنے نہیں آئی تھیں۔ اب آپ کہیں گے کہ ایسی کیا بات ہے حمداللہ کے ساتھ میاں صاحب کی ملاقات کی تصاویر نے عوام کی سوچ کو یکسر تبدیل کر دیا تو آپ کو بتا دیں کہ قومی سلامتی کے افغان مشیر حمداللہ کا تعلق اشرف غنی کی حکومت کے ایک چاپلوس اہلکار کا سا ہے جو خواب دیکھ رہا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد وہ افغانستان کا صدر بن جائے گا۔ حمداللہ کا تعلق پاکستان آنے والے افغان مہاجرین کے کیمپوں میں پیدا ہونے والی نسل سے ہے۔ اس شخص نے پاکستان میں آنکھ کھولی، یہیں پلا بڑھا، تعلیم حاصل کی پھر افغانستان واپس گیا اور امریکی فوج کی چاپلوسی کر کے امریکہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے چلا گیا۔ امریکی حکام نے اُسے اپنے ایک افغانی مہرے کے طور پر آگے بڑھایا اور افغانستان میں اشرف غنی کو کہہ کہ ایک اہم عہدے پر تعینات کیا۔ حمداللہ ایک کٹر پاکستان مخالف انسان ہے جسے انڈیا سمیت تمام پاکستان مخالف قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔ گزشتہ دنوں اس شخص نے بین الاقوامی فورم پر اور افغانستان میں جلسوں میں خطاب کرتے ہوئے انتہائی گھٹیا اور رکیک بیانات دئیے جس کے بعد شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس میں انتہائی غصے کی حالت میں اعلان کیا کہ نہ صرف وزارت خارجہ بلکہ پاکستان کی حکومت کا کوئی بھی شخص اس حمداللہ نامی آدمی کے ساتھ نہ بات چیت کرے گا اور نہ ملاقات کرے گا۔ افغان حکومت آئندہ سے اس شخص کو پاکستان کے ساتھ بات چیت میں شامل نہ کرے۔ اس شخص نے کہا کہ ان الفاظ کا احاطہ کرتے ہوئے ہمیں بہت ذہنی اذیت اور کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن حقائق سے قاری کو آگاہ کرنا بھی ضروری ہے خاص طور پر جبکہ یہ نفرت انگیز اور گھٹیا جملے میڈیا میں نشر ہو چکے ہیں۔ لب لباب یہ ہے کہ اس شخص نے کہا کہ پاکستان ایک چکلہ ہے اور پنجابی ہیرا منڈی کی پیداوار ہیں۔ حمداللہ نے پاکستان پر افغانستان میں مداخلت کرنے، پراکسی وار کرنے اور افغان طالبان کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پشاور کے ہسپتالوں میں ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس کا نام دیکھیں اور کلام دیکھیں۔ اس شخص سے کوئی پوچھے کہ وہ خود بھی تو اسی ملک میں پیدا ہوا تھا جسے وہ چکلہ کہہ رہا ہے، اسکی ماں بھی اسے جننے کیلئے پشاور کے ہسپتال میں ہی گئی تھی جن پنجابیوں کو وہ ہیرامنڈی کی پیداوار کہہ رہا ہے وہ ان ہی کے شہر لاہور میں تعلیم حاصل کرتا رہا ہے تو کیا وہ بھی ہیرامنڈی کی پیداوار ہے؟ حضرت علی ؑ کا قول ہے کہ جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بھی ڈرو، پاکستان نے افغان شہریوں کو لاکھوں کی تعداد میں مسلم بھائی چارے کی بنیاد پر اپنے ملک میں پناہ دی، حمداللہ کے والدین بھی افغان پناہ گیروں میں شامل تھے اور وہ بھی پناہ گیروں کے کیمپوں کی پیداوار ہے اور آج اپنے آقائوں کے اشارے پر احسان فراموشی کرتے ہوئے جس دھرتی میں اس نے جنم لیا اس کو چکلہ کہہ رہا ہے؟ دیرآید درست آید،وزیرداخلہ شیخ رشید نے درست اعلان کیا ہے کہ تمام افغان پناہ گیر 14اگست تک افغانستان واپس چلے جائیں وگرنہ پھر ہم انہیں بھیج دیں گے زبردستی!!!!